Wednesday, 8 June 2016
Tuesday, 7 June 2016
............میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کی شمولیت پاکستانی وزارتِ خارجہ سو رہی ہے...صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ
میں بھارت کی شمولیت
پاکستانی وزارتِ خارجہ سو رہی ہے
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
پاکستان کی حکومت ہوا میں معلق نظر آرہی ہے۔ وزیر اعظم صاحب کو اللہ پاک صحت کاملہ عطا فرمائے وہ لندن میں علاج کروا رہے ہیں۔ اگر جنرل رحیل شریف آئے دن بھارتی اور امریکی جارحیت کے خلاف بیانات جاری نہ کریں تو قوم کے مورال کا حال کیا ہو۔ اِس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مودی ، افغانستان، ایران، قطر، امریکہ ، سعودی عرب سب کے ساتھ معاشی سماجی منصوبے بناتا جارہا ہے اور ہمارئے ہاں قوم انرجی بحران میں پھنسی ہوئی ہے۔ معاشی اشارئیے ظاہر کر رہے ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے۔ اسحاق ڈار جو کہ جمع تفریق کے ماہر ہیں اُن کے نزدیک غربت پاکستان میں ہے ہی نہیں کیونکہ وہ خود کھاتے پیتے گھرانے سے ہیں اُنھیں اندازہ ہے کہ اگر پاکستان کے لوگوں کو روٹی نہیں ملے گے تو یہ لوگ کیک کھا لیں گے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ بھارت اور امریکہ کی پیار کی پینگیں کیا رنگ لا رہی ہیں۔ امریکہ ہمارئے اوپر ڈرون حملے کر رہے ہیں اور بھارت کو نیوکلر سپلائر گروپ میں خوش آمدید کہہ رہا ہے۔پاکستانی فوج کے سربرا نے قوم کا مورال بلند کیے رکھا ہے ۔ لیکن سیاسی حکومت جو کہ وزیر اعظم کی بیماری کیوجہ سے اسحاق ڈار کے ہاتھ میں ہے ۔ اللہ پاک خیر کرئے۔امریکی صدر اوباما سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، امریکی صدر نے میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کی شمولیت کی حمایت کردی۔ اوباما سے وائٹ ہاؤس میں بھارتی وزیراعظم نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، ٹیکنالوجی، سائبرسکیورٹی اور سول نیوکلیئر تعاون سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیا ل کیا گیا۔ وائٹ ہاؤ س پہنچنے پر مودی کو گارڈ آف انر پیش کیا گیا، دونوں ممالک میں نئے دفاعی معاہدہ اور امریکہ کی بھارت کے جوہری صنعت میں سرمایہ کاری پر بات ہو ئی۔میڈیا کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہاکہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعلق ہے، امریکہ اور بھارت دنیا کی دو بڑی جمہوریتیں ہیں۔ بھارت کے ساتھ نیوکلیئر سول تعاون میں پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک سائبر سکیورٹی کے حوالے سے مل کرکام کرناچاہتے ہیں، دورہ بھارت سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کی شمولیت کی حمایت کرتے ہیں۔ اس موقع پر مودی نے کہا کہ نیوکلیئر سول ٹیکنالوجی میں تعاون پر پیشرفت کیلئے اتفاق ہوا ہے۔ سائبر سکیورٹی پر ساتھ کام کرنے پر اتفاق ہوا ہے، اوباما نے میزائل ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر سپلائر گروپس میں شمولیت پر حمایت کی ہے جس پر انکا شکر گزار ہوں۔ بھارت ایک نوجوان ملک ہے اور امریکہ بھارت کے ٹیلنٹ سے بخوبی آگاہ ہے ہم مل کر اس طاقت کو دنیا کی بہتری کیلئے استعمال کرنے کیلئے کام کریں گے۔ امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو بڑھایا جائے گا۔ہم کندھے سے کندھا ملا کر کام کررہے ہیں، امریکی صدر کے ساتھ خطے میں امن وامان کے مسائل سمیت بہت سے ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 2014 میں وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سے مودی کا یہ امریکہ کا چوتھا دورہ ہے اور صدر اوباما سے ساتویں ملاقات ہے۔ یاد رہے کہ مودی پانچ ممالک کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے افغانستان، قطر اور سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کر لیا ہے جبکہ امریکہ کے بعد وہ میکسیکو جائیں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت اور میزائل ٹیکنالوجی رجیم میں شمولیت کی حمایت کرنے پر قریبی دوست اوباما کے شکرگزار ہیں۔ مودی نے کہا کہ اوباما کے ساتھ دہشت گردی‘ گلوبل وارمنگ کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ اوباما نے کہا کہ دونوں ملک مستقبل میں بھی مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وسیع تعاون ترقی پذیر ممالک کیلئے مددگار ہوگا۔ مودی نے کہا کہ دونوں ملک کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں گے۔ انہوں نے دورے کی دعوت دینے پر امریکی کانگریس کا بھی شکریہ ادا کیا۔ میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم کے ارکان نے گروپ میں بھارت کو داخل کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ مودی کی اوباما سے ملاقات کے حوالے سے اسے اہم کامیابی خیال کیا جا رہا ہے۔ معاملے سے آگاہ بھارتی سفیروں نے بتایا کہ میزائل ٹیکنالوجی کے عدم پھیلاؤ کیلئے بنائے گئے 34 ملکوں کے اس گروپ کے ارکان کیلئے بھارت کے داخلے پراعتراض کی مدت پیر کے روز ختم ہو گئی ہے۔ اس مدت کے دوران کسی رکن نے اعتراض نہیں کیا، اب بھارت کے گروپ میں شمولیت خود بخود ہو جائے گی۔ ایم ٹی سی آر میں شمولیت کے بعد بھارت اعلیٰ میزائل ٹیکنالوجی خرید سکے گا اور امریکی پریڈیٹر کی طرز کے سٹیٹ آف دی آرٹ نگران ڈرون بنانے کی اپنی خواہش پر عملدرآمد کے بھی قابل ہوجائے گا۔ بھارت نے روس کے ساتھ ملکر سپرسانک کروز میزائل بھی بنائے ہیں دونوں ملک ان میزائلوں کو تیسرے ملک کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ گروپ میں شمولیت کے بعد بھارت پہلی مرتبہ اسلحہ کا اہم ایکسپورٹر بن جائے گا۔ ایم ٹی سی آر کی ممبر شپ کے ضوابط کے تحت بھارت کو زیادہ سے زیادہ میزائل رینج 300کلومیٹر کرنا ہوگی۔ خیال رہے اٹلی نے پہلے بھارت کی گروپ میں شمولیت کو مسترد کیا تھا تاہم اس مرتبہ 10 لائن کی دی گئی ڈیڈ لائن میں اس نے اعتراض نہیں کیا۔ اوباما اور مودی کی ملاقات میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق دونوں ملک بھارت میں 6 ایٹمی ری ایکٹر بنانے کیلئے ابتدائی خاکہ تیار کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ دووں ملک اے پی 1000 نیوکلیئر ری ایکٹر کے حوالے سے فوری طورپر کام کا آغاز کریں گے جس میں انجینئرنگ اور دیگر جگہ کا انتخاب ہوگا جبکہ جون 2017ء تک اس کو معاہدے کی شکل دی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں نے اس کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ بھارت اور امریکہ کے بنک اس منصوبے کیلئے سرمایہ کاری پر کام کریں گے۔ یہ سول ایٹمی معاہدے میں اہم پیش رفت ہے۔ اوباما کاکہنا تھا کہ بھارت کو ترقی کیلئے ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کو میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم (ایم ٹی سی آر) کی رکنیت دیدی گئی ہے۔ بھارتی دفاعی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کو (ایم ٹی سی آر) میزائل ٹیکنالوجی کے کنٹرول کے سمجھوتے کا رکن بنانے کی جو 34 ملک مخالفت کررہے تھے، انہوں نے مقررہ مدت کے دوران کوئی اعتراض نہیں کیا اسلئے بھارت کے ایم ٹی سی آر کا رکن بننے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ بھارتی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سمجھوتے کا رکن بننے کے بعد بھارت میزائل ٹیکنالوجی آسانی سے حاصل کرسکے گا۔ بھارت جدید ترین جاسوسی ڈورن بنانے کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کر یگا۔
Saturday, 4 June 2016
لاؤں تجھ سا کہاں سے۔ محمد علی کلےؒ........................... صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
لاؤں تجھ سا کہاں سے۔ محمد علی کلےؒ
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
آج سے چالیس سال قبل انوکی اور محمد علی کا مقابلہ ہوا تھا۔ انوکی اور محمد علی کے درمیان ہونے والے اِس مقابلے کے نقوش میرئے دل و دماغ انمٹ ہیں۔ راقم اُس وقت آٹھ سال کا تھا اور ٹی وی پر یہ مقابلہ دیکھا تھا۔اُس وقت سے لاشعور میں محمد علی سے محبت سرایت کر گئی۔ یوں اب تک محمد علی سے محبت عشق کی حد تک ہے اور ہمیشہ رہے گی۔محمد علی اُسوقت عالمی اُفق پر چمکا جب ذرائع مواصلات ، ٹی وی چینلزناپید تھے۔ پاکستان میں صرف چند گھنٹے کی نشریات پی ٹی وی کی تھیں۔ پاکستانی عوام نے محمد علی کو پیار اور محبت دی جو کہ ایک عظیم لیڈر کو دی جاتی ہے۔ یقینی طور پر عالم اسلام کے لیے ایک قابل فخر سرمایہ محمد علی تھے۔محمد علی چونکہ ایک سپورٹس مین تھے۔ اِس لیے پوری دنیا کے میڈیا کی نظر اُن پر رہتی تھی۔ پھر عین جوانی میں اِس امریکی نیگرو باکسر نے اسلام قبول کرکے پوری دُنیا کو حیران کر دیا ۔ عالم اسلام کے لیے قابل فخر سرمایہ محمد علیؒ لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے۔ باکسر محمد علی کلے 74 برس کی عمر میں انتقال کرگئےَ ۔محمد علی کو سانس کی تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیاتھا۔امریکی میڈیا کے مطابق 74 سالہ محمد علی امریکی شہر فونیکس کے ایک اسپتال میں کئی روز سے زیر علاج تھے، انہیں سانس کی تکلیف لاحق تھی۔محمد علی کلے امریکی ریاست کنٹکی کے شہر لوئسویل میں ایک عیسائی گھر میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کیسیئس مارسیلس کلے سینئر کے نام پر کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر کہلائے۔ محمد علی کلے کو اس وقت شہرت حاصل ہوئی جب انہوں نے 1960 میں روم میں ہونے والے اولمپِک مقابلوں میں سونے کا تمغا جیتا لیکن جب وہ اپنے شہر واپس آئے تو انہیں سیاہ فام ہونے کی وجہ سے نوکری نہیں مل سکی، جس سے دلبرداشتہ ہوکر انہوں نے اپنا تمغہ دریا میں پھینک دیا تھا۔ اپنے ساتھ روا رکھے گئے برتاؤ کے باوجود باکسنگ رنگ میں ان کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ویت نام کی جنگ کے دوران محمد علی نے امریکی فوج میں شامل ہونے کے عہد نامے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں انہیں ان کے اعزاز سے محروم کردیا گیا اور 5 سال کی سزا سنائی گئی تاہم عوامی احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سزا سے مستثنٰی قرار دیا گیا۔1974 میں محمد علی کلے نے جارج فورمین کو شکست دے کر ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا وقار اور شہرت حاصل کرلی۔ اس وقت محمد علی کی عمر صرف 32 سال تھی اور وہ اس عالمی چیمپئین کا اعزاز پھر سے جیتنے والے دوسرے شخص تھے۔ 1975 میں وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور اپنا نام محمد علی کلے رکھا۔ 1978 میں محمد علی کو اس وقت بڑا دھچکہ لگا جب وہ خود سے 12 برس کم عمر لیون اسپِنکس سے ہار گئے لیکن 8 ماہ بعد محمد علی نے اسپِنکس کو شکست دے کر ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا اعزاز دوبارہ حاصل کرلیا تاریخ میں پہلی بار کسی کھلاڑی نے تیسری بار عالمی اعزاز جیتا۔ اس وقت ان کی عمر 36 سال تھی۔1980 میں ان کی صحت کے بارے میں خدشات نے جنم لینا شروع کردیا اور ڈاکٹروں نے انہیں‘‘پارکنسنس سنڈروم’’(رعشہ) کا شکار پایا۔ باکسنگ سے کنارہ کشی اختیار کرتے وقت محمد علی کرہ ارض پر سب سے زیادہ شہرت یافتہ شخص تھے۔ دنیا بھر کے مسلمان اور سیاہ فام آج بھی محمد علی کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ محمد علی نے اپنے 20 سالہ کیرئیر میں 56 مقابلے جیتے اور 37 ناک آؤٹ اسکور کیا لیکن دنیا ہمیشہ انہیں ایک عظیم شخص کے نام سے جانتی رہے گی۔محمد علی کے انتقال پر عالمی سیاسی اور کھیلوں سے تعلقات رکھنے والی شخصیات سمیت دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے خالق کے حضور اب تشریف لے گئے ہیں۔ جن رفعتوں، سعادتوں کو محمد علی ؒ نے اپنی ظاہری حیات میں حاصل کیا۔ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ شاید ہی کسی کھلاڑی کے لیے یہ جذبات انسانوں کے ہوں۔انھوں نے سنہ 1960 میں روم اولمپکس میں لائٹ ہیوی ویٹ میں طلائی تمغہ حاصل کرکے شہرت حاصل کی تھی۔ان کے نام کے ساتھ ’گریٹیسٹ‘ یعنی عظیم ترین لگایا جاتا ہے۔ انھوں نے 1964 میں سونی لسٹن کو شکست دے کر پہلا عالمی خطاب حاصل کیا تھا اور پھر تین بار یہ خطاب حاصل کرنے والے وہ پہلے باکسر بنے تھے۔انھوں نے 61 مقابلوں میں 56 مقابلے جیت کر بالآخر سنہ 1981 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔انھیں سپورٹس السٹریٹڈ نے ’سپورٹس مین آف دا سنچری‘ کے خطاب سے نوازا تو بی بی سی نے انھیں ’سپورٹس پرسنالٹی آف دا سنچری‘ کا خطاب دیا۔ محمد علی مقابلے سے قبل اور اس کے بعد دینے جانے جانے والے بیانات کے وجہ سے معروف تھے۔ وہ رنگ میں جس قدر اپنا ہنر دکھاتے اسی قدر رنگ کے باہر اپنے بیانات سے لوگوں کو محظوظ کرتے۔اس کے علاوہ وہ شہری حقوق کے علمبردار اور شاعر بھی تھے۔ان سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ وہ کس طرح یاد کیا جانا چاہیں گے تو انھوں نے کہا تھا: ’ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے کبھی اپنے لوگوں کا سودا نہیں کیا۔ اور اگر یہ زیادہ ہے تو پھر ایک اچھے باکسر کے طور پر۔ مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا اگر آپ میری خوبصورتی کا ذکر نہ کریں۔لیجنڈری محمد علی نے چار شادیاں کیں، دوسری بیوی سے ان کے چاراورتیسری بیوی سے دو بچے ہیں۔ ان کی ایک بیٹی لیلیٰ علی باکسررہ چکی ہیں۔ان کی پہلی شادی کسی فلم کی کہانی سے کم نہیں۔
جون 1964 کی ایک رات محمد علی سونجی رائے نامی ایک ویٹریس سے ملے اور رات ہی شادی کی پیشکش کردی اور ایک ماہ بعد اگست 1964 میں شادی کرلی۔ شادی کے وقت محمد علی کی عمر 22 اور ان کی اہلیہ موجی رائے کی عمر 23 سال تھی۔ محمد علی اپنی اہلیہ کے ساتھ ڈیڑھ سال تک ساتھ رہے اور جنوری 1966 میں علیحدگی اختیار کرلی۔محمد علی کی پہلی اہلیہ سے کوئی اولاد نہیں ہے۔ پہلی شادی کے ایک سال بعد محمد علی نے اپنے سے 8 سال چھوٹی بلینڈا بوئیڈ نامی خاتون سے شادی کی جو اس وقت صرف 17 سال کی تھی۔ شادی کے بعد ان کی اہلیہ نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام خلیلہ علی رکھا۔ خلیلہ سے ان کے چار بچے ہیں مریم، جمیلہ، رشیدہ اور محمد علی جونیئر۔
1974 میں محمد علی کا ایکٹریس ویرونیکا پروش سے افئیر چلا جب ایکٹریس کی عمر صرف 18 سال تھی۔ خلیلہ سے شادی برقرار اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ایکٹریس ویرونیکا پروش سے 1974 میں ہی خفیہ شادی کی جبکہ 1977 میں انھوں نے باضابطہ شادی کی۔ویرونیکا پروش سے ان کی دو بیٹیاں ہانا اور لیلیٰ تھیں۔ محمد علی اور ویرونیکا کی شادی 9 سال بعد ختم ہوئی۔ محمد علی نے چوتھی شادی اپنی پرانی دوست یولنڈا ولیمز سے 1986 میں کی اور محمد علی کی موت تک تیس سال ان کے ساتھ رہیں۔ محمد علی اور یولنڈا نے پانچ ماہ کے بچے کو بھی گود لیا جس کا نام اساد امین ہے۔محمد علی کی بیٹی لیلیٰ علی نے 18 سال کی عمر سے باکسنگ کا آغاز کیا اور اپنی آخری فائٹ 2007 میں کی۔ ۔ محمد علیؒ جیسے لوگ کبھی نہیں مرتے۔ اِن کی یادوں کے چراغ ہمیشہ کروڑوں دلوں میں محبت کی شمع فراوزں کیے رکھیں گے۔اللہ پاک جناب محمد علیؒ کو نبی پاک ﷺ کے طفیل جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
سابق وفاقی وزیرصاحبزادہ حامد سعید کاظمی کی سزا کے محرکات اور حقائق.................... صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
سابق وفاقی وزیرصاحبزادہ حامد سعید کاظمی کی سزا کے
محرکات اور حقائق
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
پیپلز پارٹی کے زرداری دور حکومت میں نظامِ مصطفےٰ پارٹی کے سربراہ صاحبزادہ حامد سعید کاظمی نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں وفاقی وزیر امور مذہبی و امور حج بنے۔ اِس دوران حج سکینڈل سامنے آیا جس میں کرپشن کی ہوش اُڑا دینے والی داستانیں منظر عام پر آئیں۔صاحبزادہ حامد سعید کاظمی گرفتار ہوئے بعد ازاں ضمانت پر رہا ہوئے۔ اُن کا ٹرائل سپیشل سنٹرل کورٹ اسلام آباد میں ہوا اور جون کی تین تاریخ 2016 کو اُنھیں بارہ سال قید اور14 کروڑ اور 85 لاکھ جُرمانے کی سزا سُنائی گئی۔ پاکستان میں عدلیہ کے فیصلوں کو وہ سند حاصل نہیں ہے جس کا تقاضا انصاف کرتا ہے۔ وجہ وہی ہے کہ بڑا آدمی جب جُرم کرتا ہے تو صاف بچ نکلتا ہے اور غریب آدمی کے جُرم پر اُسے ایسی سزا ملتی ہے کہ وہ اور اُس کی آنے والی سات نسلیں بھی یاد رکھتی ہیں۔دنیا بھر کے معاشروں میں انصاف کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے وجہ صاف ظاہر ہے کہ حکمران اشرافیہ نے اپنی مرضی کے افراد کو کرسی انصاف پر نوکری دئے رکھی ہوتی ہے۔ یوں جو کام ملازم کا ہے وہی کام اُس نے سر انجام دینا ہوتا ہے۔لیکن پاکستان میں شاہ و گدا کا انجام بعض اوقات ایک جیسا بھی ہوا ہے جب شاہ ہی گدا بنا دیا گیا ہو۔ جب بڑی طاقتیں امریکہ وغیرہ کسی کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں تو تب پھر منتخب وزیر اعظم کو پھانسی پہ لٹکا دیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم گیلانی کو نااہل قرار دئے دیا جاتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں عدالتیں انصاف کے لیے آنے والوں سے ایسا سلوک کرتی ہیں کہ وہ معاشی طور پر نفسیاتی طور پر دیوالیہ ہوجاتا ہے لیکن اُسے انصاف نہیں ملتا۔ ایک کیس میں اگر اُس کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو اُس فیصلے کے خلاف اپیل پھر ایک نیا باب کھل جاتا ہے اگر دو تین دہائیاں سخت محنت کے بعد اپیل کا فیصلہ اُس کے حق میں آتا ہے تو پھر ایک اور اپیل۔ یوں ستم کا سلسلہ دراز تر ہوتا چلا جاتا ہے۔پاکستان کے سماجی ڈھانچے میں جا گیر داروں وڈیروں سرمایہ داروں کے علاوہ ایک اور طبقہ بھی اب معاشی اور سماجی طور پر کافی مضبوط ہے اور وہ ہیں۔ گدی نشین، سجادہ نشین اور پیر۔مذہبی جذبات اور روایتی پیر پرستی کی وجہ سے پیروں کی اولادوں نے اپنے حلقہ اثر کے دائرہ کار کو بڑھایا ہے اور خانقاہی نظام کے سرپرستوں کی اولادوں نے ہی اِس نظام کو برباد کر دیا ہے۔سندھ اور پنجاب میں تو بہت بڑئے بڑئے وڈیرئے بھی پیر ہیں اور یوں مذہبی چھاپ کی وجہ سے وٹرووں کے ساتھ اُن کے عقیدت مندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔یوں یہ پیر جس پارٹی میں ہوتے ہیں مرید بے چارئے اُس پارٹی کا دفاع کرتے ہیں۔صاحبزادہ حامد سعید کاظمی جو کہ نہ تو کسی جاگیر دار وڈیرئے کی اولاد ہیں اُن کے والد محترم تو ایک عظیم علمی وروحانی شخصیت تھے غزالی دوراں کا خطاب کے حامل جناب احمد سعید کاظمی صاحبؒ نے تشنگان علم و روحانیت کو اپنے فیض سے بہرہ مند فرمایا۔
اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے 5 برس بعد حج کرپشن کیس میں سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی، سابق جوائنٹ سیکرٹری راجہ آفتاب السلام اور سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو جرم ثابت ہونے پر سزا کا حکم سنا دیا ہے۔ عدالت نے سابق وزیرمذہبی امور اور سابق جوائنٹ سیکرٹری کو 12، 12 سال قید اور پندرہ پندرہ کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے جبکہ مقدمے کے مرکزی ملزم سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو مجموعی طورپر 40سال قید اور 15کروڑ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا گیا۔ تینوں ملزموں پر سال 2010 کے حج انتظامات کے دوران مالی بے ضابطگی کے الزامات تھے۔ جن کے مطابق انہوں نے جدہ، مکہ اور مدینہ میں پاکستانی
عازمین حج کے لئے عمارتیں کرائے پر لینے کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگی کی اور اس ضمن میں حجاج کرام سے کروڑوں روپے زائد وصول کئے۔ عدالتی فیصلے کے بعد تینوں ملزموں کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا اور ہتھکڑیاں لگا کر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ حامد سعید کاظمی اور راجہ آفتاب السلام کو جرمانہ اداکرنے پر بارہ سال قید کی سزا سنائی ہے، عدم ادائیگی پر دونوں کو مزید چار سال قیدکاٹنا ہو گی۔ عدالت نے سابق وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور سابق جوائنٹ سیکرٹری مذہبی امور راجہ آفتاب السلام کو سیکشن 409/34 تعزیرات پاکستان کے تحت چھ سال قید جبکہ دفعہ 420249468249471 تعزیرات پاکستان کے تحت مزید چھ سال کی سزا اور پندرہ پندرہ کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے حج کرپشن کیس کے مرکزی ملزم سابق ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل کو 409/34 کے تحت چھ سال قید اور 14کروڑ 73لاکھ 97ہزار چھ سو روپے جرمانہ کی سزا عدم ادائیگی پر دو سال مزید قید راوشکیل پر دفعہ 420249468 اور 471کے تحت بالترتیب چھ چھ سال قید اور دس دس لاکھ روپے بالترتیب جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ عدم ادائیگی پر دو دو سال بالترتیب مزید قید کی بھی سزا سنائی گئی ہے۔ ملزم کو زیر دفعہ 5(2)47 پی سی اے کے تحت 6سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ عدم ادائیگی کی صورت میں دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے مذکورہ کیس میں اشتہاری قرار دیے جانے والے ملزم احمد فیض کی درخواست ضمانت منسوخ کردی تھی جس پر ملزم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔ عدالت نے ملزم احمد فیض کا کیس الگ سے چلانے کا بھی حکم دیا ہے۔ ملزم 30 روز کے اندر فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں حامد سعید کاظمی اور راؤ شکیل احمد نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلہ سے مطمئن نہیں وہ اس فیصلہ کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ راؤ شکیل کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت موجود ہے اور
امید ہے وہ ہمیں انصاف دے گا۔ حامد سعید کاظمی نے کہا ہے الزامات بے بنیاد ہیں، حج کرپشن میں ان کو پھنسایا گیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ تینوں ملزموں پر 2010ء کے حج انتظامات کے دوران مالی بے ضابطگیوں کے الزامات تھے، عازمین حج کیلئے مکہ اور مدینہ میں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ کرائے پر عمارتیں لی گئی تھیں، اس وقت ایک سعودی شہزادے نے سپریم کورٹ کو معاملے کا نوٹس لینے کیلئے خط لکھا تو سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کی تفتیش ایف آئی اے کے سپرد کی، ایف آئی اے نے اس کیس میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کی اہلیہ اور بیٹے عبدالقادر گیلانی کو بھی شامل تفتیش کیا۔ ان پر سابق ڈی جی حج راؤ شکیل سے مبینہ طور پر 5کروڑ روپے کے عوض انہیں ڈی جی حج تعینات کرنے کا الزام تھا تاہم تفتیش کے بعد ان کا نام مقدمے سے خارج کر دیا گیا۔ سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی پر مالی بدعنوانی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا تاہم اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے راؤ شکیل اور فیض احمد نامی شخص کی سعودی عرب میں تعیناتی کے شواہد موجود تھے۔ ملزموں پر الزام تھا کہ انہوں نے مکہ اور مدینہ میں پاکستانی عازمین حج کیلئے عمارتیں کرائے پر لینے کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگی کی اور اس ضمن میں حجاج کرام سے کروڑوں روپے زائد وصول کئے۔ بی بی سی کے مطابق مجرموں کی سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی اور اس لحاظ سے یہ 6 سال کا عرصہ جیل میں گزاریں گے۔حامد سعید کاظمی کو اِس کیس میں ایک سازش کے تحت پھنسایا گیا اور اُنہیں خبر ہی نہ ہوسکے کہ اُن کے پہلو میں بیٹھے ہوئے لوگ اُن کے دوستوں کے روپ میں دُشمن ہیں۔ اپنی درویش طبع عادت کی وجہ سے اور دین کی محبت کے سبب حامد سعید کاظمی کو اُنکے ارگرد جمع ہونے والے فصلی بٹیروں نے اِس طرح اندھیرئے میں رکھا کہ خانقاہی نظام کا ایک نیک سپوت ایسے معاملات میں پھنسا دیا گیا کہ جس کا اُنہیں اندازہ نہ تھا۔ یوں سیاست میں عام آدمی کے سے انداز میں اُبھرنے والی روحانی خانودائے سے منسلک شخصیت کو بدنما داغ لگا دیا گیا۔ مورخ کا قلم اپنے یا غیر کسی کی تمیز نہیں کرتا تاریخ ثابت کرئے گی کہ کس طرح اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھنے والواں نے کاظمی صاحب کو اِس کیس میں پھنسایا۔ انتہائی محترم ترین مذہبی و روحانی شخصیت جناب احمد سعید کاظمی ؒ کی اولاد کو جس طرح کے کٹھن سفر کا سامنا ہے ۔ شاید قدرت کو اِن کے صبر کا امتحان مقصود ہے۔اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے اِس نیک بندئے کو کس طرح کی گردش دوراں کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔عدالت نے اِس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حامد سعید کاظمی پر مالی بد عنوانی ثابت نہیں ہوئی ہے۔اُن پر اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات لگے ہیں۔ بادی النظر میں دیکھا جائے تو حامد سعید کاظمی صاحب سے ایسے لوگوں نے مفادات اُٹھانے کی کوشش کی جس کا اندازہ اِن سے نہ ہوسکا۔ پھر پیپلز پارٹی کی حکومت وہ بھی زرداری صاحب کی قیادت میں، اِن حالات میں اعلیٰ افسران کی تقررریاں تو کہیں اور سے ہوتی رہی ہیں اور ملتان کی سر زمین سے ایک نیک نام روحانی خانوادئے کے چشم و چراغ کو سیاسی مداریوں نے اپنی ہوس کی بھین چڑھادیا۔ امید واثق ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اِس حوالے سے حامد سعید کاظمی کی اپیل کو پیش نظر رکھے گی۔
Saturday, 21 May 2016
سٹیٹ بنک کی چشم کشا ء رپورٹ۔ مہنگائی کی شرح عروج پر ہوگئی 2017 میں صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ مرکزی سیکرٹری اطلاعات صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کا تجزیہ
سٹیٹ بنک کی چشم کشا ء رپورٹ۔ مہنگائی کی شرح عروج پر
ہوگئی 2017 میں
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ مرکزی سیکرٹری اطلاعات صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کا تجزیہ
نواز حکومت میں میگا پراجیکٹ پر کام ہورہا ہے۔ لیکن عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وزیر خزانہ نے اراکین قومی اسمبلی کی تنخواؤں میں چھ سو فی صد تک اضافہ کردیا ہے۔عام آدمی کی زندگی میں مشکلات بہت ہیں۔پاکستانی عوام میں مہنگائی کے اثرات بہت ہی بُرئے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔اورنج ٹرین ، میٹرو ٹرین، موٹر ویز کی وجہ سے اور اکنامک کاریڈور کی بدولت پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ لیکن عام آدمی فی الحال بہت ہی زیادہ مشکل میں ہے۔آئیے سٹیٹ بنک کی حالیہ ترین رپورٹ کا جائز ہ لیتے ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود کا اعلان کردیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق شرح سود میں 25 بیسز پوائنٹس کمی کی گئی ہے جس کے بعد شرح سود ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 5.75 فیصد پر آگئی ہے۔ سٹیٹ بنک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2017 ء میں مہنگائی بلند ترین سطح پر چلی جائیگی۔ سٹیٹ بنک نے بعض خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل اور ایشیا کی بڑھتی قیمتوں سے مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے‘ بجلی‘ گیس مہنگی کرنے سے عوام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ مہنگائی مالی سال 2016ئکیلئے مقررہ 6 فیصد کے سالانہ اوسط ہدف سے کم رہے گی۔ حقیقی جی ڈی پی کی نمو مالی سال 2015ئکی 4.2 فیصد سے زیادہ لیکن اپنے 5.5 فیصد کے ہدف سے کم رہے گی۔ مالی سال 2015۔16ئکے اختتام پر ملکی معاشی حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ 30 جون کو ختم ہونیوالے مالی سال کے دوران اقتصادی ترقی کیلئے مقرر کردہ ہدف 5.5 حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ امکان ہے کہ جاری کھاتے کا خسارہ کم ہوکر گذشتہ برس کی سطح تقریباً ایک فیصد پر رہیگا‘ ادائیگیوں کے توازن میں متوقع فاضل مالی سال 2015 ء کی سطح سے کچھ کم ہوگا تاہم زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافے کا رجحان جاری رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ توقع کے مطابق عمومی صارف اشاریہ قیمت مہنگائی میں مسلسل ساتویں مہینے اضافے کا رجحان برقرار رہا، سال بہ سال بنیاد پر یہ ستمبر 2015ء میں 1.3 فیصد کی پست سطح سے بڑھ کر اپریل 2016ء میں 4.2 فیصد تک پہنچ گئی۔ تلف پذیر غذائی اشیا اور خدمات کے موسمی اثرات کے علاوہ اس اضافے کا اہم سبب اساسی اثر کی مزید کمزوری اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے دورِ ثانی کے اثرات ہیں۔ اسی طرح قوزی گرانی کے پیمانے بھی بڑی حد تک اس مالی سال میں اضافے کے رجحان پر عمل پیرا رہے جس سے اس میں پنہاں مہنگائی کے رجحانات کی مضبوطی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ان رجحانات اور پیشرفت کے باوجود مالی سال 2016ء میں مہنگائی کم رہنے کا امکان ہے۔ مہنگائی کی راہ کا تعین کرنے والے اہم عوامل یہ ہیں: اوّل، بتدریج بہتر ہوتی ہوئی رسدی حرکیات کے مقابلے میں طلب میں قدرے تیزی سے اضافے کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ دوسرے تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ غیرتوانائی اجناس کی قیمتوں کی معتدل بحالی صارفی قیمتوں کو منتقل ہوجائیگی۔ تیسرے اگر نئے ٹیکس اقدامات کے نفاذ اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے جیسے بعض خطرات نے حقیقت کا روپ دھار لیا تو اس سے صارف اشاریہ قیمت مہنگائی پر اضافے کا دباو بڑھ جائیگا۔ صنعتی سرگرمیوں اور خدمات کے شعبے میں توسیع سے جی ڈی پی کی نمو میں کپاس اور چاول کی فصلوں کے نقصانات کے باعث ہونیوالی کمی کا ازالہ کرنے میں مدد ملے گی۔ بڑے پیمانے کی اشیاء سازی (LSM) میں بحالی،جس میں جولائی تا مارچ مالی سال 2015ئکے 2.8 فیصد کے مقابلے میں جولائی سے مارچ مالی سال 2016ئکے دوران 4.7 فیصد نمو ہوئی کا سلسلہ متوقع طور پر توانائی اور امن و امان کی بہتر ہوتی ہوئی صورتحال کے باعث جاری رہیگا۔ اسکے ساتھ ساتھ تعمیرات میں عمدہ نمو اور صارفی اشیا کی پہلے سے بہتر طلب نے متواتر یہ باور کرایا ہے کہ رواں مالی سال میں ملکی طلب میں بحالی ہوئی۔ اسکی عکاسی نجی شعبے کی جانب سے لیے گئے قرضوں سے بھی ہوتی ہے جن میں جولائی سے مارچ کے مالی سال 2016ء میں 314.7 ارب روپے کا اضافہ ہوا مالی سال 2015 ء کی اسی مدت کے دوران یہ 206.0 ارب روپے بڑھے تھے۔ چنانچہ توقع ہے کہ مالی سال 2016ء میں جی ڈی پی نمو سے مطلوبہ استحکام حاصل ہو جائیگا وہ مالی سال 2017ء میں مزید بہتری کی بنیاد فراہم کریگی۔ جہاں تک بیرونی شعبے کا تعلق ہے، توازنِ ادائیگی میں استحکام اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بنیادی طور پر جاری اور مالی دونوں کھاتوں میں سازگار پیش رفت کی بنا پر ہوا۔ کارکنوں کی مستحکم ترسیلات زر اور تیل کی کم قیمتوں نے جاری حسابات کے خسارے کو قابلِ بندوبست سطح پر رکھنے میں مدد دی ہے، مالی کھاتے کی فاضل رقوم میں کثیر طرفہ اور دو طرفہ رقوم کی آمد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران ان عوامل میں سازگار رجحانات کے نتیجے میں توازنِ ادائیگی میں بحیثیت مجموعی فاضل رقم کا امکان ہے، سٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر بڑھ کر تخمینے کے مطابق چار ماہ سے زائد مدت کی درآمدات کیلیے کافی ہوں گے جو مالی سال 2015ء کے اختتام پر تقریباً تین ماہ کی مدت سے زیادہ ہیں۔ آگے چل کر بیرونی براہِ راست سرمایہ کاری بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے تحت منصوبوں پر کام تیز ہو رہا ہے۔ دوسری طرف، اجناس کے نرخوں میں متوقع معمولی اضافے اور توانائی کی ملکی رسد بہتر ہونے کے سبب توقع ہے کہ برآمدی وصولیوں میں معمولی بحالی آئے گی۔ نجی سرمائے کی آمد میں کچھ عرصہ سے جاری کمزوریاں برقرار ہیں اس لیے تیل کی قیمتوں اضافہ یا کارکنوں کی ترسیلات زر میں کوئی منفی تبدیلی واقع ہوئی تو غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ مذکورہ صورتحال کے پیش نظر سٹیٹ بنک کی زری پالیسی کمیٹی نے تفصیلی غور کے بعد پالیسی ریٹ 25 بیسس پوائنٹس کم کر کے 6.0 فیصد سے 5.75 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سٹیٹ بنک کے جاریکردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 48 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا یہ 21 ارب 31 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی گرتی قیمتوں سے آئل کا درآمدی بل گھٹنے کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقم میں اضافے سے بین الاقوامی ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے جس سے زرمبادلہ ذخائر مستحکم ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مانیٹری پالیسی سے سیونگ سکیموں پر کم منافع ملے گا۔ قرض لینے والوں کو فائدہ ہوگا۔ پاکستان میں رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران غیرملکی سرمایہ کاری میں مجموعی طور پر 77 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سٹیٹ بنک کے اعدادو شمار کے مطابق براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں تاہم 5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ بنک کے مطابق توانائی اور تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس میں بالترتیب 51 کروڑ اور 23 کروڑ کے سرمایہ کاری کی گئی۔ قارئین معاشی نمو کا اگر عام آدمی کی زندگی میں فائد نہ ہو تو پھر جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ خود کشیاں بھی عروج پر ہیں۔ بے روزگاری کا بھی عروج کا زمانہ ہے۔ حکومت کو سب کچھ اچھا دیکھائی دئے رہا ہے۔حکومت کے تین سال ہونے کو ہیں۔لیکن زندگی کو موت سے بدتر بنانے میں اشرافیہ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، افراط زر کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی پر ہوتا ہے۔ جن کی قوتِ خرید کم ہوجاتی ہے اور روح اور جسم کا تشتہ قایم رکھنا مشکل سے مشکل ہو گیا ہے۔لیکن اسحاق ڈار صاحب کو سب کچھ اچھا نظر آرہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈارکے نام پاکستان فلاح پارٹی کے ترجمان اشرف عاصمی کا کھلا خط
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈارکے نام پاکستان فلاح پارٹی کے ترجمان اشرف عاصمی کا کھلا خط جناب: آپ کی ذہانت وفطانت کا ایک زمانہ معترف ہے کیونکہ
جب بھی حکومت نواز شریف کی ہوتی ہے تو پھر آپ قومی خزانے پر براجمان ہوتے ہیں۔ آپ کو لوگ اکاونٹنٹ بھی کہتے ہیں ظاہر ہے آپ پیشے کے لحاظ سے چاٹرڈ اکاونٹنٹ ہیں اسی لیے آپ کواِس خطاب سے پوری قوم نے نواز رکھا ہے۔جناب کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں کیونکہ حساب کتاب ہی پھن پھیلائے رہتا ہے اور اِس صلاحیت کی وجہ سے آپ کو جمع تفریق اور ڈیبٹ کریڈٹ پر ملکہ حاصل ہے۔ چونکہ آپ معاشی معاملات کو بھی ایک مُنشی کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے پوری ملک کے طول عرض میں پھیلی ہوئی غربت، خود کشیاں اور بے روز گاری آپ کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ آپ کی جانب سے بس اتنی نوید ہی مل جاتی ہے کہ قومی ذخائر میں اتنے کھرب ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔چونکہ آپ جمع اور تفریق کے ماہر ہیں اِس لیے جناب کو تھر میں پھیلی ہوئی افلاس سے مرتے ہوئے لاشے نظر نہیں آتے۔ آپ کو ہسپتالوں میں غریبوں کو میسر نہ آنے والی ادویات کی کمی نظر نہیں آتی اِس لیے آپ کے خزانے میں جمع کی ہوئی دولت سے اِن تھر کے بچوں کو زندگی کی سانسیں نہیں مل پاتیں۔ تھر کے بچے پیدا ہی اِس لیے ہوتے ہیں کہ اُنھوں نے بڑا نہیں ہونا ہوتا وہ بچپن میں ہی مرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ آپ کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ اربوں ڈالر کے معائدئے ہوتے ہیں لیکن وہ ظاہر صرف آپ کے خزانے میں ہوتے ہیں۔سٹرکوں پر بے روزگاری بے راہ روی کی وجہ سے نشہ کرنے والوں کے لیے کوئی ایک بحالی سنٹر نہیں ہے چونکہ یہ جناب کی ترجیح نہیں اِن نشیوں کے لیے کوئی 1122 سروس نہیں ہے۔آپ کی حساب کتاب کی عادت کا قوم کو یہ فائدہ ہوا ہے کہ آپ نے قوم کے مستقبل کے معماروں کے لیے سرکای سکولوں کو این جی اوز کے حوالے کردیا ہے اب نہ سکول ہوں گے نہ تعلیم ہوگی او ر نہ ہی بے روزگاری پیدا ہوگی آپ کی حساب رکھنے کی پیشہ ورانہ صلاحیت نے قوم کو سرکاری سکولوں سے آزاد کر دیا ہے۔آپ نے اراکین اسمبلی کی تنخواؤں میں چھ سو فی صد اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی غریب سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے دس فی صد کا عندیہ دیا ہے۔ آپ کی ماہرِ حساب کتاب کی دلالت کو سلام پیش کرتا ہوں آپ نے لاکھوں ملازمین کی بجائے صرف چند سو ار ا کین اسمبلی کی تنخواؤں میں ا ضافہ فرما کر ڈیبٹ کے فارمولے کا درست استعمال کیا ہے۔کیونکہ اراکین اسمبلی انتہائی مظلوم ہیں اِن کے پاس نہ تو گھر ہے اور نہ ہی سفر کے لیے کوئی گاڑی۔ فاقے کاٹتے ہوئے اراکینِ اسمبلی کی تنخواؤں میں چھو سو فی صد اضافہ کوئی بُری اور بڑی بات نہیں ہے۔ قوم ویسے ہی غربت اور افلاس کی وجہ سے اپنا دماغی توازن کھو چکی ہے جو آپ کے اِس شاندار کام کو سراہنے میں کنجوسی سے کام لے رہی ہے۔ سڑکوں پر آئے روز سرکاری محکموں کے ملازمیں کے احتجاج ، کسانوں ڈاکٹروں وکلاء کے مظاہرئے یہ سب روٹین کے کام ہیں آپ اِن کا ہمیشہ کی طرح نوٹس نہ لیا کریں یہ تو قوم ہی ناشکری ہے کہ جو اتنے عظیم حسابی کتابی وزیر خزانہ کی قدردان نہیں ہے۔سُنا ہے سکولوں کی طرح سرکاری ہسپتال بھی جناب نجی شعبے کو دئے رہیں ہیں ۔ اِس طرح واقعی ملک کو کافی فائد ہوگا۔ نہ غریب علاج کروانے کے قابل ہوں گے اور اِس طرح شرح اموات میں اضافہ ہوگا اور یوں بے روزگاری میں کمی ہوگی۔ فی کس آمدنی کا گوشوارہ بھی بہت بہتر ہوجائے گا۔ جناب نے جس طرح افراط زر میں کمی کاحل ڈھونڈا ہے کہ مراعات یافتہ طبقے کو مزید مراعات دی جائیں قوم آپ کے اِس جذبے کو رشک بھری نظروں سے دیکھتی
ٓ ٓ ہے ۔آپ کے خزانے پر سے بہت سے لوگوں کا بوجھ کم ہوتا رہے گا۔ اور خزانہ کمی کی طرف نہیں جائے گا۔ظاہری سے بات ہے جناب وزیر خزانہ: آپ وزیر اعظم نواز شریف کے سمدھی ہیں اِس لیے آپ ہی درحقیقت اِس مجبور قوم کے مائی باپ ہیں۔اللہ پاک آپ کو ملک و ملت پر شب خون مارنے کے لیے عمر خضر عطا فرمائے۔امید ہے جناب میری باتوں کو بُرا نہیں منائیں گے اور دماغی مریض سمجھ کر مجھے معاف فرما دیں گے۔ با ادب با ملاحظہ ہوشیار ۔وزیر خزانہ کے اقبال بلند ہو
Saturday, 16 April 2016
پاکستان فلاح پارٹی .............. صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
پاکستان فلاح پارٹی
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
پاکستان کی موجود صورتحال سب کے سامنے ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام نے ملک کی غریب عوام کو نچوڑ لیا ہے۔ سابق فوجی جرنیلوں وڈیروں جاگیر داروں کی شکل میں سیاسی روپ دھارئے معاشرئے کا یہ طبقہ آکٹوپسی کی طرح وطن کو جکڑئے ہوئے ہے۔انجمن طلبہ ء اسلام اور مصطفائی تحریک کے عظیم تر مشن سے وابستہ افراد کی یہ سیاسی جماعت یقینی طور پر کرپشن کو بنیادوں سے ختم کرنے کے لیے میدان عمل میں اُتری ہے۔ رسول پاکﷺ کی محبت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنانے والی پاکستان فلاح پارٹی کا قیام گو کہ کافی تاخیر سے ہوا ہے ۔ انجمن طلبہ ء اسلام سے وابستہ افراد گذشتہ سنتالیس سالوں سے انجمن سے فراغت کے بعد سیاست کے لیے دیگر جماعتوں میں جاتے رہے۔اور معاشرئے میں اہم حثیت کے حامل ہیں۔ لیکن اقتدار کی غلام گردشوں میں نظریاتی لوگ بھی جاکر اطیواللہ و اطیوالرسول کے حوالے سے تگ و تاز میں کامیاب نہ ہوئے وجہ اُن کے سیاسی لیدڑ تو نظریہ کی بجائے صرف بادشاہت کے لیے اقتدار میں آتے ہیں۔ یوں نصف صدی کے قریب ہونے کوآیا ہے کہ انجمن طلبہ ء اسلام سے فراغت اختیار کرنے کے بعد نظریاتی افراد کبھی پی ایم ایل ن ، کھبی پی پی پی ، جے یو پی، پی ٹی آئی میں رہے۔نظام مصطفے پارٹی بھی بنی لیکن فعالیت اختیار نہیں کر سکی۔یوں گھر سے مکتب تک اور مکتب سے معاشرئے تک کے انجمن طلبہ ء اسلام کے مشن کے لیے جو افرادی قوت تھی اُس کو بہتر سیاسی رہنمائی میسر نہ آسکی اور لوگ بکھرتے رہے۔ حتیٰ کہ مایوسیوں نے گھر کر لیا۔انجمن طلبہ اسلام سے وابستہ طاہر القادری جحاجی حنیف طیب ، صاحبزادہ فضل کریم ، حامد سعید کاظمی و دیگر احباب اپنے طور پر سیاست کرتے رہے لیکن میکرو لیول پر نظریاتی لوگوں کو اُس طرح ایڈجسٹ نہ کر سکے جس طرح کا تقاضا تھا۔جے یو پی میں دھڑا بندی اور تقسیم در تقسیم کے عمل نے بھی انجمن طلبہ اسلام سے وابستگان افراد کو مایوسیوں میں رکھا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ جے یوپی کا مرکز اور صوبائی اسمبلیوں میں نام لیوا کوئی نہیں۔ حامد سعید کاظمی صاحب نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا وزیر مذہبی امور رہے اور اُن کو ایسی گرداب میں پھنسا دیا گیا کہ میڈیا نے اُن کا ایسا حشر کیا کہ احمد سعید کاظمی ؒ جیسی ہستی کے صاحبزادئے کے ساتھ یہ سلوک اور گرفتاری نے انجمن طلبہ اسلام کے افراد کو مزید مایوس میں ڈال دیا۔ پاکستان فلاح پارٹی کے قیام سے انجمن طلبہ اسلام سے وابستہ افراد کو امید کی ایک نئی کرن نظر آئی ہے کہ سیاسی مزاج کے حامل افراد کو ایک بہتر سیاسی پلیٹ فارم میسر آجائے۔قاضی عتیق الرحمان امانت علی زیب، بدر ظہور چشتی، سید راشد گردیزی جیسے باکمال اور باہمت افراد اِس سیاسی پلیٹ فارم کے لیے تگ و تاز میں ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سال میں کچھ عرصہ دورہ جات کا شیڈول بناکر جناب ڈاکٹر ظفر اقبال نوری پاکستان تشریف لے آیا کریں تاکہ احباب کو موبلائز کیا جاسکے۔پاکستانی خطے کا مزاج ایسا ہے کہ اِس خطے میں سیاسی پارٹی کے لیے ایک نمایاں شخصیت ہونا ضروری ہے۔ حاجی حنیف طیب ، ڈاکٹر ظفر اقبال نوری یہ ایسی شخصیات ہیں جو احباب کو فعال کر سکتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں روحانی انداز پنپ نہیں سکا۔ فکر آخرت رب کریم کا خوف ، زندگی کو عا رضی جاننا ان تصورات کے ہوتے ہوئے تو مسلم سوسائٹی دنیا بھر کے تمام ممالک اور مذاہب کے لوگوں کے لیے نشان راہ ہونی چاہے تھی لیکن افسوس جن قوموں کو ہم کافر کو کہتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کفار نے جنت میں نہیں جانا بلکہ جنت صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔ ان کفار کے ممالک میں انسانی حقوق بھی انسانوں کو حاصل ہیں اور پولیس و دیگر محکمہ جات بھی قانون پر عمل پیرا ہیں۔ رشوت کرپشن جو ہماری پولیس کا قومی نشان بن چکا ہے۔ اس نشان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اسلام جیسے عظیم مذہب پر اس کی روح کے مطابق عمل کرکے معاشرے کو امن و سکون کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے بلا امتیاز قانون سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہے۔ با اثر سے بااثر افراد اگر کسی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں تو پھر یہ حکمرانوں کے اوپر ہے کہ وہ ان لوگوں کی پکڑ کریں اور انصاف سب کو بلاامتیاز مہیا کریں۔اگر اللہ کی پکڑ سے بچنا ہے تو پھر ان جرائم پیشہ ،رشوت خور پولیس افسران کو پکڑنا ہو گااور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔حضرت قائداعظمؒ اور حضرت علامہ اقبال ؒ کے خوابوں کی تکمیل یہ پاکستان کی صرف روح ہی چھلنی نہیں بلکہ اس پاکستان کے جسم کو کو بھی اس طرح نوچا جا رہا ہے جیسے یہ لا وارث ہو۔ 27 رمضان المبارک کی شب وجود میں آنے والی اس سرزمین پاک کو رب تعالیٰ نے قائم رکھنے کے لیے بنایا ہے۔ اس ملک نے ہمیشہ قائم و دائم رہنا ہے۔ اور اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے والوں نے آخر جہنم رسید ہونا ہے۔ اگر قانون شکنوں کو قانون کی پکڑ میں نہ لایا گیا تو پھر اللہ کی پکڑ سے پھر کون بچ سکتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے انسانیت کا بول بالا فرما دیا ۔ حتیٰ کہ کفار جو آپ ﷺ کے جانی دشمن تھے ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کا مظاہرہ فرمایا ۔ ایام جنگ میں خواتین بچوں اور بوڑھوں پر تلوار اٹھانے سے منع فرمایا۔ جانوروں کے ساتھ بھی آپﷺ نے رحم دلی فرمائی ۔ جب نبی کریم ﷺ نے انسانی وقار اور احترام کا ایک مکمل ضابطہ دیا تو پھر 1400 سال سے زائد عرصہ گزرنے بعد بھی مسلم معاشرہ ابھی تک ارتقاء میں ہے۔ یہ ارتقائی سفر مثبت سمت کی بجائے منفی رجحان کی طرف گامزن ہے۔ عراق، ایران ، مصر ، عرب ممالک شام، لیبیا ، ترکی ، پاکستان ان تمام ممالک میں عوام کے ساتھ بے رحمانہ سلوک ہوتا ہے۔ آمریتیں جہاں جہاں اپنے قدم جمائے ہوئی ہیں وہاں وہاں کے حکمران لوگوں کی قسمت کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ انسانیت کی قدر کی تعلیم دینے والی مسلمان قوم اب عملی شکل میں انسانیت کی قدر دان کیوں نہیں ہے۔ پاکستان فلاح پارتی جیسی نظریاتی سوچ کی حامل سیاسی جماعت کی معاشرئے میں نفوس پزیری ہونی چاہیے۔
Friday, 11 March 2016
.What Ashraf Asmi Advocate chairman Human Right Front int. Says about Acute atrocity on Minors regarding their maintenance, liability of grand father, liability of state. Lahore High Court judgement PLD. 2015, 445 . This debate is being presented on Mustafai TV......... https://www.facebook.com/humanrights.frontpakistan/?ref=bookmarks
Thursday, 10 March 2016
Minor Welfare is Responsibility of the State Directed by Lahore High court , voive raise by Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi Advocate High Court,Chairman Human Right Front int.
Minor Welfare is Responsibility
of the State Directed by Lahore High court
Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi
Advocate High Court,Chairman Human Right Front int.
Pakistani nation is facing ascute problems as the state is not performing its liabilities.What should be done by a common person for the welfare of the community. if our govt has enough resource to use for her advertisement in the news papers, just given Rs.one thousand per month to needy persons from zakat.It is the liability of the state to perform its duty to disstribute the funds from the Zakat for the minors and nedy divorced women.here mainy qestion is that , in our religion it is setteld principle that the state means welfare state . state is responsible to give necessities of life to its masses to live.So it is meintion worhy that t our family courts should consider the principle of the libilitey of the state for the welfare of the minors and even divorcesd women .if the person who is liable to maintain the minors has very meager resources then that person how can give maintenence to the minors so, the state should ready to perform its duty.The liability of a father or a grandfather to maintain his children or grandchildren in the absence or in case of inability of their real father to maintain them, has been dealt with at different times. In the case of Haji Nizam Khan vs Additional District Judge, Layallpur & Others (PLD 1976 Lahore 930), this concept has been dealt with in detail along with the liability of the state with regard to the Principles of Policy enunciated in the Constitution,that this Court in the reported citation, was of the view that though the judiciary cannot direct organs, authorities and persons included in definition of state under Article 7 to act according to the Principles of Policy, yet the superior judiciary is not barred either to set down a rule for itself to follow Principles of Policy or to declare the same rule for the subordinate judiciary to act in accordance with the said Principles. It was also settled in the said citation that there is no bar on the Superior Judiciary to declare a law in accordance with the said Principles of Policy. It is a mandate contained in Article 31(1) of theConstitution to take steps to enable the Muslims of Pakistan, individually and collectively, to order their lives in accordance with the fundamental principles and basic concepts of Islam. Hence, any organ of the state can be directed by an order of the court to observe the Principles of Policy in their respective spheres of working.The state by recognizing its responsibility both at the Federal and Provincial Level, has constituted institutions for social welfare, including the Bait-ul-Maal, while Punjab has taken the lead through Punjab Bait-ul-Maal Act VII of 1991, which was promulgated on 30thMarch 1991. The basic principle of the said legislation was to provide for the establishment of charitable funds and by virtue of Section 5 of the said Act, the utilization of the Bait-ul-Maal has been provided for, which includes relief and rehabilitation of the poor and the needy, particularly poor widows and orphans, educational assistance to the poor and deserving students and for other purposes. There are District Bait-ul-Maal Committees in view of section 7(3) of the said Act working at all district levels.In addition to the above legislation there is also a Zakat & Ushr Ordinance (XVIII) , 1980 , which provides the manner of collection of such funds and their utilization, including assistance to the needy particularly the orphans and the widows by virtue of Section 8thereof, which is reproduced herein below:" 8. Utilization of Zakat FundsThe money in Zakat Fund shall be utilized for the following purposes, namely,(a) assistance to the needy , the indigent and the poor particularly orphans and widows, the handicapped and the disabled, eligible to receive Zakat under Shariah for their subsistence or rehabilitation, either directly or indirectly through Deeni Madaris, or educational, vocational or social institutions and other institutions providing health care.In the case of Abdul Majeed vs. Additional District Judge, Faisalabad & 4 others (PLD 2012 Lahore 445) , it was observed that the system of Zakat can be linked up with the family courts to the extent that if the Family Court is of the view that the persons liable to pay maintenance are poor and those who should have received maintenance also fall under the clause of eligible persons entitled to receive Zakat funds, then suitable directions to Zakat & Ushr Council should also be issued.The Honourable Lahore High Court, in the citation narrated above said that the Family Courts in the Province, if reached the conclusion that the father or the grandfather, as the case may be, are themselves not in the position within their circumstances to to easily afford to maintain their dependents, after an inquiry as provided in the CPC for pauperism, then direct the plaintiffs before the said courts to implead the state as a respondent in the pending lis and then to direct the relevant organs or authority of the state, including Bait-ul-Maal and the local governments to regularly pay the determined maintenance of the minors. Needless to mention here that when the right of the minors or ladies seeking maintenance has been determined by a court of law, there will be no further need to verify their claims by the authorities, which would be directed to pay the maintenance to such needy people.The point of law has been decided in essence and the benefits of the said Judgment of this Honourable Court are required to be extended in favour of all those cases of maintenance wherein the fathers or the grandfathers have deserted to pay the maintenance to their minor children, thereby badly affecting the welfare of those minor children.It is therefore suggested that a special fund be made/ allocated by the Government of the Punjab or Pakistan Bait-ul-Maal for the payment of maintenance allowance to the minor children from where a maintenance allowance could be regularly paid to the needy minors, in case of boys up till the age of majority and for the girls till they are married, as the case may be, if directed by the concerned family court in this respect.It is further recommended that the Government of the Punjab, or alternatively Punjab Bait-ul-Maal, should register the names of the affected minors as regular beneficiaries from the District Bait-ul-Maal.It is further recommended that family/ guardian courts must undertake an inquiry as envisaged by the Code of Civil Procedure for pauperism and implicate the state as a respondent in all cases where the fathers or grandfathers of the minors, as the case may be, are not in a position to easily afford within their circumstances to maintain their dependents and have deserted them and their whereabouts are untraceable since the pendency of such execution/ maintenance suits/ petitions, before them.
Subscribe to:
Posts (Atom)
انٹرنیشنل ہیومین رائٹس موومنٹ اور لائیرز سٹرٹیجیک کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے سامنے یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ کی زیر سرپرستی اور امریکی سفارتخانےاسلام آباد کے زیراہتمام پاکستانی میں چلنے والی انٹرنیشنل غیر رجسٹرڈ این پاک یو ایس ایلیومینائی نیٹ ورک کو فوری طور پر بین کرنے کے حوالے سے پرامن احتجاجی مظاہرہ
انٹرنیشنل ہیومین رائٹس موومنٹ اور لائیرز سٹرٹیجیک کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے سامنے یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ...
-
ہبہ/ گفٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ پاکستان کی تشریح صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 2017SCMR-1110 کے مطابق سپریم کورٹ آ...
-
LAW OF Divorce of Christian In Pakistan Compiled By Sahaibzada Ashraf Asmi Advocate High Court LLM,MBA,MS Eco. MS Edu....











