Sunday, 8 January 2017

لاہور کی فعال ادبی شخصیت۔ خلیل فاروقی ؒ .....................صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

یوم اقبالؒ کے حوالے سے جناب خلیل فاروق صاحب نے الحمرا ادبی بیٹھک میں حال ہی میں ایک بہت ہی شاندار سیمینار کا انعقاد کیا اور مقررین میں جناب جسٹس نذیر غازی، جناب علامہ رضا الدین صدیقی جناب پروفیسر احمد رضا اور مجھ ناچیز اشرف عاصمی کو خصوصی دعوت دی۔پروگرام بہت ہی زیادہ طوالت پکڑ گیا لیکن خلیل فاروق صاحبؒ انتہائی فعال انداز میں اپنی وہیل چےئر پر بیٹھے پروگرام کی نگرانی کرتے رہے۔ اِس سیمینار میں میرے بیٹے حذیفہ نوشاہی نے نعت رسول ﷺ

  پڑھنے کی سعادت حاصل کی تھی

 .......................................................................................................................................................................

                                لاہور کی فعال ادبی شخصیت۔ خلیل فاروقی               

سوشل میڈیا کے ثمرات میں سے ایک بہت ہی اہم بات یہ ہے کہ معاشرے کی فعال شخصیات سے استفادہ ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔اور روز مرہ کی سرگرمیوں سے آگاہی رہتی ہے اور شخصیات کی معاشرے کے لیے سود مند ہونے کا بھی احساس دو چند ہوجاتا ہے۔ چند برس قبل مجھے سوشل میڈیا پر جناب خلیل فاروقی صاحبؒ سے رابطے کا موقع ملا۔ بعد ازاں جب یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ خلیل فاروقیؒ میری مادری فکری انجمن طلبہ ء اسلام سے پتوکی میں وابستہ رہے ہیں اور انجمن اساتذہ پاکستان سے بھی اِن کی گہری وابستگی ہے۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ انجمن طلبہ ء اسلام لاہور کے رہنماء جناب عامر اسماعیل اُن کے شاگرد خاص ہیں۔ یوں خلیل فاروقی صاحب سے دُعا سلام سوشل میڈیا اور ٹیلی فون کے ذریعہ سے ہوتی رہتی۔ جناب خلیل فاروقی صاحب نہایت ہی مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے۔ لاہور کی فعال ادبی تنظیم ادارۃ لاافکار کے بانی و چےئرمین تھے۔ اور باقاعدگی سے پاک ٹی ہاوس میں ماہانہ پروگرام کرتے ۔ جس میں لاہور اور دور دراز کے شعراء اکرام ادیب، کالم نویس شرکت فرماتے۔ اِن کے ساتھ ہمارے دیرینہ دوست ممتاز شاعر ادیب جناب اسلم سعیدی بھی تگ و تاز میں رہتے۔ باقاعدگی سے پروگرام کی اطلاع دیتے۔کچھ عرصہ قبل مجھے کہنے لگے کہ 9 نومبر یوم اقبالؒ کی چھٹی جو حکومت نے ختم کی ہے درحقیقت یہ فکرِ اقبال کو ختم کرنے کی گہناونی سازش ہے۔ اِس حوالے آپ قانونی جنگ لڑیں۔ یوں جناب فاروقی صاحبؒ کی جانب سے میں نے لاہور ہائی کورٹ میں اقبال ڈے کی چھٹی کے حوالے سے رٹ دائر کی ۔ جناب فاروقی صاحبؒ نے انتہائی خلوص اور محبت کے ساتھ اِس رٹ پٹیشن کی تیاری میں اپنا کردار ادا کیا۔یوم اقبالؒ کے حوالے سے جناب خلیل فاروق صاحب نے الحمرا ادبی بیٹھک میں حال ہی میں ایک بہت ہی شاندار سیمینار کا انعقاد کیا اور مقررین میں جناب جسٹس نذیر غازی، جناب علامہ رضا الدین صدیقی جناب پروفیسر احمد رضا اور مجھ ناچیز اشرف عاصمی کو خصوصی دعوت دی۔پروگرام بہت ہی زیادہ طوالت پکڑ گیا لیکن خلیل فاروق صاحبؒ انتہائی فعال انداز میں اپنی وہیل چےئر پر بیٹھے پروگرام کی نگرانی کرتے رہے۔ اِس سیمینار میں میرے بیٹے حذیفہ نوشاہی نے نعت رسول ﷺ پڑھنے کی سعادت حاصل کی تھی۔اِس طرح یہ سلسلہ محبت کا چلتا رہا۔ خلیل فاروقیؒ صاحب گردوں کے عارضے میں گذشتہ دس سے زائد سالوں سے مبتلا تھے ہفتے میں دو مرتبہ اِن کے ڈیلسیز ہوتے ۔ اور انتہائی صبر اور ہمت کے ساتھ اپنی اِس بیماری کا مقابلہ کرتے رہے۔ چند ماہ پہلے میو ہسپتال لاہور میں ڈیلسیسز کے لیے آے تھے تو معروف نوجوان شخصیت جناب ذیشان احمد راجپوت اور مجھے اُن کوملنے جانے کی سعادت ملی۔ عجیب آزاد مرد تھا۔ ڈیلسیز ہورہے ہیں اورفاروقی ؒ صاحب کسی سے لمبی بات چیت موبائل فون پر کررہے وہ بھی عشق رسول ﷺ کے حوالے سے ہے۔اتنی باہمت شخصیت میں نے زندگی بھر نہیں دیکھی۔ شعبہ تعلیم سے منسلک تھے۔ اُستاد تھے۔ اُن کا گھر جو گلبرگ میں واقع ہے وہ ایک صوفی منش فقیر کے ڈیرے کا منظر پیش کرتا تھا۔ مجھے یہ جان کر شدید حیرانگی ہوئی کہ فاروقی صاحبؒ کی فیملی اپنے آبائی گھر پتوکی میں رہتے ہیں اور فاروقی صاحبؒ اکیلے مقیم تھے لیکن وہ اکیلے کہاں تھے اُن کے شاگرد ہر وقت اُن کے ساتھ ہوتے۔ بلکہ اُن کے کئی شاگر وہیں اُن کے ہاں قیام کرتے۔ مجھے اور ذیشان راجپوت کو وہاں دو مرتبہ جانے کا موقعہ ملا انتہائی خوش ہوئے اور بڑی خاطر مدارت کی۔کتابوں کے ڈھیر کو اپنے سرہانے پہ رکھے جناب خلیل فاروقیؒ ہمہ وقت ہوشیار باش ہوتے۔جناب خلیل فاروقی کا اصل نام غلام احمد تھا اور اپنے قلمی نام خلیل فاروقیؒ سے پہچانے جاتے۔بیماری کے عالم میں ملازمت کے ساتھ ساتھ فعال ادبی پروگرام کا نعقاد فرماتے اور اپنی جیب سے سب کچھ خرچ کرتے۔بیماری کے باوجود پُر عزم رہنا بہت بڑی بات تھی کہ خلیل فاروقیؒ ہمہ وقت علمی ادبی نشستوں میں تشریف لے جاتے ۔ حال ہی میں کچھ ادبی شخصیات جو کہ حج کی سعادت حاسل کرکے آئی تھیں اُن کے اعزاز میں پاک ٹی ہاوس میں ایک خصوصی نشست کا جناب فاروقی صاحب نے اہتمام کیا تھا۔ پروفیسر حضرات نے جس دلنشین انداز میں خانہ کعبہ اور روضہ رسولﷺ میں حاضری کا حال بیان کیا تھا۔ محفل میں موجود ہر شخص کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کافی لمبی نشست چلی۔ رشک آرہا تھا کہ فاروقی صاحبؒ نے کتنے عظیم لوگوں کو ایک ساتھ مدعو کر رکھا ہے۔ اللہ پاک اپنی نیک بندوں کو حوصلہ و ہمت عطا فرما دیتا ہے۔ادب براے ادب کی بجائے ادب برائے عشق رسولﷺ کا عملی نمونہ جناب خلیل فاروقی ؒ تھے۔ جناب فاروقیؒ کو اللہ پاک نے جہاں بیماری کے امتحان میں ڈالا تھا وہیں اللہ پاک نے اُن کو انتہائی بلند حوصلہ بھی عطا فرمایا تھا۔اللہ پاک فاروقی صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماے (آمین)












Wednesday, 28 December 2016

گزرے سال کی خود احتسابی کی بیلنس شیٹ کی تیاری ضروری کیوں ؟ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

گزرے سال کی خود احتسابی کی بیلنس شیٹ کی تیاری ضروری کیوں ؟
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

زندگی کا پہیہ اپنے محور کے گرد اُسی طرح گھوم رہا ہے جیسے زندگی کے آغاز میں تھا۔ لیکن ذرائع اطلاعات و مواصلات نے زندگی کی ہیت بدل کر رکھ دی ہے۔ اطلاعات تک رسانی بہت تیز ہوئی ہے ۔ پاکستان میں بیٹھ کر لاکھوں میل دور کی خبر آنِ واحد میں پہنچ رہی ہے ۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی مصروفیت نے انسان کو اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے عہدا ء براء ہونے سے قاصر کررکھا ہے۔ لاکھوں میل دور کی خبر تو انسان کے پاس چند لمحات مین پہنچ جاتی ہے لیکن ساتھ والے کمرے میں بستر دراز بوڑھی ماں یا بوڑھے باپ کی خیریت اُسے معلوم نہیں ہو پاتی۔اِس المیہ کی وجہ سے انسانوں میں آپس میں محبت کا فقدان جنم لے رہا ہے۔ پاکستانی معاشرئے کی پہچان مشترکہ خاندانی نظام تھا۔ لیکن اِس نظام کو شدید گزند پہنچی ہے وہ یوں کہ نظام کے سربراہ کو اب گھر میں اپنے ساتھ رکھنے کی بجائے گھر کے کیسی کونے کھدرے میں رکھا جاتا ہے۔ گھر کا حاکم باپ، اولاد کے جوان ہوتے ہی خود یتیموں جیسی زندگی بسر کرتا ہے۔ ماضی میں جو اولاد اپنے ماں باپ کا احترام کرتی تھی وہاں اب حالت یوں ہے کہ بوڑھے ماں باپ اولاد کے جوان ہوتے ہی اُن سے ڈرنے لگتے ہیں۔ایک نیا عیسوی سال دستک دئے رہا ہے۔ ذرا گزر جانے والے سال کے حوالے اگر ہم سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک لیں تو شاید خود احتسابی کی کوئی روشن روایت پنپ سکے۔اگر ہم ملازمت پیشہ ہیں یا اپنا کاروبار کرتے ہیں یا ہم خدمات مہیا کرتے ہیں تو ہمیں اکیلے میں بیٹھ کر خود سے سوال کرنا چاہیے کہ پورئے سال میں ہم نے رزق کمانے کے لیے جو فرائض تھے اُن کی ادائیگی درست طور پر کئی یا نہیں۔ کیا جو لقمے ہماری اولاد نے کھائے وہ لقمے حلال کے زمرئے میں آتے ہیں یا نہیں۔ ذرا ذہن پر زور ڈال کر ہم سو چیں کیا ہم نے اپنے بچوں کے لیے رزق کماتے ہوئے کسی اور کے بچوں کی روزی تو نہیں چھینی۔ کیا ہم نے جھوٹ اور لوٹ کھسوٹ کا سہارا لے کر مال تو نہیں کمایا۔ یہ جو ہم خود احتسابی کر رہے ہیں اِس میں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ ہم نے یہ نہیں کہنا کہ سب ہی تو کر رہے ہیں۔ ہم تو اپنا حساب کتاب کر رہے ہیں۔ ہم نے تو اپنے ضمیر سے پو چھنا ہے کہ سال کے365 دنوں میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا یا نہیں۔آئیے خود کلامی کرتے ہیں اور خود سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اپنے دوست احباب کے ساتھ پورا سال رابطے میں رہے کیا ہم نے اپنے سے مالی طور پر کم دوست رشتے داروں کی دلجوئی کرنے کی کوئی سعی کی۔ایک اور بات کہ کیا ہم نے سچ کو اپنا شعار بنایا۔ کیا ہم خود کو مطمن کرنے کے لیے منافقت کا شکار تو نہیں ہو گئے۔ کیا ہم نے اپنے والدین کا خیال رکھا اُن کے کھانے پینے دوائی وغیرہ اُن کی ضرورتوں کو اپنی ضرورتوں پر تر جیح دی کیا ایسا تو نہیں ہوا کہ والدین کو عام اور خود اور اپنی اولاد کو خاص کھلایا اور خاص پہنایا۔ صاحبو ایک اور بات کا بھی کیا دھیان رکھا کہ جس دین کا نام ہم ہر وقت لیتے ہیں اور خود کو معصوم سمجھتے ہیں اُس دین پر عمل کرنے کی بھی کوشش کی۔ جس نبیﷺ کے عشق کا دعویٰ کرتے ہیں اُن کے حیات طیبہ پر چلنے کی سعی کی۔ ایک نقطہ اور کہ گزرئے ہوئے سال میں کتنے دوست رشتے دار ایسے ہیں جو ہم سے خفا ہوئے اور ہم نے اُن کو منایا۔چلیے ایک نظر اِس طرف بھی کہ کیا ہم نے اپنے بیوی بچوں کی جائز ضروریات کا خیال رکھا۔ ہم نے اپنی آنکھوں کی پاکیزگی اپنی روح کی پاکیزگی کا کتنا خیال رکھا۔ کیا ہم ایک دوسرئے کی چغلی میں تو نہیں لگے رہے اور دوسروں کو خود سے کم تر جانتے رہے۔اِس سوالات کے لیے کوئی زیادہ وقت درکار نہیں ہے۔ بس چند منٹ ہی تو درکار ہیں۔ہمیں غور کرنا ہوگا کہ کیا ہم باعمل مسلمان ہیں اور ہم دکھاوئے کے لیے اچھا بنتے ہیں یا ایسا کوئی وصف ہے کہ لوگ ہماری عدم موجودگی میں بھی ہمارئے لیے نیک خواہشات رکھتے ہوں۔ ہماری اخلاقیات کیسی ہے۔ہمیں خود احتسابی کرلینی چاہیے ایسا نہ ہو کہ اِس کام کے لیے مقرر فرشتوں کی جانب سے ہی حساب کتاب کرنے کا وقت آپہنچے۔بس ہمیں اپنے فرائض ادا کرنے ہیں۔اگر ہمارئے پاس کسی کی امانت ہے تو ہمیں اُس کی حفاظت کی بابت بھی سوچنا ہے کہ ہم نے اُس شے کی حفاظت کیسے کی ہے۔وہ لوگ جو ہم سے کینہ رکھتے ہیں اُن کے دلوں کو نرم کرنے کے لیے کیا کوئی قدم ہمارئے طرف سے اُٹھا ہے یا نہیں۔ کیا ہم نے اپنی اولاد کو نماز، روزئے اور اخلاقیات کی ترغیب دینے کے لیے وقت نکالا ہے۔ہم نے ا? پاک کے فرمان کے ہر کسی سے اُس کی رعیت کے متعلق سوال پوچھا جائے گا کہ حوالے سے اپنے آپ سے پوچھنا ہے۔اپنے محلے میں اپنے ہمسایوں کے ساتھ برتاؤ کیسا رہا۔آخری بات کہ ہم نے اپنی روحانی بالیدگی کے لیے خود کے لیے کتنا وقت نکالا ہے۔

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: باصلاحیت، ہونہار نوجوان۔ صاحبزادہ حذیفہ نوشاہی سے ...

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: باصلاحیت، ہونہار نوجوان۔ صاحبزادہ حذیفہ نوشاہی سے ...: باصلاحیت، ہونہار نوجوان۔ صاحبزادہ حذیفہ نوشاہی سے ملاقات ترتیب :جاوید مصطفائی صاحبزادہ حذیفہ نوشاہی کا تعلق لاہور کے ایک علمی ورو...

باصلاحیت، ہونہار نوجوان۔ صاحبزادہ حذیفہ نوشاہی سے ملاقات ترتیب :جاوید مصطفائی

باصلاحیت، ہونہار نوجوان۔ صاحبزادہ حذیفہ نوشاہی سے ملاقات

ترتیب :جاوید مصطفائی

صاحبزادہ حذیفہ نوشاہی کا تعلق لاہور کے ایک علمی وروحانی حاندان سے ہے حذیفہ نوشاہی 4 اکتوبر1999کو لاہور میں پیدا ہوئے۔حذیفہ نوشاہی کے والد ممتاز قانون دان میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہیں۔حذیفہ نوشاہی سالِ دوم کامرس گروپ کے طالبِ علم ہیں۔اور مستقبل میں حضرت قائدِاعظمؒ اور حضرت اقبالؒ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں اور سول سروس میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔حذیفہ نوشاہی نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے ممبر ہیں او رحال ہی میں ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نامزد ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ انٹرنیشنل کالمسٹ ایسوسی ایشن ساؤتھ ایشیا ریجن کے کوارڈینیٹرہیں۔۔نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں ہونے والی تقریبات میں بہترین کمپیرنگ پر مجید نظامی صاحبؒ اور وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے چار مرتبہ ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔اس کے علاوہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیرِاہتمام نظریاتی سمر سکول کیمپ میں مسلسل چار مرتبہ شامل ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔اور 2014میں منعقدہ اختتامی پروگرام کی کمپیرنگ کا اعزاز بھی حاصل کیا۔حضرت اقبالؒ کی شاعری سے عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں۔لاہور پریس کلب، لاہورہائی کورٹ،نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں ہونے والی مختلف تقریبات میں خطاب اور نعتِ رسولِ مقبولﷺپڑھنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ کراٹے، پینٹنگ، اورکرکٹ میں دلچسپی رکھتے ہے۔ مختلف اخبارات میں تحریر کردہ مختلف سماجی موضوعات پر ان کے کئی مضامین چھپ چکے ہیں۔ حذیفہ نوشاہی اردو بلاگ بھی لکھتے ہیں۔بچوں کے ویب میگزین مصطفائی چلڈرن میگزین کے چیف ایڈیٹر ہیں۔اللہ پاک جو کہ سارے جہانوں کا خالق ومالک ہے۔اس نے یہ کائنات بغیر کسی مقصد کے پیدا نہیں کی۔بلکہ اس کائنات کو پیدا کرنے کا سبب ایک ایسی ہستی ہیں جس ہستی کو اللہ پاک اپنا محبوب گردانتا ہے۔گویا کہ اس کائنات کا وجود اللہ پاک کے محبوب نبیﷺ کی بدولت ہے۔حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺاگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو زمین و آسمان پیدا نہ کرتا حتٰی کہ اپنے رب ہونے کا اظہار بھی نہ کرتا۔اس حدیثِ قدسی کے مطابق کائنات کی ہر چیز کا وجود اللہ پاک نے نبی پاکﷺکی وجہ سے پیدا کیا ہے۔اسی طرح اللہ پاک نے نبی پاک ﷺکو اُس وقت نبوت سے سرفراز فرما دیا جب آدم کا وجود ابھی تخلیق نہ ہوا تھا۔ اللہ پاک اور اُسکے فرشتے نبی پاکﷺ پر درودو سلام بھیجتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی نبی پاک ﷺپر درود بھیجنے کا اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ رسول پاک ﷺکی محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔رسول پاکﷺکی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے ۔نعت سے مراد نبی پاک ﷺکی تعریف و توصیف ہے۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے جس ہستی نے رسول پاک ﷺکی تعریف و توصیف کی ہے وہ ہستی خود اللہ پاک ہی ہے تمام انبیا کرام نبی پاک ﷺکی نبوت کی بشارت دیتے آئے ہیں۔اور اُنکی شان بیان کرتے بھی آئے ہیں۔اس لیے صحابہ اکرامؓؓ ،اولیا اکرام حتٰی کہ غیر مسلم نے بھی رسول پاک ﷺکی نعت بیان کی ہے۔ جب ہم نے حذیفہ نوشاہی سے نعت رسولﷺ پڑھنے کی طرف رغبت کی بابت سوال کیا تو اُن کا کہنا تھا گھر کا ماحول چونکہ مذہبی ہے اور بچپن سے ہی مجھے ہمیشہ نبی پاکْ ﷺکا درس میرے والدین کی طرف سے ملا۔اسی طرح سرگودھا میں عظیم صوفی بزرگ حضرتِ میاں محمد عنایت قادری نوشاہیؒ جو کہ میرے نانا ابو تھے۔اُنکے فیضانِ نظر سے بھی نعت خوانی کے شوق کی طرف مائل ہوا۔حذیفہ نوشاہی نعت پڑھنے کی باقاعدہ تربیت معروف نعت خواں جناب حافظ سہیل نذر سے لے رہے ہیں۔اور قرات کے لیے جناب قاری ثاقب قادری اُن کے اُستاد ہیں۔جب حذیفہ نوشاہی سے پوچھا گیا کہ آپ کو نعت پڑھنے کے دوران کیسی کیفیت محسوس ہوتی ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ نبی پاک ﷺ اِس کائنات کی جان ہیں اُن کا ذکر دل کو سرور بخشتا ہے اور میری زندگی کا حاصل وہی لمحات ہوتے ہیں جب میں شان رسالت ﷺ میں نعت پیش کر رہا ہوتا ہوں۔ اُن سے اگلا سوال یہ تھا کہ آپ کی فیملی میں پہلے بھی باقاعدہ نعت خوانی کی طرف کسی نے اِس انداز میں محنت کی ہے تو حذیفہ نوشاہی کا کہنا تھا کہ میرئے چچا جناب صاحبزادہ میاں محمد اکرم جو کہ آجکل سعودی عرب میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بطور سیفٹی انجینئر خدمات انجام دئے رہے ہیں وہ بھی بہت اچھی نعت پڑھ لیتے ہیں اور بچپن میں اُن سے نعت سُن کر مجھے بھی اِس جانب آنے کا شوق ہوا۔ اِس لے علاوہ میرے چچا صاحبزادہ میاں محمد اعظم جو کہ کنگ ایدورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری میں جاب کر رہے ہیں وہ بھی بہت اچھی نعت پڑھتے ہیں۔ جب حذیفہ نوشاہی سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کو کس کا کلام پڑھنا زیادہ پسند ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ نعت رسولﷺ لکھنا بہت مقدس کام ہے اِس لیے جو کلام بھی مجھ سے پڑھا جا سکے وہ میں پڑھتا ہوں ۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت حضرت احمد رضا خانؒ ایک عظیم عاشق رسولﷺ تھے اُن کی لکھی ہوئی نعتیں بہت شوق سے تیار کی ہیں۔ اِسی طرح احمد ندیم قاسمیؒ کا کلام پڑھنے کا شرف بھی حاصل ہوا ہے۔نعت پڑھنا اور اِس کے ساتھ آپ قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اِس کے علاوہ اور کیا مشاغل ہیں اِس سوال کے جواب میں صاحبزادہ حذیفہ نوشاہی کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کے لیے کہانیاں لکھتے ہیں اِس کے ساتھ ساتھ کالم نگاری کا بھی شوق ہے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں ہونے والے تقریریے مقابلہ جات میں بھی حصہ لیتا رہا ہوں۔ نظریہ پاکستا ن ٹر سٹ میں لگا تار چار سال تک مجھے بہترین طالب علم کی شیلڈ سے نواز گیا۔آپ پاکستان کے مسائل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اِس سوال کے جواب میں صاحبزادہ حذیفہ نوشاہی نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم اسلامی مملکت ہے اور یہ ملک ستائیسویں رمضان کی شب کو معرض وجود م میںآیا یہ تا قیامت قائم رہے گا انشا اللہ۔ مسائل بہت ہیں کرپشن اقربا پروری نے ہمارے معاشرے کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ میرٹ کی بالا دستی نہیں ۔دہشت گردی کی وجہ سے بھی پاکستان کا بہت نقصان ہوا ہے۔ اللہ پاک ہمیں دیانتدار حکمران عطا فرمائے۔اگلا سوال جو حذیفہ نوشاہی سے تھا وہ یہ کہ نبی پاکﷺ رحمت عالم ہیں آپ اِس حوالے سے ہمارے دلوں کو گرمائیں۔حذیفہ نوشاہی گویا ہوئے ہزاروں سالوں پہ محیط یہ دُنیا نشیب وفراز سے گزرتی رہی ہے۔ حضرتِ آدم ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰؑ تک کے برگزیدہ انبیاء اور رُسلؑ پوری کائنات میں رب کی واحد ربوبیت کے پرچار میں اپنی حیات صرف کرتے رہے۔ دوسرئے انبیاء بے شک اللہ پاک کی طرف سے مبعوث ہوئے اور اپنے اپنے دائرہ کار، علاقے میں اپنے فرض کی ادا ئیگی کرتے رہے۔ ایسا بھی ہوتا رہا کہ ایک ہی وقت میں کئی نبی معبوث کیے گئے۔لیکن جب تاجدار ختم نبوت نبی پاک ﷺ مبعوث ہوئے تو اُس وقت کائنات کے ایک ایک ذرئے کے لیے آپ ﷺ کی رسالت رحمت بنی۔ رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفےﷺ کی نبوت کا دائرہ کار تمام زمینوں اور تمام آسمانوں اور ایک ایک انسان، چرند پرند،حتی کے درختوں پر الغرض جس طرح اللہ پاک بغیر کسی دوسرئے کے شریک کے رب ہے اِسی طرح نبی پاکﷺ کو جس وقت مبعوث کیا گیا اُس وقت صرف اور صرف آپ ہی اللہ پاک کے نبی اور رسولﷺ ٹھرئے۔اور نبی پاک ﷺ کا رحمتِ دوعالم ہونا اور قیامت تک آپﷺ کا ہی نبی ورسولﷺ قرار پانا درحقیقت عظمت مصطفے ﷺ کی دلیل ہے کہ جس طرح ہمارا رب یکتا ہے اِسی طرح جس نبی پاکﷺ کی غلامی کا دعویٰ مسلمان کرتے ہیں وہ بھی اپنے تمام تر کمال میں بالکل یکتا اور بے مثال ہے۔نبی پاک ﷺ کی رحمتیں سارئے جہانوں پر ہیں اور نبی پاکﷺ کو اللہ پاک نے قاسم کے رُتبے پر سرفراز فرمایا ہے کہ نبی پاکﷺ اللہ پاک سے لے کر تقسیم فرماتے ہیں۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ ایک رب ایک نبیﷺ ایک قران کی بنیادوں پر کھڑا ہے اور نبی پاکﷺ نے ہمیشہ اپنے پرائے سب کے لیے دُعا فرمائی۔جس سال نبی پاک ﷺ کو بہت ہی عظیم صدمات سے گزرنا پڑا یعنی آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرتِ خدیجہؓ کا وصال اور آپ ﷺ کے شفیق چچا جنابِ ابوطالبؓ کا وصال ہوا۔ اِس دور میں جب کہ آپ پر غم کے پہاڑ گر پڑئے۔آپ ﷺ وادی طائف میں تبلیغ کے لیے تشریف لے جاتے ہیں تو مشرکین آپ پر سنگ باری کرتے ہیں آپ ﷺ لہو لہان ہو جاتے ہے حتی کہ آپ کے نعلین مبارک میں خون بھر جاتا ہے۔اللہ پاک فوراً جبریل امینؓ کو بھیجتے ہیں اور وہ آکر کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ فرمائیں تو پوری طائف کی وادی کو نیست و نابود کردیتے ہیں لیکن آقاکریمﷺ فرماتے ہیں کہ نہیں میں تو رحمتِ عالم ہوں اِن لوگوں کو نہیں پتہ کہ میں اُن کا کتنا خیر خوا ہ ہوں۔ حذیفہ نوشاہی کی گفتگو نے ایمان تازہ کر دیا تھا۔ موجودہ دور میں نعت خوانی جس طرح ہورہی ہے اُس حوالے کیا رائے ہے۔ حذیفہ کہنے لگے کہ گانوں کے انداز میں نعت پڑھنا اور محفلوں کے تقدس کا خیال نہ رکھنا بہت افسوس ناک امر ہے۔دوسرا اِس میں بہت زیادہ کمرشل ازم آگیا ہے ۔ اِس وجہ سے بھی نعت رسولﷺ کے مشن کی روح کو گذند پہنچ رہی ہے۔حذیفہ نوشاہی نے عشق رسول ﷺ کی کیفیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عشق رسولﷺ ایک ایسا عظیم رسرمایہ ہے کہ مومن کی یہ خوش بختی ہے کہ اللہ پاک نے ذکر مصطفیٰ کریم ﷺ کو مومنین کے لے توشہِ آخرت بنا دیا ہے۔ انسانی عقل و شعور اِس بات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی کہ نبی پاکﷺ کی عظمت و رفعت کا احاطہ کرسکے۔ اِس لیے جب بھی مجھے نعت پڑھنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ رب پاک کا بے پایاں کرم ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو اپنے محبوب ﷺکی مدحت کے لیے منتخب کر لیتا ہے۔ جب حذیفہ نوشاہی سے۔یہ سوال کیا گیا کہ آپ جب نعت پڑھ رہے ہوتے ہیں تو اُس وقت آپ کی روح کو کیسا محسوس ہوتا ہے اِس سوال کا جواب دیتے ہوئی حذیفہ نوشاہی کی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑئے۔ حذیفہ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کہ میں حضرت بلالؓ، حضرت اویس کرنیؓ اور حضرت حسان بن ثابتؓ کے دور میں موجود ہوں اُن کی راہ پر چل رہا ہوں۔ حذیفہ نوشاہی نے بتایا کہ وہ اپنے کالج کے میگزین کے ایڈیٹر ہیں اور اِس حوالے سے اُن کو بہت ہی اچھا تجربہ ملا ہے۔حذیفہ نوشاہی عشق رسولﷺ کی سُرخیل تنظیم انجمن طلبہ ء اسلام سے بھی وابستہ ہیں۔

Sunday, 27 November 2016

فیدل کاسترو۔ایک انقلابی لیڈر.................... صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ


فیدل کاسترو۔ایک انقلابی لیڈر

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

کیوبا میں سابق صدر فیدل کاسترو کے انتقال کے بعد نو روزہ سوگ کا آغاز ہو گیا ہے جس کے دوران ان کی باقیات کو ان راستوں پر لے جایا جائے گا جن پر سے گزر کر ان کے ساتھیوں نے بتیستا کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں غم کا سماں ہے جبکہ میامی میں وہ کیوبن افراد جو وہاں مقیم ہیں جشن منا رہے ہیں۔ کیوبا کے انقلابی رہنما اور سابق صدر جمعہ کی رات 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔عالمی سربراہان اور اہم شخصیات کی جانب سے فیدل کاسترو کے انتقال پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ وہ کیوبا کے سابق صدر فیدل کاسترو کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے تھے جبکہ چین اور روس کے صدور نے کہا ہے کہ ان کے ممالک نے ایک اچھا دوست کھو دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ فیدل کاسترو کو کیوبا میں تعلیم، ادب اور صحت جیسے شعبوں میں بہتری لانے کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان کے علاوہ پاپ فرانسس جنھوں نے گذشتہ سال فیدل کاسترو سے ملاقات کی تھی نے ان کے بھائی کو بیجھے پیغام میں دکھ کا اظہار کیا ہے۔اس سے قبل امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیوبا کے انقلابی رہنما فیدل کاسترو ایک 'ظالم آمر' تھے جنھوں نے کئی دہایوں تک اپنے ہی لوگوں پر ظلم کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اب کیوبن عوام مزید آزاد مستقبل کی جانب بڑھیں گے۔فیدل کاسترو کی یک جماعتی حکومت نے کیوبا پر تقریباً نصف صدی تک حکومت کی اور 2008 میں اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو کو منتقل کر دیا۔ان کے مداحین ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ انھوں نے کیوبا واپس عوام کو سونپ دیا۔ تاہم ان کے مخالفین ان پر حزب اختلاف کو سختی سے کچلنے کا الزام لگاتے ہیں۔صدر راؤل کاسترو نے
سرکاری ٹیلی وڑن پر ایک غیر متوقع خطاب میں بتایا کہ فیدل کاسترو انتقال کر گئے ہیں اور ان کی آخری رسومات سنیچر کو ادا کی جائیں گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے۔ کہ 'کیوبا ایک مطلق العنان جزیرہ ہے، میں امید کرتا ہوں کہ آج کے دن سے وہ اس خوف سے آگے بڑھیں گے جو انھیں نے طویل عرصے تک جھیلے ہیں، اور بہترین کیوبن عوام بالآخر مستقبل کی جانب بڑھیں گے اور آزادی کے ساتھ رہ سکیں گے جس کے وہ مستحق ہیں۔'خیال رہے کہ صدر اوباما کے دور میں امریکہ اور کیوبا کے درمیان سفارتی تعلقات سنہ 2015 میں کئی دہائیوں کے بعد بحال ہوئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اس پر تنقید کا اظہار کیا تھا لیکن اپنے حالیہ بیان میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا، ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ جو کچھ کر سکے کرے گی تاکہ کیوبا کے لوگوں کا 'آزادی اور خوشحالی کی جانب سفر کو یقینی بنایا جاسکے۔'دوسری جانب صدر اوباما کا کہنا ہے کہ تاریخ 'کاسترو کے بے پناہ اثر کو پرکھے گی اور یاد رکھے گی۔' ان کا کہنا تھا کہ امریکہ 'کیوبا کے عوام کی جانب دوستی کا ہاتھ' بڑھا رہا تھا۔فیدل کاسترو کا شمار بیسویں صدر میں طویل ترین عرصہ تک برسراقتدار رہنے والے حکمرانوں میں ہوتا ہے۔انھوں نے 2006 میں صحت کی خرابی کے باعث عارضی طور پر اپنے بھائی کو اقتدار سونپا تھا۔ تاہم دو سال بعد ان کے بھائی راؤل کاسترو باقاعدہ طور پر کیوبا کے صدر بن گئے تھے۔ان کی آخری رسومات سنیچر کو ادا کی جائیں گے جبکہ چار دسمبر تک ملک میں سرکاری سطح پر سوگ منایا جائے گا جب ان کی جسدخاکی کو نذر آتش کرنے کے بعد اس کی راکھ کو جنوب مشرقی شہر سان تیاگو میں دفن کیا جائے گا۔ فیدل کاسترو عہد حاضر کے ان عوامی رہنماؤں میں سے تھے جنھوں نے امریکا کی دہلیز پر کیوبا کی ریاست اور حکومت کے قیام سے لے کر اپنی موت تک ایک عظیم مزاحمتی جنگ لڑی۔ ان کی موت کی اطلاع اور تصدیق موجودہ صدر اور اور کاسترو کے چھوٹے بھائی راول کاسٹرو نے کی۔سرد جنگ کے نقطہ عروج پر کاسٹرو نے تیسری دنیا میں اپنی طلسماتی انقلابی شخصیت کی دھاک بٹھا دی تھی،
وہ عوام کے محبوب رہنما تھے۔ کاسترو نے 1953 نے مونکاڈا ملٹری بیرکس پر حملے میں ساتھیوں کے ہمراہ حصہ لیا تھا مگر ناکام حملے کے باعث وہ گرفتار ہوئے وہ کیوبا سے باہر چلے گئے اور 6 سال جلاوطن رہ کرواپس کیوبا آئے۔ وہ کیوبن آمر بیتستا کی 80 ہزار فوج کو شکست دے کر کیوبا میں داخل ہوئے تھے۔1959 میں وہ کیوبا میں بر سر اقتدارآئے، ایک طویل مدت تک کیوبن عوام کی خدمت کرتے رہے، ان کے انقلابی آدرش کی تقلید کئی عالمی مارکسی انقلابی لیڈروں نے کی، چی گویرا ان میں سے ایک تھے،کاسٹرو سیکڑوں مرتبہ ناکام قاتلانہ حملوں سے بچتے رہے جب کہ کئی امریکی صدور کو تبدیل ہوتے دیکھتے رہے، انکل سام سے کشمکش اور چپقلش ان کی زندگی اور سیاسی جدوجہد کا ایک ان مٹ تاریخی باب ہے، امریکی خفیہ ایجنسی اور کیوبا کے بعض جلاوطن شہری ان کی زندگی کے درپے رہے مگر ہر بار انہیں ناکامی ہوئی۔ کاسترو نے اپنے ملک میں سماجی و معاشی اصلاحات کا موثر نیٹ ورک قائم کیا جس میں تعلیم اور صحت کو بنیادی ترجیح حاصل تھی۔اگرچہ امریکہ نے کیوبا پر حکمرانی کرنے والے کاسترو سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کی لیکن اس طویل عرصے میں امریکہ میں دس کم ازکم صدور تبدیل ہو چکے تھے۔دنیا کے طول وعرض میں کمیونزم کو شکست دینے کے باوجود کاسترو امریکہ کے اپنے ہی دروازے پر ایک چبھتی ہوئی زندہ یاد کی صورت میں موجود رہے۔فیدل الیہاندرو کاسترو تین اگست 1926 میں کیوبا کے ایک امیر خاندان میں پیدا ہوئے جو پیشے کے اعتبار سے جاگیردار تھا لیکن اپنی آرام دہ طرز زندگی لیکن اردگرد پھیلی اذیت ناک مفلسی کی صورت میں سماجی تفریق اور دیگر مصائب ان کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھے اور اسی نے انھیں انقلابی بناڈالا۔اس وقت کیوبا پر فلجینسیو بتیستا کی حکومت تھی جن کا اقتدار بدعنوانی، تنزلی اور عدم مساوات کی علامت تھا۔ کاسترو اس کے خاتمے کے لیے پرعزم تھے۔اس زمانے کا کیوبا کسی کھلنڈرے شخص کے لیے جنت کی مانند تھا لیکن درحقیقت وہ منظم مجرموں کی پناہ گاہ کی مانند تھا۔ وہاں جسم فروشی، جوئے بازی اور منشیات کی سمگلنگ عام تھی۔کاسترو اور اس کے انقلابی گروہ نے موجودہ گوانتاناموبے کے جنوب میں واقع سیراما اسٹیا نامی پہاڑوں میں موجود اپنے اڈے سے بڑے پیمانے پر گوریلا مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی۔دو جولائی کو 1959 کو کیوبا کے صدر مقام ہوانا میں یہی باغی فوج داخل ہو گئی۔ نتیجتاً کاسترو فتحیاب ہوئے، بتیستا کو راہِ فرار اختیار کرنا پڑی اور کیوبا کو نئی حکومت مل گئی۔ یہ کامیابی ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے انقلابی ارنسٹ چی گیوارا کو بھی ملی تھی جنھوں نے کاسترو کی انقلابی تحریک میں حصہ لیا تھا اور بعد میں حکومت کا حصہ بھی بنے۔کیوبا کے نئے حکمرانوں نے لوگوں کی زمینیں واپس کرنے اور غربا کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا۔ لیکن جلد ہی منظر نامہ بدل گیا، حکومت نے ملک میں یک جماعتی نظام مسلط کر دیا جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو جیل کی ہوا کھلائی گئی اور مزدوروں کے کیمپ سیاسی قیدیوں سے بھر گئے۔ صرف یہی نہیں ہزاروں لوگوں کو جلاء وطنی اختیار کرنی پڑی۔بے آف پگ بغاوت کے دوران فیدل کاسترو ٹینک سے چھلانگ لگاتے ہوئیکاسترو کا دعویٰ تھا کہ ان کے نظریے میں سب سے مقدم حیثیت کیوبا کے عوام کی ہے۔انھوں نے ایک موقعے پر کہا تھا: 'اشتراکیت اور مارکسیت سے نہیں، مگر بہتر منصوبہ بندی سے تشکیل دی گئی معیشت میں جمہوریت اور سماجی انصاف کی ترجمانی ہوتی ہے۔'
1960 میں فیدل کاسترو نے کیوبا میں موجود ان تمام کاروباروں کو قومی ملکیت میں لے لیا جو دراصل امریکہ کی ملکیت تھے۔ جواباً امریکہ نے کیوبا پر تجارتی پابندیاں عائد کر دیں جو حالیہ برسوں میں صدر
براک اوباما کے دور میں کہیں جا کر اٹھنا شروع ہوئیں۔کاسترو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ انھیں مجبوراً سوویت یونین کے سربراہ نیکیتا کروسچو سے رابطے استوار کرنا پڑے، تاہم سے بہت سے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ کاسترو نے اپنی خوشی اور مرضی سے سوویت یونین کو گلے لگایا تھا۔اس سے قطع نظر کہ ان کے اس اقدام کے کیا پیچھے کیا محرکات تھے، نتیجتاً کیوبا سرد جنگ کا میدان بن گیا۔اپریل 1961 میں امریکہ نے کیوبا سے کاسترو کے اقتدار کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے کے لیے اسیری کی زندگی گزارنے والے کیوبا کے باشندوں کو غیر سرکاری فوج میں بھرتی کرنا شروع کر دیا۔کیوبا کے ساحل
بے آف پگز میں امریکی معاونت میں تربیت حاصل کرنے والے کیوبن باشندوں نے حملہ کیا لیکن کیوبا کے فوجی دستوں نے اسے ناکام بنا دیا۔ اس لڑائی میں لاتعداد حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک ہزار کے قریب گرفتار ہوئے۔فیدل کاسترونے اس حملے کو ناکام بنا کے امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دیے، جسے امریکہ ایک عرصے تک نہیں بھلا سکا۔اگلے برس یعنی 1962 میں امریکہ کے جاسوس طیاروں نے کیوبا کے مختلف مقامات پر سوویت یونین کے میزائلوں کی موجودگی کا پتہ لگایا۔ اس کے بعد اچانک دنیا بھر پر ایٹمی جنگ کے سیاہ بادل چھا گئے۔دو عالمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہو گئیں۔ لیکن پلک جھپکنے کی پہل روس کے صدر نیکیتا کروشیف نے کیوبا سے میزائل نکالنے کی صورت میں کی۔ اس کے بدلے میں ترکی سے امریکی ہتھیاروں کو نکالنے کا خفیہ معاہدہ طے ہوا۔فیدل کاسترو نے دعوی کیا تھا کے انھیں نکیتا خروشیف کے ساتھ اتحاد میں شمولیت کے لیے مجبور کیا گیا تھاکاسترو امریکہ کے دشمنوں کی فہرست میں اول نمبر پر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے انھیں آپریشن مونگوس میں قتل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ بچ نکلے۔دوسری جانب سوویت یونین کیوبا میں پیسہ انڈیل رہا تھا۔ اس نے جزیرے کی گنے کی کاشت کا وسیع رقبہ خرید لیا۔ بدلے میں ہوانا کی بندرگاہ پر اس کے ساز و سامان سے لدے جہاز اترتے تھے۔ امریکہ کی جانب سے تجارتی بندشوں کی وجہ سے کیوبا میں ان اشیائے ضرورت کی شدید قلت تھی۔سویت یونین پر انحصار کے باوجود کاسترو نے کیوبا کو غیر وابستہ تحریک میں شامل کیا جو اس وقت نوزائیدہ تھی۔ لیکن دوسری جانب کاسترو اتحادوں کا حصہ بھی بنے خاص طور پر انھوں نے افریقہ کی معاونت کی۔ انھوں نے اپنے فوجی دستے انگولا اور موزمبیق میں مارکسٹ گوریلوں کی مدد کے لیے بھیجے۔80 کی دہائی کے نصف تک عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی منظر نامہ بدل رہا تھا۔ یہ میخیل گورباچوف، گلاس نوسٹ اور پیرسٹروئکا کا زمانہ تھا اور یہی کاسترو کے انقلاب کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ادھر روس نے کیوبا کی معاشی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اور اس سے مزید چینی لینے سے انکار کر دیا۔ امریکی تجارت کی بندش اور سویت یونین کی مدد نہ ملنے کی وجہ سے کیوبا میں بڑے پیمانے پر ضروری اشیا کی قلت پیدا ہو گئی۔ جب خوراک کے حصول کے لیے قطاریں طویل ہونے لگیں تو عوامی ضبط بھی مزید کم ہوتا چلا گیا۔کاسترو کی فورسز 1959 میں ہوانا میں داخل ہوئیں۔وہ ملک جس کے لیے کاسترو نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے، درحقیقت واپس ہل جوتنے کے زمانے میں پہنچ چکا تھا۔90 کی دہائی کے وسط تک کیوبا کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اگر پہلے لوگ سیاسی اور معاشی وجوہات کی وجہ سے اسیری کی زندگی کی جانب مائل ہوئے تھے تو اب ہزاروں ایسے تھے جو ایک اچھی زندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے سمندری راستے سے امریکی ریاست فلوریڈا ہجرت کر گئے۔بہت سے ایسے تھے جو دوران سفر اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے لیکن ایسا کرنا ان کی جانب سے کاسترو کے لیے عدم اعتماد کا ووٹ تھا۔بکھرنے والے خاندانوں میں سے ایک مثال نو عمر بچے ایلین گونزالز کی ہے جس کی والدہ فلوریڈا کے سفر کے دوران وفات پا گئی تھیں۔ کیوبا اور میامی میں اس کے خاندان کے درمیان طویل تنازعے کے بعد وہ ہوانا واپس آ گیا تھا۔اس عرصے میں کاسترو کی حکومت نے اندرونی سطح پر چند قابل توجہ اہداف حاصل کیے۔ ان میں تمام عوام کے لیے بہتر طبی سہولیات کی فراہمی نمایاں تھی، اسی کی بدولت کیوبا میں بچوں کی اموات ترقی پذیر ممالک سے کم ہو گئی۔ اپنے دور حکومت کے آخری عرصے میں کاسترو کافی حد تک بالغ نظر ہو چکے تھے۔1998 میں پوپ جان پال دوم نے کیوبا کا غیر معمولی دورہ کیا جس کے لیے اس سے پانچ سال قبل تک سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اس موقعے پر پوپ نے انسانی حقوق کی پامالی کی وجہ سے کیوبا پر کڑی تنقید کی۔ عالمی میڈیا کے سامنے کاسترو کے لیے یہ سب باعث شرمندگی تھا۔اپنی واضح کوتاہیوں کے دوسری طرف اقتدار کے آخری برسوں میں کاسترو نے کیریبئین کمیونزم کی ایک انوکھی طرز کو متعارف کروایا۔اپنے انقلاب کو بچانے کے لیے کاسترو سرمایہ کارانہ نظام 'فری مارکیٹ' کی اصلاحات کو اپنانے اور آہستہ آہستہ متعارف کروانے کے لیے مجبو ر ہو گئے۔پوپ جان پال دوئم نے اپنے کیوبا کے دورے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کے لیے استعمال کیا۔2004 میں کاسترو کی گھٹنے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور بازو بھی متاثر ہوا جس کے بعد سے کاسترو کی صحت کے بارے میں مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں۔ یہ بھی کہا جانے لگا کہ ان کا 24 سالہ بھائی راؤل ممکنہ طور پر ان کی جگہ ذمہ داریاں سنبھال لے گا۔جولائی 2006 میں جب کاسترو کی 80 ویں سالگرہ میں چند ہی روز باقی تھے، کاسترو نے آنتوں کے آپریشن کے بعد اپنے اختیارات عارضی طور پر اپنے بھائی کے حوالے کر دیے۔اس دوران کیوبا کی حکومت نے مسلسل طور پر اس خبر کی تردید کرتی رہی کہ کاسترو کو لاحق کینسر خطرناک حد کو پہنچ چکا ہے۔ بعدازاں فروری2007 میں کاسترو کے بھائی نے اعلان کیا کہ کاسترو کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔ٹھیک ایک سال بعد کاسترو نے اقتدار چھوڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں صدر اور کمانڈرانچیف کی حیثیت سے شرکت نہیں کریں گے۔کاسترو نے عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور 'ریفلیکشنز آف کامریڈ' کے عنوان سے ملکی میڈیا کے لیے تحریریں لکھنے لگے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کیوبا کے بہت سے لوگوں نے کاسترو کو آزمانا چھوڑ دیا تھا لیکن بہت سے ایسے بھی تھے جنھیں ان سے حقیقی پیار تھا۔وہ کاسترو کو ڈیوڈ کی طرح سمجھتے تھے جو امریکہ کے گولائتھ کے سامنے کھڑے ہونیکی ہمت رکھتا تھا اور جس نے کامیابی حاصل کی تھی۔
ان کے لیے کاسترو کیوبا اور کیوبا کاسترو تھا۔کاسترو ایک انقلابی شخصیت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائے گے۔

Sunday, 23 October 2016

جی سی حسثام حسن چوہان شھید۔ شھیدِ راہ وفا... written by صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ


جی سی حسثام حسن چوہان شھید۔ شھیدِ راہ وفا

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ


سرزمین سرگودہا ایسی زرخیز مٹی کی حامل جگہ ہے کہ اِس سرزمیں کو 1965 کی جنگ میں بہادری کی بدولت ہلال استقلال عطا ہوا۔عظیم ہوا باز جناب امتیا زبھٹی بھی اِسی سرزمین کے فرزند ہیں۔علم و دانش کے حوالے سے جناب صاحبزادہ عبدالرسول، جناب پروفیسر منور مرزاؒ ، پروفیسر مظفر مرزا ؒ ، مرزا ادیبؒ ، اور بہت شمار چمکتے ستارے ہیں۔  دین سے محبت رکھنے والی اِس فیملی پر اللہ پاک کا بہت کرم ہے ۔ جناب امیر چوہان جو کہ امان اللہ چوہان کے بڑے بھائی ہیں اُن سے میرا تعلق ہمیشہ بھائیوں جیسا رہا۔ چونکہ راقم سرگودہا میں مقیم رہا اور آستانہ زاویہ نوشاہی میں جناب ماموں جان حضرت حکیم میاں محمد عنائت خان قادری نوشاہیؒ کے زیر سایہ دو دہائیاں گزاریں۔ یوں جناب امان اللہ چوہان صاحب سے ہمیشہ احترام کا تعلق رہا اور ہمارے مشترکہ دوست جناب ملک وحید اعوان ایڈووکیٹ بھی ہمارے رابطے کا سبب ہیں۔اِسی طرح انصاف فاونڈیشن سرگودہا کے روح رواں جناب حافظ عبد الروف بھی ہمارے مشترکہ دوستوں میں سے ہیں۔اگست میں جناب ملک وحید اعوان ایڈووکیٹ کا مجھے ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں جناب امان اللہ چوہان کے جواں سال صاحبزادے جی سی جناب حسثام چوہان کی شہادت کی بابت پیغام تھا۔دل بہت اُداس ہوگیا ۔ طبیعت بوجھل سی ہوگئی۔ہمت کرکے ملک وحید اعوان سے اِس خبر کے حوالے سے دریافت کیا۔ یوں صورتحال کا پتہ چلا کہ حسثام شھید ہوگئے ہیں۔ملک وحید نے مجھے کہا کہ تم امان اللہ چوہان کو فون کر لو۔ لیکن میرے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ ایسا کر پاتا۔تفصیل پتہ چلی کہ حسثام باکسنگ کھیلتے ہوئے سر پر چوٹ لگنے سے شہید ہو گئے ہیں۔شہادت ہے مطلوب و مقصو دِمومن ہ مال غنیمت نہ کشور کشائی۔جناب حسثام حسن چوہان شھید کا سن پیدائش 6 جنوری 1997 ہے اور سن شہادت8 اگست 2016 ۔ یوں نعرہ تکبیر اللہ ہو اکبر کا نعرہ لگانے والی پاک فوج پی ایم اے137 کا جی سی ، اپنے رب کے حضور عین عالم شباب میں پیش ہوگیا۔انسانی جذبوں میں محبت کاعمل دخل ہی انسان کو جینے کی اُمنگ دئیے رکھتا ہے۔دنیا سے محبت نہ کرنے سے مراد مادییت سے ماورا ہونا ہے۔اِسی لیے خالق کا ابدی ہونا اور بندئے کا اِس جہاں میں فانی ہونا اور عالمِ برزخ میں پھر ہمیشہ کے لیے غیر فانی ہوجانا۔اِس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بندئے کا اس جہاں میں فانی ہونا اور پھر اگلے جہاں میں غیر فانی ہوجانا یقینی طور پر اِس دنیا کی حقیقت کے حوالے سے جس کسوٹی کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہی ہے کہ یہاں عارضی قیام اور وہاں ہمیش۔ بندہ مومن کا جب اپنے رب سے ملاقات ہونے کا سبب بننے والی موت سے سامنا ہوتا ہے تو بندہ مومن کے لیے اُس کے رب کی جانب سے وہ موت تحفہ کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ جتنی مرضی تدبیریں کر لیں آخر رخصت ہونا ہی ہے ۔ اِس لیے اِس دنیا کی محبت کو مردار سے تشبہ دی گئی ہے۔امام عالیٰ مقام حضرت امام حسینؓ کا اپنا سر کٹوانا قبول کر لینا۔اپنے خاندان کو اپنے سامنے شہید ہوتا دیکھنا منطور کر لینا۔حالانکہ جان بچانا تو لازمی امر ہے ۔لیکن جان کے بدلے میں سچائی کا ساتھ چھوڑنا حق نہیں ہے حق وہی ہے جو خالق کی رضا ہے۔ تو گویا اصل حقیقت گوشت پوست کی نہیں بلکہ روح کی ہے۔موت انسانی زندگی کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ یہ تو انسانی زندگی کے اگلے دور کا نام ہے۔موت کے دروازئے سے گزر کر انسان اگلے دور میں داخل ہو جاتا ہے۔موت کا ذائقہ ہر کسی نے چھکنا ہے۔ذائقہ ایک کیفیت کا نام ہوتا ہے اِس کا وجود مستقل نہیں ہوتا۔جیسے اگر کوئی مشروب پیا جائے تو اُس کا ذائقہ کچھ دیر تک رہتا ہے لیکن اُس کے بعد اُس مشروب کے ذائقے والی کیفیت ختم ہوجاتی ہے ۔ یہی حال موت کا ہے کہ انسان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ، مرنا نہیں ہے۔چونکہ ذائقہ ایک بے حقیقت شے ہے ۔ ایک دن میں کئی مرتبہ ذائقہ آتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔اِس لیے تو موت ذائقہ بن کر آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ اِس ذائقہ موت کی کیا مجال کہ وہ انسان کی حقیقت کو ختم کر سکے۔حضرت عمرؓ کا فرمانَ عالیشان ہے کہ لوگو: تم جب ایک مرتبہ پیدا ہوگئے تو پھر مستقل پیدا ہو گئے اب منتقل ہوتے رہو
گے۔پیدائش زندگی کا آغا ز ہے۔بچہ ماں کے پیٹ میں بھی زندہ ہوتا ہے۔ کھاتا پیتا ہے ۔پیدائش کا مطلب ہی یہ ہے کہ پیدائش سے پہلے بھی زندگی میں تھا۔ماں کے پیٹ سے دنیا میں آتا ہے۔پیدائش سے پہلے زندگی کا مقام اور تھا اور پیدائش کے بعد اور۔ماں کے پیٹ سے پہلے بھی تھا عالم ارواح میں۔جب بچہ ماں کے پیٹ سے آتا ہے تو روتا ہو ا آتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ شائد اُس کی موت ہوگئی ہے۔ کیونکہ اُسکے لیے تو جہان اُس کی ماں کا پیٹ ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ اُسی کو سمجھتا ہے اور وہاں سے نکالے جانے پر روتا ہے۔ لیکن جب وہ اس جہاں میں آتا ہے تو اُسے اِس جہاں کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اُسے روشنی نظر آتی ہے ۔ وہ پھر ماں کے پیٹ میں جانے کی بجائے اِس دنیا کو اُس دنیا سے زیادہ بہتر خیال کرتا ہے۔اِسی طرح جب انسان اِس دنیا کو چھوڑ کر عالم بررزخ میں جاتا ہے تو اُسے یہ دنیا بھی ماں کے پیٹ کی طرح چھوٹی لگتی ہے اور واپس اِس دنیا میں نہیں آنا چاہتا۔جب وہ جنت کے نظارئے کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ دنیا تو ایک قید خانہ تھی۔وہ اپنے وطن کو جارہا ہوتا ہے پھر پردیس میں آنے کو اُس کا جی نہیں چاہتا۔ ساری راحتیں موت پر قربان ہوجاتی ہیں کیونکہ رب پاک سے جو ملنا ہوتا ہے۔نبی پاکﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ مردِ مومن کی موت کا جب وقت آتا ہے تو مومن کی روح ملائکہ کے جلوس کے ساتھ جاتی ہے۔ملک الموت کی قیادت میں پانچ سو فرشتوں کا وفد جلوس لے کر مومن کے پاس آتا ہے ۔ ملک الموت مردِ مومن کو سلام کرتا ہے۔ اور کہتا کہ کہ االلہ پانک نے آپ پر سلام بھیجا ہے۔روح قبض کرکے قبر میں نہیں لائی جاتی۔ ایک ایک آسمان کا دروازہ کھلتا چلا جاتا ہے اور ملائکہ اللہ پاک کے حضور روح کو پیش کرتے ہیں۔تمام ملائکہ اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔اور پھر تمام ملائکہ اللہ کے نیک بندئے کو اپنے جھرمٹ میں اللہ کے حضور سجدہ ریز کرواتے ہیں۔حدیث پاک کے الفاط ہیں کہ اللہ پاک حضرت میکائیل ؑ کو کہتے ہیں کہ روح کو واپس اُس جسم میں رکھ دو جہاں سے نکال کر لائے ہو۔روح جسم سے جدا ہونے کے بعد اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے بعد اُس کے جسم کو قبر میں رکھا جاتا ہے۔حدیث کے مطابق لوگ بندئے کے جسم کو دفن کر رہے ہوتے ہیں اور فرشتے روح کو اُس بندئے کے جسم میں داخل کردیتے ہیں۔ اللہ پاک حسثام حسن چوہان شھید کے درجات بلند فرماے اور اُن کی فیملی کو صبر عطا فرماے۔ 

Thursday, 6 October 2016

سید شاہ تراب الحق قادریؒ ۔ایک عہد ساز شخصیت WRITTEN BY صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی


سید شاہ تراب الحق قادریؒ ۔ایک عہد ساز شخصیت 

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی 

میں دوپہر کے وقت لاہور ہائی کورٹ میں اپنے چیمبر میں تھا کہ پاکستان فلاح پارٹی لاہور کے صدر جناب ذیشان احمد راجپوت تشریف لائے اور یہ افسوس ناک خبر سُنائی کہ جناب شاہ تراب الحق قادری صاحبؒ کا وصال ہو گیا ہے ۔ ہرذی روح نے موت کا ذائقہ چھکنا ہے۔عشق رسولﷺ کی عظیم تحریک انجمن طلبہ ء اسلام کے ساتھ وابستگی کی بدولت ایسی ہستیوں کا بھی ذکر سننے میں ملتا رہا ہے جن کی خدمات نبی پاکﷺ کی محبت کے فروغ کے لیے بے شمار ہیں۔ کراچی میں کیوں کہ انجمن طلبہ ء اسلام کی بنیا دپڑی اور کراچی میں شاہ احمد نورانی ، حنیف طیب، افتخار غزالی، ریاض الدین نوری، مو لا نا جمیل نعیمی،معین نوری ، حفظ تقی ،حبیب صدیقی دیگر بہت سے احباب عشق رسولﷺ کے مشن سے وابستہ ہونے کی بناء پر دل وجان میں خصوصی احترام رکھتے ہیں۔ یقینی طور پر کراچی نے عشق رسولﷺ کے فروغ کے لیے ہمیشہ بہت کام کیا ہے۔جب بھی کراچی کے حوالے عشق رسول ﷺ کی تحریک کے حوالے سے کسی بزرگ ہستی کا نام ذہن میں آتا تو وہ جناب سید شاہ تراب الحق قادری صاحبؒ کی ہوتی۔ قبلہ شاہ صاحب نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ عشق رسولﷺ کے لیے رکھا۔ تصنیف و تالیف ، خطابت، دین کی تبلیغ۔ عوام کی فلاح کے لیے سیاست۔زندگی کے سارئے شعبہ جات میں جناب شاہ صاحبؒ کا کردار انمٹ ہے۔آپ ؒ کی بیماری کی بابت پتہ چلتا رہتا ۔ آپ کافی عرصہ سے بیمار تھے۔ ایک دفعہ انجمن طلبہ اسلام کی تاریخ مرتب کرنے والے عظیم عاشق رسولﷺسید شاہ تراب الحق قادریؒ وہ شخصیت تھے کہ جن کانام ذہن میں آتے ہی عشق رسولﷺ کی روحانی سرشاری محسوس ہوتی ہے۔ آپؒ کی ولادت 27 ماہ رمضان سن 1946ء کو ہوئی۔آپؒ قیام پاکستان سے ایک سال قبل 1946ء میں ماہ رمضان کی 27 تاریخ کو ہندوستان کی اس وقت کی ایک ریاست حیدرآباد دکن کیایک شہر ناندھیڑ کے مضافات میں موضع کلمبر میں پیدا ہوئے۔آپؒ کے والد ماجد کا نام حضرت سید شاہ حسین قادری بن سید شاہ محی الدین قادری بن سید شاہ عبداللہ قادری بن سید شاہ مہراں قادری تھا اور آپ ؒ کی والدہ ماجدہ کا نام اکبر النساء بیگم تھا اور آپؒ والد ماجد کی طرف سے سید ہیں اور والدہ ماجدہ کی طرف سے فاروقی ہیں یعنی سلسلہ نسب امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ اپنے وقت کے جید عالم، مدیر المہام امور مذہبی حیدرآباد دکن حضرت علامہ مولانا انوار اللہ خان صاحب فاروقی علیہ الرحمہ سے آپؒ کا ننھیال ہے۔ حضرت علامہ مولانا انوار ا للہ خان صاحب ایک متبحر عالم دین تھے جن کی تبحر علمی کا اندازہ ان کی تصانیف ’’کتاب العقل‘‘اور ’’مقاصد الاسلام‘‘ کے مطالعے سے لگایا جاسکتا ہے۔تقسیم ہند، سقوط حیدرآباد دکن کے بعد 1951ء میں ہندوستان سے ہجرت فرما کر پاکستان تشریف لائے۔ سقوط حیدرآباد دکن میں آپؒ کے تایا محترم سید شاہ امیر ا للہ قادری کو شہید کردیا گیا تھا اور پاکستان تشریف لاکر آپ ؒ نے کراچی میں قیام فرمایا۔ کچھ عرصہ پی آئی بی کالونی میں، پی آئی بی کے قریب لیاقت بستی نامی آبادی میں رہے۔ اس کے بعدکورنگی منتقل ہوگئے۔ابتدائی تعلیم مدرسہ تحتانیہ دودھ بولی بیرون دروازہ نزد جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن میں حاصل کی۔ پاکستان آنے کے بعد پی آئی بی کالونی (کراچی) میں قیام کے دوران ’’فیض عام ہائی اسکول‘‘ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے رشتے کے خالو اور سسر پیر طریقت رہبر شریعت ولی ا للہ نعمت قاری مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ سے گھر پر کتابیں پڑھیں، پھر ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ میں داخلہ لے لیا جہاں زیادہ تر اسباق قاری صاحب علیہ الرحمہ کے پاس پڑھے اور سند صدر الشریعۃ بدر الطریقہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی (متوفی 1367ھ) علیہ الرحمہ کے صاحبزادے شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالمصطفی ازہری علیہ الرحمہ سے حاصل کی جو اس وقت ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ کے شیخ الحدیث تھے جبکہ اعزازی سند وقار الملت سرمایہ اہلسنت حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی حنفی علیہ الرحمہ سے حاصل کی جو اس وقت ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ کراچی کی مسند افتاء پر فائز تھے۔آپؒ کا نکاح 1966ء میں پیر طریقت ولی نعمت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ کی دختر نیک اختر سے ہوا۔ جس سے ا للہ تعالیٰ نے تین فرزند سید شاہ سراج الحق، سید شاہ عبدالحق اور سید شاہ فرید الحق اور چھ بیٹیاں عطا ہوئیں جن میں سے ایک کا تین سال کی عمر میں ہی وصال ہوگیا۔ باقی الحمد ا للہ بقید حیات ہیں۔آپؒ کے بڑے صاحبزادے سید شاہ سراج الحق نے درس نظامی کی اکثر کتب کا سبقاً سبقاً مطالعہ کرنے کے بعد موقوف کردیا جبکہ منجھلے صاحبزادے سید شاہ عبدالحق قادری نے بفضلہ تعالیٰ ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ سے سند فراغت حاصل کی۔ ان کے بارے میں حضرت سید شاہ تراب الحق قادریؒ فرماتے ہیں ’’جب سید عبدالحق کی پیدائش ہوئی تو پیر طریقت حضرت علامہ قاری مصلح الدین علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ ان کا نام محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی کی نسبت سے شاہ عبدالحق رکھو۔ شاید عالم دین بن جائے۔ لہذا قاری صاحب علیہ الرحمہ کے ارشاد کے مطابق شاہ عبدالحق رکھا گیا۔ خدا کا کرنا دیکھئے یہی بیٹا میرا عالم دین بنا۔ الحمدا للہ موصوف عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے مقرر بھی ہیں اور اپنے والد بزرگوار کی جگہ اکثر آپ ہی وعظ فرمانے تشریف لے جاتے ہیں۔ حضرت کے قائم کردہ دینی ادارے ’’دارالعلوم مصلح الدین‘‘ کا انتظام بھی انہی کے سپرد ہے اور ’’آخوند مسجد‘‘ کھارادر میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ چھوٹے صاحبزادے سید شاہ فرید الحق قادری اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ شاہزادیوں میں آپ کی چھوٹی لخت جگر بھی عالمہ ہے۔1962ء میں بذریعہ خط اور 1968ء میں بریلی شریف حاضر ہوکر امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی (متوفی 1340ھ) کے چھوٹے فرزند مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفی رضا خان صاحب کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔ اس سفر میں آپ تیرہ روز حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دولت خانے پر قیام پذیر رہے اور آپ سے تعویذات کی تربیت اور اجازت بھی حاصل کی۔ اسی دوران ’’مسجد رضا‘‘ میں نمازوں میں امامت فرماتے اور حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ ان کی اقتداء میں نمازیں ادا فرماتے، نیز کئی جلسوں میں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی موجودگی میں تقریر فرمائی اور داد تحسین حاصل کی۔سلسلہ عالیہ قادری، برکاتیہ،اشرفیہ، شاذلیہ، منوریہ، معمریہ اور دیگر تمام سلاسل میںآپؒ کو اپنے پیر حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ، اپنے استاد و سسر پیر طریقت حضرت علامہ قاری مصلح الدین علیہ الرحمہ اور قطب مدینہ شیخ عرب و عجم حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے زینت العلماء مولانا فضل الرحمن مدنی علیہ الرحمہ سے خلافت و اجازت حاصل کی۔ ’’ماہنامہ مصلح الدین‘‘ کی اشاعت خاص ’’مصلح الدین نمبر‘‘ (اگست 2002/ جمادی الاخر 1223ھ) کے صفحہ 65 میں ہے کہ قبلہ قاری صاحب علیہ الرحمہ نے مورخہ 27 جمادی الثانی 1402ھ بمطابق 22 اپریل 1982ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء بمقام میمن مسجد مصلح الدین گارڈن بتقریب خرقہ خلافت سند اجازت اور محفل نعت بروانگی عمرہ حاضری دربار مدینہ میں حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری ؒ کو سند خلافت اور اجازت بیعت عطا فرمائی۔اس سے قبل جب آپ 1977ء میں تبلیغی دورے پر نیروبی (کینیا) تشریف لے گئے۔ واپسی پر فریضہ حج ادا فرمایا۔ اسی سفر حرمین شریفین میں ضیاء الملت والدین حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ کی صحبت میں کئی روز تک رہنے کی سعادت حاصل ہوئی۔1965ء تا 1970ء چھ سال ’’محمدی مسجد‘‘ کورنگی کراچی میں اور 1970ء تا 1982ء بارہ سال ’’اخوند مسجد‘‘ کھارادر کراچی میں امامت و خطابت فرماتے رہے پھر جب 1983ء میں آپ کے استاد و سسر قاری مصلح الدین علیہ الرحمہ (جوکہ اپنی نیابت و خلافت آپ کو پہلے ہی عنایت فرماچکے تھے) نے اپنے وصال سے دو سال قبل ’’میمن مسجد‘‘ مصلح الدین گارڈن سابقہ کھوڑی گارڈن کراچی کی امامت و خطابت آپ کے سپرد فرمائی۔ اس وقت سے تا وفات آپؒ قاری صاحب علیہ الرحمہ کی دی ہوئی ذمہ داری کو نبھا تے رہے۔جس وقت ’’اخوند مسجد‘‘ کھارادر کراچی میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس وقت نوجوانوں کی خاصی تعداد آپؒ کے حلقہ درس میں شامل ہوئی اور کئی تنظیمیں قائم ہوئیں جن میں سنی باب الاشاعت، تحریک عوام اہلسنت، انجمن اشاعت الاسلام، جمعیت اشاعت اہلسنت (1)، حقوق اہلسنت اور دعوت اسلامی (2) وغیرہا معرض وجود میں آئیں۔تقاریر کا سلسلہ آپ نے 1962ء میں شروع کیا جبکہ آپ ابھی طالب علم تھے، فراغت کے بعد مادر علمی ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ کراچی سے مبلغ کے طور پر خدمات انجام دیں، ہر جلسہ میں ’’دارالعلوم امجدیہ‘‘ کی جانب سے خطیب کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ ایسا دور تھا کہ آپ ایک دن میں بارہ بارہ تقاریر بھی کرتے تھے۔وہ دور جب مولوی احتشام الحق تھانوی نے سرکاری و نجی دفاتر میں ہونے والے میلاد شریف کے جلسوں میں اپنا سکہ بٹھا دیا تھا۔ اس وقت حضرت نے اپنی مصروفیات کے باوجود سرکاری، نیم سرکاری ونجی اداروں، بینکوں اور دیگر دفاتر میں ہونے والے میلاد شریف کے جلسوں میں جاکر مسلک حق اہلسنت کے فروغ کے لئے تبلیغ فرمائی اور اس کا سلسلہ اڑتیس سال سے زائد عرصہ تک چلتا رہا پھر آپ نے طبیعت کی ناسازی اور مصروفیت کی زیادتی کی بناء پر تقاریر کا سلسلہ تقریبا موقوف کردیا۔۔دین متین کی تبلیغ و اشاعت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔ اپنی تقاریر اور مواعظ حسنہ کے ذریعے کونے کونے میں اسلام کی دعوت کو عام کیا۔ یہ سلسلہ 1977ء سے شروع ہوا، جب آپ نے پہلا دورہ نیروبی کینیا کا فرمایا اور لوگوں کی دعوت پر کئی بار عرب امارات، سری لنک، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، ہالینڈ، جرمنی، بیلجیم، امریکہ، ساؤتھ افریقہ، کینیا، تنزانیہ، زمبابوے، عراق، زنزیبار، زمبیا، فرانس، اردن اور مصر تشریف لے گئے اور سرکاری وفد کے رکن کی حیثیت سے آپ نے اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم کے ہمراہ عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا اور ’’کنزالایمان‘‘ اور اہلسنت و جماعت کا لٹریچر وہاں کے مسلمانوں تک پہنچایا، نیز سرکاری وفد کے رکن کی حیثیت سے اردن اور مصر کا بھی دورہ فرمایا۔جن ممالک میں آپ تشریف لے گئے،قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ بے شمار کتب لکھیں۔ہزاروں لاکھوں لوگوں کے دلوں میں عشق رسولﷺ کی تڑپ پیدا کی۔ عظیم المرتبت جناب سید شاہ تراب الحق قادریؒ کا فیضان ہمیشہ جاری و اسری رہے گا۔ اللہ پاک جناب شاہ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔( آمین) 

Thursday, 8 September 2016

نابغہ روزگار ہستی عظیم عاشق رسولﷺ حضرت علامہ احمد علی قصوری ........ by صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


نابغہ روزگار ہستی عظیم عاشق رسولﷺ 

   حضرت علامہ 

احمد علی قصوری

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائین ہال میں علامہ احمد علی قصوریؒ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس انعقاد پزیر تھا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمین سابق صدر مملکت جناب جسٹس (ر)فیق احمد تارڑ کرسی صدارت پہ تشریف فرماء تھے۔ اُن کے دائیں ہاتھ ممتاز ماہر تعلیم نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمین ڈاکٹر پروفیسر رفیق احمد صاحب تشریف رکھتے تھے۔طاہر رضا بخاری ڈائریکٹر جنرل محکمہ اوقاف پنجاب بھی ساتھ والی نشست پر متمکن تھے۔ جناب ضیا ء الحق نقشبندی اور جناب علامہ جاوید نوری ، علامہ احمد علی قصوری کے بیٹے اسامہ قصوری علامہ صاحبؒ کے تایازاد جناب پروفیسر عرفان، حرمت رسول موومنٹ کے ترجمان علی عمران شاہین اور دیگر مہمان تشریف فرماء تھے۔ جناب شاہد رشید صاحب اِس تعزیتی ریفرنس میں نظامت کے فرائض انجام دئے رہے تھے۔مجھ ناچیز کے حصہ میں بھی یہ سعادت آئی کہ مجھے بھی حضرت علامہ احمد علی قصوریؒ کی زندگی کے حوالے سے کچھ کہنے کا موقع ملا۔ محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر جنرل طاہر رضا بخاری نے اپنے خطاب میں علامہ احمد علی قصوری ؒ کی حضرت اقبالؒ کے ساتھ محبت اور اقبالؒ شناسی کے حوالے سے تذکرہ کرتے ہوئے اُنھیں شاندار الفاط میں خراجِ تحسین پیش کیا۔طاہر رضا بخاری کا کہنا تھا کہ علامہ صاحبؒ ایک عظیم عاشق رسولﷺ اور پاکستان سے محبت کرنے والے تھے۔پروفیسر عرفان نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ صاحبؒ میرئے تایازاد بھائی تھے اور میرئے لیے اُن کی شفقت باپ کی طرح تھی۔پروفیسر عرفان نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں پھر سے یتیم ہوگیا ہوں۔علامہ صاحبؒ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جناب شاہد رشید نے اُنھیں عظیم بیباک رہنماء قرار دیا ۔ شاہد رشید کا کہنا تھا کہ علامہ صاحبؒ جیسی شخصیت وطن عزیز کے لیے عظیم نعمت تھی اور اُنھوں نے ہمیشہ حق و صداقت کے لیے قربانی دی۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمین سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر رفیق احمد نے علامہ احمد علی قصوریؒ کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ڈاکٹر رفیق احمد کا کہنا تھا کہ جناب علامہ صاحبؒ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے پروگراموں میں باقاعدگی سے تشریف لاتے اور جب بھی کسی مجلس میں کسی نکتہ پر اعتراض ہوتا تو بہادری سے اور دلائل سے اپنا موقف بیان کرتے یوں ہمیں بعد میں اندازہ ہوتا کہ علامہ صاحبؒ کا استدلال درست تھا۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے مزید کہا کہ احمد علی قصوری صاحبؒ کی بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ اُنھوں نے رزق حلال کھایا اور اِسی سے اپنی اولاد کی پرورش کی۔وہ مسجد میں امامت بھی فرماتے اور خطابت بھی کرتے تھے لیکن اُنہوں نے اِس کام کو اپنے روزگار کا ذریعہ نہیں بنایا۔ راقم صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت علامہ اقبالؒ کے حوالے سے جناب علامہ احمد علی قصوریؒ صاحب کی محبت ہم جیسوں کے لیے تقویت کا باعث تھی۔اشرف عاصمی کا کہنا تھا کہ میری علامہ صاحب سے شناسائی کا تعلق اُس وقت سے ہے جب میں انجمن طلبہ ء اسلام کے ساتھ منسلک تھا اور طالب علم تھا یوں روحانی تعلق تین عشروں پہ محیط ہے۔اشرف عاصمی کا کہنا تھا کہ میری آخری ملاقات جناب علامہ قصوریؒ سے لاہور ہائی کورٹ میں اُس وقت ہوئی جب وہ غازی ممتاز قادری شہیدؒ کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے تشریف آئے۔ اُن کے ساتھ جناب جسٹس (ر ) خواجہ شریف بھی موجود تھے ۔ علی عمران شاہین تحریک حرمت رسولؒ اور تحریک آزادیِ کشمیر کے رہنماء نے کہا کہ علامہ صاحبؒ اتحاد اُمت کے بہت بڑی داعی تھے اور جب بھی اُن سے کسی پروگرام میں آنے استدعا کرتے تو وہ بخوشی تشریف لاتے۔ تعزیتی ریفرنس کے آخر میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمین سابق صدر مملکت پاکستان جناب رفیق احمد تارڑ نے جناب علامہ قصوریؒ کو عظیم عاشق رسول قرار دیا ۔ رفیق تارڑ کا کہنا تھا کہ مرحوم اکثر میرئے ہاں تشریف لاتے اور شعر و سخن کی محفلیں بپا ہوتیں۔ رفیق تارڑ نے کہا کہ علامہ صاحب بہادر اور بے باک انسان تھے۔ وہ کسی سے ڈرنے والے نہیں تھے۔ اِس موقع پر حغرت علامہ احمد علی قصوری ؒ کی آڈیو تقریر کا اقتباس بھی حاضرین کو سُنایا گیا جس میں علامہ صاحب سات ستمبر کے حوالے سے نوجوانوں سے مخاطب تھے اور 1965 کی جنگ کا احوال بتا رہے تھے۔ ہر ذی روح نے موت کا ذایقہ چکھنا ہے ہمارئے عظیم رہنماء بزرگ احمد علی قصوریؒ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ہیں ۔ پاکستان اسلام اور نبی پاکﷺ سے عشق کرنے والی ہستی ہمارئے لیے مینارہِ نور ہیں ۔علامہ احمد علی قصوری ؒ نامور عالم دین تھے، وہ نہایت جرات مند، حق گو، نہ بکنے والے نہ جھکنے والے تھے۔ گزشتہ کم و بیش نصف صدی سے لاہور کی دینی اور سیاسی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ انہوں نے بھٹو کے ابتدائی دور میں ’’بنگلہ دیش نامنظور تحریک‘‘ میں حصہ لیا، بھٹو سرکار کے ڈنڈے بھی کھائے اور جیل بھی کاٹی۔ ان کی دینی اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز 1962ء سے ہوا جب علامہ قاضی عبدالنبّی کوکب کی زیر قیادت برکت علی اسلامیہ بال باغ بیرون موچی دروازہ میں پہلے یوم رضا کا جلسہ منعقد ہوا۔ علامہ قاضی عبدالنبی کوکب اور علامہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی کے ساتھ وہ ضلع لاہور کی جمعیت علماء پاکستان کیلئے کام کرتے رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب خواجہ محمد رفیق شہید ہوئے تو انکے جنازے کے جلوس میں علامہ عبدالستار خان نیازی اور دیگر زعما کے شانہ بشانہ علامہ احمد علی قصوری نے شرکت کی۔ علامہ قصوری نے علامہ شاہ احمد نورانی اور علامہ عبدالستار خان نیازی کی زیر قیادت تحریک نفاذ نظام مصطفی اور تحریک تحفظ ختم نبوت میں حصہ لیا۔ 1977ء کے جنرل الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف 9 ستاروں (9 جماعتوں کے اتحاد) کی احتجاجی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 30 مارچ کو لاہور میں لوہاری گیٹ کے باہر مسلم مسجد کے سامنے جمعیت علماء پاکستان کے زیر اہتمام ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا گیا اس کی قیادت علامہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی اور علامہ احمد علی قصوری نے کی۔ شروع میں ہی کچھ لوگوں کی گرفتاریاں کرکے جلوس کے شرکاء پر تشدد کیا گیا۔ پولیس فورس جوتوں سمیت مسلم مسجد میں داخل ہو گئی۔ مسجد میں وضو کے حوض اور سیڑھیوں میں نوچی گئی داڑھیوں کے بال اور خون کے چھینٹے پھیلے ہوئے تھے۔ اس روز گولی بھی چلی تھی اور خبر یہ تھی کہ کم از کم دس لوگ شہید ہوئے۔ اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شادباغ، وسن پورہ، مصری شاہ، فیض باغ وغیرہ کے قومی حلقہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں جمعیت علماء پاکستان کی مرکزی قیادت علامہ شاہ احمد نورانی اور علامہ عبدالستار خان نیازی نے علامہ احمد علی قصوری کو جمعیت کی طرف سے امیدوار نامزد کیا اور شادباغ کی گول گراؤنڈ میں انتخابی جلسہ میں علامہ شاہ احمد نورانی اور علامہ عبدالستار خاں نیازی نے خطاب کیا۔ جب یورپ کے بعض بدبخت اخبار مالکان نے متنازع خاکے شائع کئے تو پاکستان بھر میں اس کے خلاف احتجاجی جلسے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ لاہور میں مزار حضرت داتا گنج بخش پر ایک تاریخی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ علامہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی، علامہ احمد علی قصوری، حزب الاحناف سے صاحبزادہ غلام مصطفے اور انجینئر سلیم اللہ نے قیادت کی یہ لاہور کی تاریخ میں سب سے بڑی ریلی تھی جو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور حکومت میں نکالی گئی۔ اس ریلی میں سارا لاہور امڈ کر سڑکوں پر آگیا تھا۔ قائدین کا ٹرک ابھی مزار داتا گنج بخش سے گول باغ (ناصر باغ) تک بھی نہیں پہنچ سکا تھا کہ لوگوں کا جم غفیر چوک جی پی او سے چوک اسمبلی ہال تک پہنچ چکا تھا۔ اس دوران روایتی انداز میں ہونے والی شرپسند عناصر کی کارروائی بھی شروع ہو چکی تھی چوک ریگل کے آس پاس کئی عمارتوں کو آگ لگا دی گئی، لاتعداد موٹر سائیکلیں اور کاریں بھی تباہ ہو گئیں۔ اس ریلی پر اسلام آباد میں بیٹھا ہوا ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف سخت سیخ پا ہوا۔ وہ یقین ہی نہیں کر رہا تھا کہ اس کے آہنی پنجہ کی حکومت کے ہوتے ہوئے عوام کی اتنی بڑی تعداد سڑکوں پر کیسے نکل آئی۔اس نے صوبائی حکومت کو سب ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لینے کا حکم دیا۔ احتمال تھا کہ حکومت قائدین کو غیر قانونی طریقے سے نقصان پہنچانے کی کوشش کریگی اس لئے ریلی کے تمام قائدین کچھ روز کیلئے ’’روپوش ہو گئے۔ ان میں علامہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی، علامہ احمد علی قصوری، علامہ رضائے مصطفی، صاحبزادہ غلام مصطفی (حزب الاحناف) اور انجینئر سلیم اللہ بھی شامل تھے۔ چند ہفتوں کے بعد تمام قائدین گرفتار کر لئے گئے تاہم علامہ قصوری کو مسجد میں داخل ہو کر گرفتار کرنے کا حوصلہ پولیس نے نہ کیا تاہم علامہ قصوری سمیت سب رہنماؤں پر مختلف تھانوں میں مقدمات درج کرائے گئے جن میں فساد کرنے، املاک کونقصان پہنچانے اور آگ لگانے کے الزامات لگائے گئے۔ علامہ قصوری صاحب 2015ء تک ان مقدمات میں پیش ہوتے رہے۔ راقم خود پیر طاہر علا دین ؒ کے صاحبزادگان کے اغوا کے احتجاج پر جو بہت بڑی ریلی 1988 میں نکالی گئی اُس میں شریک تھا۔ مجھے یاد ہے جناب قصوری صاحبؒ نعرہ لگوارہا تھے وہ کون تھے جن پر ظلم ہوا غوث جلیؒ کے شہزادئے۔علامہ احمد علی قصوریؒ عاشقان رسولﷺ ، اقبالؒ پاکستان اور قائد ا عظمؒ سے محبت کرنے والی ایک عظیم ہستی تھے۔ اللہ پاک اُن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے( آمین)