Sunday, 16 December 2018
Saturday, 15 December 2018
Wednesday, 21 November 2018
محبت لازمی کرنا علی احمد کیانی کا شعری محموعہ..................... صاحبزادہ اشرف عاصمی
محبت لازمی کرنا
علی احمد کیانی کا شعری محموعہ
صاحبزادہ اشرف عاصمی
انسانی فطرت ہے کہ وہ محبت خلوص اور وفا کی تلاش میں رہتی ہے۔ لیکن خالق نے
کچھ ہستیاں اِس جہان میں ایسی بھی پید اکی ہوتی ہیں جو خود سراپا محبت و
خلوص ہوتی ہیں۔ایسے لوگ معاشرئے کا وہ حساس طبقہ ہوتے ہیں جن کا وجود
معاشرئے کے لیے اس قدر قیمتی ہوتا ہے کہ ان کے دم سے خیر وبرکت کی خوشبوئیں
خزاں رتوں میں بھی ہر سو پھیلی ہوتی ہیں یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا حساس
دل معاشرئے کے ہر ہر فرد کی تکلیف پر دُکھی ہوجاتا ہے حتی کہ کائنات کی ہر
شے سے اُنھیں اُنس ہوتا ہے۔ ایسا صرف اِس لیے ہوتا ہے کہ ایسی ہستیاں اِس
دُنیا میں فقط محبت کرنے اور محبت کو برہوتری دینے کے لیے پیدا ہوئی ہوتی
ہیں۔ گویا اُن کا مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے محبت لازمی کرنا۔
محبت لازمی کرنا جواں جذبوں کے امین، ہر سُو وفا ء کی خوشبو سے معاشرئے کو مہکانے والے جناب علی احمد کیانی کے دوسرے شعری مجموعے کا نام ہے۔ برادرم علی احمد کیانی کی شاعری اپنے اندر خوداری کا لمس سموئے ہوئے ہے۔فن کوئی بھی ہو ۔ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو وہ انسانی جذبات و خیالات کا عکاس ہوتا ہے۔علی احمدکیانی کا علم وسیع ہے اِس کا اظہار اُن کے مشاہدئے کی قوتِ پرواز ہے۔زندگی کے اُتار چڑھاؤ سے واقفیت اور دُکھی دلوں کی ترجمانی علی احمد کیانی کی شاعری کا وصف ہے۔
رہزنوں سے علی بچ گیا تھا مگر
رہبروں سے لٹا دیکھتے دیکھتے
متزکرہ بالا شعر میں جناب علی احمد کیانی نے جس انداز میں معاشرئے کی بے ثباتیوں کا تذکرہ کیا ہے یقینی طورپر اِنکی یہ غزل جس کے شعر کا ذکر کیا گیا ہے اپنے اندر وسیع معنی سموئے ہوئی ہے۔اُنھوں نے جس انداز میں رہزن اور راہبر کے معاشرتی رویوں کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ علی احمد کیانی راہبری کے بھیس میں راہزنی کی پہچان رکھتے ہیں اور اُن کے اندر کا حساس انسان معاشرئے کی اِس انداز میں مذمت کرتا ہوا دیکھائی دیتا ہے کہ جہاں سے محبت کی فروانی ہونی چاہیے وہاں نفرتیں پنپ رہی ہیں۔
ملاحظہ فرمائیں علی احمد کا اسلوب کہ
جل گیا تن بدن میرا
غم کہ آتش فشاں سے گزرا ہوں
عشق نے پر لگا دئیے مجھ کو
آج میں آسمان سے گزرا ہوں
ایک طرف علی احمد کیانی دکھوں اور یاسیت سے لڑتے ہوئے دیکھائی دیتا ہے اور دوسری جانب اپنے عشق کی پرواز میں اِس قدر بلندیوں پر ہے کہ آسمان بھی اُسے اپنے پاؤں تلے محسوس ہوتا ہے۔ یقینی طور پر علی احمد کیانی نے جس طرح کے الفاط اپنی شاعری میں استعمال کیے ہیں یہ الفاظ بناوٹی نہیں ہیں بلکہ علی احمد کیانی کا ایک حرف ایک ایک لفظ اپنے اندر جذبوں کا طوفان لیے ہوئے ہے۔ علی احمد کیانی کی شاعر ی کا یہ وصف ہے کہ امید کی روشنی سے منور ہے علی احمد کیانی کے ہاں منزل تک رسائی حاصل کرنے کے کے لیے سب کچھ لُٹا دینے کا جذبہ بدرجہ اُتم موجود ہے۔علی احمد کیانی نہایت معیاری اور منفرد غزل کہتے ہیں۔علی احمد کیانی پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں نہایت نفیس انسان ہیں۔علی احمدکیانی نے نبی پاکﷺ کی خدمت اقدس میں نعتیں بھی لکھی ہیں۔
زیر نظر شعری مجموعے میں بہت خوبصور ت نعت شامل ہے۔نبی پاکﷺ سے محبت کے نصا ب کی حلاوتوں سے اویس قرنیؒ ، بلال حبشیؒ امر ہوگئے۔ آپ ﷺ کے عشق کا فیضان ہی انسان کو خالق کے ساتھ تعلق کے استوار کا کرنے کا سبب بنتا ہے۔یہ عشق رسول ﷺ ہی ہے جس نے کربلا کی تپتی ریت پر امام عالی مقام حضرت امام حسینؒ اور اُن کے ساتھیوں کو شہادت کے نا قابل فراموش جذبے کی تمازت سے سرفراز کیا۔عشق رسولﷺکے بغیر ابوجہل کا پیروکار تو بنا جاسکتا ہے لیکن نبی پاکﷺ کی شفاعت کا حقدار نہیں۔عشق رسول ﷺ ابوبکرؓ ، عمرؓ، عثمانؓ ، علیؓ کی زندگیوں میں انقلاب کا سبب بنا۔میلاد مصطفےٰ ﷺ کا مفہوم ہی یہ ہے کہ انسانیت کو شرف انسانیت سے ہمکنار کرنے والے کی آمد پر ربِ کائنات کا شُکربجا لایا جائے۔جس طرح اللہ پاک کو جو مانتا ہے یا نہیں مانتا اللہ پاک اُس کا بھی خالق و مالک ہے۔اِسی طرح نبی پاک ﷺ تمام انسانیت کے لیے رحمت ہیں۔ رحمتوں کے عظیم پیکر نبی پاکﷺ کی آمد کے دن کو اپنے لیے عید شمار نہ کیا جائے تو اور کیا کیا جائے۔عشق رسول ﷺ کی شمع کا فیضان ہے یہ کہ پوری کائنات میں ہرلمحہ اللہ پاک کی ربوبیت کے لیے اعلان اذان کی صورت میں ہورہا ہے کوئی اور دین ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔عشق رسول ﷺ ہی خالق اور مخلوق کی تعلق کی بنیاد ہے۔علی احمد نے بھی اپنے نبی پاکﷺ کی شان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
سیرت بھی حسیں ان کی، صورت بھی حسیں ان کی
کردار بلند ان کا ، اطوار حسیں تر ہیں
صدیق ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ ، یا شیر خدا ؓ ہیں وہ
سرکار دو عالمﷺ کے، سب یار حسیں تر ہیں
اللہ پاک سے دُعا ہے کہ جناب علی احمد کیانی کو صدا سلامت رکھے۔ (آمین)
محبت لازمی کرنا جواں جذبوں کے امین، ہر سُو وفا ء کی خوشبو سے معاشرئے کو مہکانے والے جناب علی احمد کیانی کے دوسرے شعری مجموعے کا نام ہے۔ برادرم علی احمد کیانی کی شاعری اپنے اندر خوداری کا لمس سموئے ہوئے ہے۔فن کوئی بھی ہو ۔ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو وہ انسانی جذبات و خیالات کا عکاس ہوتا ہے۔علی احمدکیانی کا علم وسیع ہے اِس کا اظہار اُن کے مشاہدئے کی قوتِ پرواز ہے۔زندگی کے اُتار چڑھاؤ سے واقفیت اور دُکھی دلوں کی ترجمانی علی احمد کیانی کی شاعری کا وصف ہے۔
رہزنوں سے علی بچ گیا تھا مگر
رہبروں سے لٹا دیکھتے دیکھتے
متزکرہ بالا شعر میں جناب علی احمد کیانی نے جس انداز میں معاشرئے کی بے ثباتیوں کا تذکرہ کیا ہے یقینی طورپر اِنکی یہ غزل جس کے شعر کا ذکر کیا گیا ہے اپنے اندر وسیع معنی سموئے ہوئی ہے۔اُنھوں نے جس انداز میں رہزن اور راہبر کے معاشرتی رویوں کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ علی احمد کیانی راہبری کے بھیس میں راہزنی کی پہچان رکھتے ہیں اور اُن کے اندر کا حساس انسان معاشرئے کی اِس انداز میں مذمت کرتا ہوا دیکھائی دیتا ہے کہ جہاں سے محبت کی فروانی ہونی چاہیے وہاں نفرتیں پنپ رہی ہیں۔
ملاحظہ فرمائیں علی احمد کا اسلوب کہ
جل گیا تن بدن میرا
غم کہ آتش فشاں سے گزرا ہوں
عشق نے پر لگا دئیے مجھ کو
آج میں آسمان سے گزرا ہوں
ایک طرف علی احمد کیانی دکھوں اور یاسیت سے لڑتے ہوئے دیکھائی دیتا ہے اور دوسری جانب اپنے عشق کی پرواز میں اِس قدر بلندیوں پر ہے کہ آسمان بھی اُسے اپنے پاؤں تلے محسوس ہوتا ہے۔ یقینی طور پر علی احمد کیانی نے جس طرح کے الفاط اپنی شاعری میں استعمال کیے ہیں یہ الفاظ بناوٹی نہیں ہیں بلکہ علی احمد کیانی کا ایک حرف ایک ایک لفظ اپنے اندر جذبوں کا طوفان لیے ہوئے ہے۔ علی احمد کیانی کی شاعر ی کا یہ وصف ہے کہ امید کی روشنی سے منور ہے علی احمد کیانی کے ہاں منزل تک رسائی حاصل کرنے کے کے لیے سب کچھ لُٹا دینے کا جذبہ بدرجہ اُتم موجود ہے۔علی احمد کیانی نہایت معیاری اور منفرد غزل کہتے ہیں۔علی احمد کیانی پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں نہایت نفیس انسان ہیں۔علی احمدکیانی نے نبی پاکﷺ کی خدمت اقدس میں نعتیں بھی لکھی ہیں۔
زیر نظر شعری مجموعے میں بہت خوبصور ت نعت شامل ہے۔نبی پاکﷺ سے محبت کے نصا ب کی حلاوتوں سے اویس قرنیؒ ، بلال حبشیؒ امر ہوگئے۔ آپ ﷺ کے عشق کا فیضان ہی انسان کو خالق کے ساتھ تعلق کے استوار کا کرنے کا سبب بنتا ہے۔یہ عشق رسول ﷺ ہی ہے جس نے کربلا کی تپتی ریت پر امام عالی مقام حضرت امام حسینؒ اور اُن کے ساتھیوں کو شہادت کے نا قابل فراموش جذبے کی تمازت سے سرفراز کیا۔عشق رسولﷺکے بغیر ابوجہل کا پیروکار تو بنا جاسکتا ہے لیکن نبی پاکﷺ کی شفاعت کا حقدار نہیں۔عشق رسول ﷺ ابوبکرؓ ، عمرؓ، عثمانؓ ، علیؓ کی زندگیوں میں انقلاب کا سبب بنا۔میلاد مصطفےٰ ﷺ کا مفہوم ہی یہ ہے کہ انسانیت کو شرف انسانیت سے ہمکنار کرنے والے کی آمد پر ربِ کائنات کا شُکربجا لایا جائے۔جس طرح اللہ پاک کو جو مانتا ہے یا نہیں مانتا اللہ پاک اُس کا بھی خالق و مالک ہے۔اِسی طرح نبی پاک ﷺ تمام انسانیت کے لیے رحمت ہیں۔ رحمتوں کے عظیم پیکر نبی پاکﷺ کی آمد کے دن کو اپنے لیے عید شمار نہ کیا جائے تو اور کیا کیا جائے۔عشق رسول ﷺ کی شمع کا فیضان ہے یہ کہ پوری کائنات میں ہرلمحہ اللہ پاک کی ربوبیت کے لیے اعلان اذان کی صورت میں ہورہا ہے کوئی اور دین ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔عشق رسول ﷺ ہی خالق اور مخلوق کی تعلق کی بنیاد ہے۔علی احمد نے بھی اپنے نبی پاکﷺ کی شان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
سیرت بھی حسیں ان کی، صورت بھی حسیں ان کی
کردار بلند ان کا ، اطوار حسیں تر ہیں
صدیق ؓ ، عمر ؓ ، عثمان ؓ ، یا شیر خدا ؓ ہیں وہ
سرکار دو عالمﷺ کے، سب یار حسیں تر ہیں
اللہ پاک سے دُعا ہے کہ جناب علی احمد کیانی کو صدا سلامت رکھے۔ (آمین)
Friday, 16 November 2018
فلسفہ یوٹرن۔۔۔۔ عمران خان کی تاویلات..Written By صاحبزادہ اشرف عاصمی
فلسفہ یوٹرن۔۔۔۔ عمران خان کی تاویلات
صاحبزادہ اشرف عاصمی
پاکستان میرا عشق ہے کیونکہ اِسے ایک عظیم قانون دان دُھن کے پکے انسان
حضرتِ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے نبی پاک ﷺ کے حکم پر قائم کیا۔ حتیٰ
کے وفات سے قبل جناب قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنے ڈاکٹر سے کہا تھا
کہ اگر نبی پاکﷺ کا فیضان شامل نہ ہوتا تو پاکستان نہیں بن سکتا تھا۔بانی
پاکستان فیصلے کرنے سے پہلے نہایت سوچ بچار کرتے اور پھر اِس فیصلے پر عمل
کرنے کے لیے ڈٹ جاتے ۔بانی پاکستان ایک سچے اور کھرئے لیڈر تھے۔
بائیس سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد حکومت میں آنے والے عمران خان صاحب نے یو ٹرن کو اپنی سیاست کابنیادی جزو قرار ئے دیا ہے۔ اسلام آباد میں کالم نگاروں کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں جناب وزیر اعظم نے فرمایا کہ ہٹلر او ر نیپولین بھی تو یوٹرن لیتے تھے۔ شاید خان صاحب نے یہ خیال نہیں کیاکہ یوٹرن کا اُنھیں کیا نقصان ہوا تھا۔ خان صاحب نے خیبر پختون خواہ کی پولیس کو درست کرنیکے دعوئے پر الیکشن لڑا اور اِس دعوئے میں پولیس آفیسر ناصر درانی کا ذکر کرتے رہے۔ ناصر دُرانی صاحب کو پنجاب پولیس کو ٹھیک کرنے کا ٹاسک دیا لیکن اب ناصردُرانی صاحب کا کوئی پتہ نہیں کہ کہاں ہیں۔ نیا آئی جی پنجاب پولیس لگایا اُسے بھی فوری طور پر تبدیل کردیا گیا۔خان صاحب نے اپنی بیگم کے سابقہ شوہر کی شکایت پر یک جنبش قلم اپنے فرماں بردار وزیر اعلی جناب عثمان بہزدار کو کہہ کر ڈی پی او پاکپتن کو تبدیل کردیا۔اِسی طرح ایک اے سی کاتبادلہ کئی مرتبہ کیا گیا۔یوں جگ ہنسائی ہے کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
میری دلی خواہش ہے کہ قوم کی حالت بدلے اور مافیاز نے ہمارئے معاشرئے کے ہر شعبے میں جو پنجے گاڑ رکھے ہیں اِس سے نجات ملے۔لیکن مشرف کی ٹیم کے اراکین پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے فارغ التحصیل الیکٹیبلز اور پرویز الہی جیسے سیاستدان جس طرح کی تبدیلی لا سکتے ہیں وہ سب کو پتہ ہے اورعمران نے اِن سب کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے۔عمران خان کو عوام نے ووٹ کی طاقت سے منتخب کیا ہے اسٹیبلشمنٹ بھی خان صاحب کے ساتھ دیکھائی دیتی ہے۔اِن حالات میں تو عمران کان صاحب کو ڈلیور کرنا چاہیے لیکن فواد چوہدری اور فیاض چوہان جیسے ترجمان ہوتے ہوئے تحریک انصاف کو دُشمنوں کی کیا ضرورت ہے۔
یہ درست ہے کہ تباہ شدہ معیشت خان صاحب کو ورثے میں ملی ہے۔ آپ کچھ کام کرکے دیکھائیں لیکن آئی ایم ایف کا کشکول تھامے قوم نئے پاکستان میں داخل ہوچکی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی عوام نے بہت ہی زیادہ امیدیں باندھ لی تھیں۔عمران خان پاکستانی معاشرئے میں ایک امید کا نشان ہیں۔ عمران خان کے ذاتی کردار پر بات کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر شیخ رشید کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کُشی کے لیے رکھا ہوا تھااور عورت کی حکمرانی کے خلاف طرح طرح کے فتوئے ن لیگ بے نظیر بھٹو کے خلاف شائع کرواتی پھر رہی تھی۔شیخ رشید جو ایک عوامی آدمی ہیں اِنھوں نے نواز شریف کی حمایت میں وہ زبان محترمہ بے نظیر کے خلاف استعمال کی کہ خد اکی پناہ۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوئے شائع کروانے والی ن لیگ اب مستقبل میں مریم نواز کو وزیر اعظم کے لیے بھر پور کو شش میں مصروف عمل ہے۔ اِسی لیے تو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا امیج ن لیگیوں میں اِس طرح کا پینٹ کیا گیا ہے کہ یہ تو اِس اہل ہی نہیں ہیں۔ عمران خان کے اوپنر بیٹسمین جناب اسد عمر کی جانب سے جو رویہ سامنے آیا ہے وہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے لیے بالخصوص اور عوام الناس کے لیے بالعموم انتہائی عجیب ٹھرا ہے۔ موصوف اپوزیشن میں دئیے گئے اپنے ہی بیانوں کے خلاف اندھا دھند بیان داغ رہے ہیں اور تو اور اسحاق ڈار کے ویژن کو بھی درست قرار دئے چکے ہیں اور نواز شریف کی معاشی ٹیم کے لوگوں کو بھی اپنے گلے کا ہار بنائے ہوئے ہیں۔
عمران خان صاحب نے آتے ہی قوم کو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا تحفہ دیا ہے۔ گیس کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ عام آدمی کو تو صرف طفل تسلیاں ہی دی جارہی ہیں۔مہنگائی بے قابو ہو چکی ہے۔
ان حالات میں پی ٹی آئی کا نظریاتی ورکر بے چین ہے۔ گو کہ خان صاحب کو اقتدار میں آئے چند ماہ ہوئے ہیں لیکن دیگ کا ایک دانہ ہی پوری دیگ کا پتہ دیتا ہے۔ اللہ پاک میرئے وطن پر کرم فرمائے اور کان صاحب سے گزارش ہے کہ آپ پاکستان کی تقدیر بدلنے نکلیں ہیں نہ کہ اپنے یوٹرن لینے والے معاملات کا دفاع کرنے ۔ اِس لیے آپ جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کا وعدہ فوری طور پر پورا کریں۔اور پنجاب کے ہر ڈویژن میں لاہور ہائیکورٹ کا بینچ بنائیں تاکہ عوام کو سُکھ کا سانس لینا پڑئے۔ صر چند سو وکلاء اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی خواہشات پر بنچ بناے کے عمل کو نہ روکیں۔ ملتان، بہالپور، راولپنڈی میں لاہور ہائیکورٹ کے بنچ بننے سے کوئی قیامت نہیںآئی بلکہ لوگوں کو اِس سے بے پناہ فائد ہورہا ہے۔ اتنے بڑئے صوبے کے تما م تر اختیارات کو لاہور میں مرتکز کرنا کسی طور پر بھی قومی یک جہتی کے موافق نہیں ہے۔میری رائے میں خان صاحب اِس قوت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ملک چلانے اور کرکٹ کھیلنے میں فرق ہوتا ہے۔خان صاحب نے جو تقریر آسیہ کی رہائی کے بعد کی وہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وہ کتنے پختہ سیاستدان ہیں۔
بائیس سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد حکومت میں آنے والے عمران خان صاحب نے یو ٹرن کو اپنی سیاست کابنیادی جزو قرار ئے دیا ہے۔ اسلام آباد میں کالم نگاروں کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں جناب وزیر اعظم نے فرمایا کہ ہٹلر او ر نیپولین بھی تو یوٹرن لیتے تھے۔ شاید خان صاحب نے یہ خیال نہیں کیاکہ یوٹرن کا اُنھیں کیا نقصان ہوا تھا۔ خان صاحب نے خیبر پختون خواہ کی پولیس کو درست کرنیکے دعوئے پر الیکشن لڑا اور اِس دعوئے میں پولیس آفیسر ناصر درانی کا ذکر کرتے رہے۔ ناصر دُرانی صاحب کو پنجاب پولیس کو ٹھیک کرنے کا ٹاسک دیا لیکن اب ناصردُرانی صاحب کا کوئی پتہ نہیں کہ کہاں ہیں۔ نیا آئی جی پنجاب پولیس لگایا اُسے بھی فوری طور پر تبدیل کردیا گیا۔خان صاحب نے اپنی بیگم کے سابقہ شوہر کی شکایت پر یک جنبش قلم اپنے فرماں بردار وزیر اعلی جناب عثمان بہزدار کو کہہ کر ڈی پی او پاکپتن کو تبدیل کردیا۔اِسی طرح ایک اے سی کاتبادلہ کئی مرتبہ کیا گیا۔یوں جگ ہنسائی ہے کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
میری دلی خواہش ہے کہ قوم کی حالت بدلے اور مافیاز نے ہمارئے معاشرئے کے ہر شعبے میں جو پنجے گاڑ رکھے ہیں اِس سے نجات ملے۔لیکن مشرف کی ٹیم کے اراکین پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے فارغ التحصیل الیکٹیبلز اور پرویز الہی جیسے سیاستدان جس طرح کی تبدیلی لا سکتے ہیں وہ سب کو پتہ ہے اورعمران نے اِن سب کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے۔عمران خان کو عوام نے ووٹ کی طاقت سے منتخب کیا ہے اسٹیبلشمنٹ بھی خان صاحب کے ساتھ دیکھائی دیتی ہے۔اِن حالات میں تو عمران کان صاحب کو ڈلیور کرنا چاہیے لیکن فواد چوہدری اور فیاض چوہان جیسے ترجمان ہوتے ہوئے تحریک انصاف کو دُشمنوں کی کیا ضرورت ہے۔
یہ درست ہے کہ تباہ شدہ معیشت خان صاحب کو ورثے میں ملی ہے۔ آپ کچھ کام کرکے دیکھائیں لیکن آئی ایم ایف کا کشکول تھامے قوم نئے پاکستان میں داخل ہوچکی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی عوام نے بہت ہی زیادہ امیدیں باندھ لی تھیں۔عمران خان پاکستانی معاشرئے میں ایک امید کا نشان ہیں۔ عمران خان کے ذاتی کردار پر بات کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر شیخ رشید کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کُشی کے لیے رکھا ہوا تھااور عورت کی حکمرانی کے خلاف طرح طرح کے فتوئے ن لیگ بے نظیر بھٹو کے خلاف شائع کرواتی پھر رہی تھی۔شیخ رشید جو ایک عوامی آدمی ہیں اِنھوں نے نواز شریف کی حمایت میں وہ زبان محترمہ بے نظیر کے خلاف استعمال کی کہ خد اکی پناہ۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوئے شائع کروانے والی ن لیگ اب مستقبل میں مریم نواز کو وزیر اعظم کے لیے بھر پور کو شش میں مصروف عمل ہے۔ اِسی لیے تو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا امیج ن لیگیوں میں اِس طرح کا پینٹ کیا گیا ہے کہ یہ تو اِس اہل ہی نہیں ہیں۔ عمران خان کے اوپنر بیٹسمین جناب اسد عمر کی جانب سے جو رویہ سامنے آیا ہے وہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے لیے بالخصوص اور عوام الناس کے لیے بالعموم انتہائی عجیب ٹھرا ہے۔ موصوف اپوزیشن میں دئیے گئے اپنے ہی بیانوں کے خلاف اندھا دھند بیان داغ رہے ہیں اور تو اور اسحاق ڈار کے ویژن کو بھی درست قرار دئے چکے ہیں اور نواز شریف کی معاشی ٹیم کے لوگوں کو بھی اپنے گلے کا ہار بنائے ہوئے ہیں۔
عمران خان صاحب نے آتے ہی قوم کو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا تحفہ دیا ہے۔ گیس کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ عام آدمی کو تو صرف طفل تسلیاں ہی دی جارہی ہیں۔مہنگائی بے قابو ہو چکی ہے۔
ان حالات میں پی ٹی آئی کا نظریاتی ورکر بے چین ہے۔ گو کہ خان صاحب کو اقتدار میں آئے چند ماہ ہوئے ہیں لیکن دیگ کا ایک دانہ ہی پوری دیگ کا پتہ دیتا ہے۔ اللہ پاک میرئے وطن پر کرم فرمائے اور کان صاحب سے گزارش ہے کہ آپ پاکستان کی تقدیر بدلنے نکلیں ہیں نہ کہ اپنے یوٹرن لینے والے معاملات کا دفاع کرنے ۔ اِس لیے آپ جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کا وعدہ فوری طور پر پورا کریں۔اور پنجاب کے ہر ڈویژن میں لاہور ہائیکورٹ کا بینچ بنائیں تاکہ عوام کو سُکھ کا سانس لینا پڑئے۔ صر چند سو وکلاء اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی خواہشات پر بنچ بناے کے عمل کو نہ روکیں۔ ملتان، بہالپور، راولپنڈی میں لاہور ہائیکورٹ کے بنچ بننے سے کوئی قیامت نہیںآئی بلکہ لوگوں کو اِس سے بے پناہ فائد ہورہا ہے۔ اتنے بڑئے صوبے کے تما م تر اختیارات کو لاہور میں مرتکز کرنا کسی طور پر بھی قومی یک جہتی کے موافق نہیں ہے۔میری رائے میں خان صاحب اِس قوت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ملک چلانے اور کرکٹ کھیلنے میں فرق ہوتا ہے۔خان صاحب نے جو تقریر آسیہ کی رہائی کے بعد کی وہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وہ کتنے پختہ سیاستدان ہیں۔
Sunday, 4 November 2018
Tuesday, 23 October 2018
زرداری کے حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کی حقیقت Written By صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
زرداری کے حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کی حقیقت
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمیپاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی عوام نے بہت ہی زیادہ امیدیں باندھ لی تھیں۔عمران خان پاکستانی معاشرئے میں ایک امید کا نشان ہیں۔ عمران خان کے ذاتی کردار پر بات کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر شیخ رشید کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کُشی کے لیے رکھا ہوا تھااور عورت کی حکمرانی کے خلاف طرح طرح کے فتوئے ن لیگ بے نظیر بھٹو کے خلاف شائع کرواتی پھر رہی تھی۔شیخ رشید جو ایک عوامی آدمی ہیں اِنھوں نے نواز شریف کی حمایت میں وہ زبان محترمہ بے نظیر کے خلاف استعمال کی کہ خد اکی پناہ۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوئے شائع کروانے والی ن لیگ اب مستقبل میں مریم نواز کو وزیر اعظم کے لیے بھر پور کو شش میں مصروف عمل ہے۔ اِسی لیے تو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا امیج ن لیگیوں میں اِس طرح کا پینٹ کیا گیا ہے کہ یہ تو اِس اہل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو تھیں کالم کے آغاز میں ماضی اور حال سے جڑی ہوئی باتیں۔
عمران خان کی جانب سے ایسا بیان کہ نوکر شاہی تعاون نہیں کر رہی ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا کبھی کہتے ہیں کہ جانا ہے۔ عمران خان کے اوپنر بیٹسمین جناب اسد عمر کی جانب سے جو رویہ سامنے آیا ہے وہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے لیے بالخصوص اور عوام الناس کے لیے بالعموم انتہائی عجیب ٹھرا ہے۔ موصوف اپوزیشن میں دئیے گئے اپنے ہی بیانوں کے خلاف اندھا دھند بیان داغ رہے ہیں اور تو اور اسحاق ڈار کے ویژن کو بھی درست قرار دئے چکے ہیں اور نواز شریف کی معاشی ٹیم کے لوگوں کو بھی اپنے گلے کا ہار بنائے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی انتہائی بدقسمتی ہوگی کہ عمران خان اگر فیل ہو جاتے ہیں یقینی طور پر کرکٹ کھیلنے اور ملک چلانے میں بہت فرق ہے۔ لیکن عمران خان دیانتدار اور بہادر آدمی ہیں نمل کالج میانوالی اور شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر اور اِن ہر دو اداروں کا پاکستان کے عام لوگوں کو خدمات دینا اِس با ت کی دلالت ہے کہ عمران خان کے اندر قائدانہ صلاحیتیں بدرجہ اُتم موجود ہیں۔ اِس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ عمران خان کی نجی زندگی کو بہت زیادہ سکینڈلائز کیا گیا ہے ، یہ ن لیگ کے پاس ایک بہت بڑا ہتھیار رہا ہے کہ وہ خود کو رائٹ ونگ کی جماعت کہتی رہی ہے اور اسلام پسندی کا لیبل لگا کر مخالف سیا ستدانوں پر اخلاقی الزمات لگاتی رہی ہے۔بے نظیر بھٹو کے معاملے میں بھی ن لیگ یہ کر چکی ہے۔عمران خان کے خلاف تو سب کچھ کل کی بات ہے۔
عمران خان کی جانب سے اقتصادی مسائل کے حل کے لیے ٹیم کا نہ ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ کنٹینر کی سیاست کے بعد جب حکومت ملی ہے تو عمران خان کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا ہے۔ اپوزیشن کرنا بڑا آسان کام ہے پاکستان جسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں ہمیشہ سے مخالفین کی عزتوں کا جنازہ نکالا جاتا رہا ہے ا س ماحول میں تحریک انصاف نے بہت زبردست اپوزیشن کی ہے ۔ بلکہ فواد چوہدری اورفیاص الحسن چوہان جیسے لوگ ایسے کاموں کے لیے ہی رکھے جاتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں نیب کاادارہ اپنا امیج بہتر نہیں بنا سکا۔ اعلیٰ عدلیہ بھی نیب سے شاکی رہتی ہے۔ اِن حالات میں جب شہباز شریف کو نیب کی حراست میں کا فی دن گزر چکے ہیں اور ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی کارکردگی بھی منفی رہی ہے۔ عام تاثر یہی اُبھر رہا ہے کہ عمران خان سے حکومت سنبھالی نہیں جارہی اوپر سے موصوف خود فرما چکے ہیں کہ بیوروکریسی اُن کے قابو میں نہیں۔یہ باتیں عمران خان جیسے رہنماء کے لیے بہتر نہیں ہیں۔ عوامی سوچ میں تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے کہ عمران فیل ہو رہا ہے۔پنجاب پاکستان کا ساٹھ فی صد ہے پنجاب حکومت میں ایک کمزور شخص کو وزیر اعلیٰ لگا کر عمران خان نے خود ہی اِس تاثر کو ہوا دی ہے کہ عمران خان حکومت کرنے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ علیم خان کے خلاف بھی نیب میں کیس ہیں لیکن وہ اِس وقت اصلی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔سوئی گیس کی قیمت میں اضافہ، میٹرو کے کرائے میں سبسڈی ختم کرنے کا ا علان ، یہ غریبوں کو حکومت کیا پیغام دئے رہی ہے۔
آصف زرداری کی جانب سے حکومت کے خلاف متفقہ قرار داد لانے کی بات کی۔مولانا فضل الرحمان، آصف زرداری، شریف خاندانموجودہ حالات میں ایک پیج پر آچکے ہیں۔ عمراں خان کے خلاف یہ سب لوگ متحد ہو چکے ہیں۔ عمران خان نے سینٹ کے چیئرمین کے لیے آصف زردار ی کے ساتھ مل کر اکثریتی پارٹی ن لیگ کو چِت کر دیا تھا اور اِس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آصف علی زردار ی کے پیچھے اسٹبلشمنٹ تھی اور ہے۔ میرئے اِس قیاس کو بس قیاس ہی سمجھیں کہ عمران خان کی جانب سے تین ماہ کے اندر ہی ہاتھ کھڑئے کرنا درحقیقت نادیدہ قوتوں کا ایجنڈا ہو سکتا ہے۔ عمران کی حکومت میں چوہدری پرویز الہی پنجاب میں اہم پوزیشن میں ہیں اُن کے بیٹے اور بھتیجے بھی قومی اسمبلی کے رکن بن چکے ہیں۔ پرویز الہی زرداری کی حکومت میں نائب وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ چوہدری برادران کسی وقت بھی زرداری کے ساتھ مل کر حکومتی بساط اُلٹ سکتے ہیں اور ن لیگ اِن حالات میں چوہدریوں اور زرداری کی ہر بات ماننے کے لیے تیار ہو جائے گی۔ اِس خاکسار کے خیال میں عمران خان کا بہت بڑا کارنامہ اسٹیٹس کو کو توڑنا تھا لیکن اسٹیٹس کو کی قوتیں عمران خان کو ناکام بنانے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ زردرای کی جانب سے جس طرح منی لانڈرنگ کی گئی ہے اُِس کے کے گرد اب گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے اِس لیے زرداری حکومت کو کھلی دھمکی دئے رہا ہے ۔سعودی عرب کی جانب سے صحافی کے قتل کے بعد حالات کا نزلہ پاکستان پر بھی گر سکتا ہے کیونکہ ترکی ہمارے بہت قریب ہوچکا ہے۔اِن حالات مین زرداری کی جانب سے حکومت کے خلاف اعلان جنگ بہت بڑا اعلان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اِسے نظر انداز نہ کرئے
Subscribe to:
Posts (Atom)
انٹرنیشنل ہیومین رائٹس موومنٹ اور لائیرز سٹرٹیجیک کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے سامنے یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ کی زیر سرپرستی اور امریکی سفارتخانےاسلام آباد کے زیراہتمام پاکستانی میں چلنے والی انٹرنیشنل غیر رجسٹرڈ این پاک یو ایس ایلیومینائی نیٹ ورک کو فوری طور پر بین کرنے کے حوالے سے پرامن احتجاجی مظاہرہ
انٹرنیشنل ہیومین رائٹس موومنٹ اور لائیرز سٹرٹیجیک کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے سامنے یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ...
-
ہبہ/ گفٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ پاکستان کی تشریح صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 2017SCMR-1110 کے مطابق سپریم کورٹ آ...
-
تاج الشریعہ حضرت مفتی اختر رضا خان الازہریؒ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی نبیرہ اعلیٰ حضرت تاج الشریعہ حضر...





