Friday, 20 April 2018

گورنمنٹ کالج سرگودہا کا شاندار ماضی۔۔۔۔۔ حال کی ستم ظریفی کی نذ......................ر صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی


گورنمنٹ کالج سرگودہا کا شاندار ماضی۔۔۔۔۔ حال کی ستم ظریفی کی نذر

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی 
سر زمین سرگودہا کو اللہ پا ک نے ایک ایسی عظیم درسگاہ عطا کی جس نے کئی دہائیوں تک سرگودہا ڈویژن کے تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ ایکڑوں زمین پر پھیلے ہوئے اِس کالج کی شان و شوکت اپنی مثال تھی۔ عظیم اساتذہ نے اِس کالج کو حقیقی معنوں میں کامیابیوں سے ہمکنار کیا اور اِس کالج کے سٹوڈنٹس پاکستان سمیت دُنیا بھر میں ہر شعبہِ زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کالج میں عبدالعلی خان غلام جیلانی اصغر ، صاحبزادہ عبدالرسول جیسی نابغہ رُ وزگار ہستیاں پرنسپل رہیں۔اِس کالج کو دوسری کالجوں کی طرح یونیورسٹی کادرجہ دینے کی بات کی گئی۔ لیکن اِس کالج کا تشخص مکمل طور پر ختم کردیا گیا اور صرف یونیورسٹی آف سرگودہا کا قیام عمل میں لے آگیا۔ سرگودہاکے لیے یونیورسٹی ناگزیر تھی۔ لیکن گورنمنٹ کالج سرگودہا کو قتل کرکے انتہائی ظلم کیا گیا۔ لاہور کے گورنمنٹ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا لیکن اِسکا کالج کا سٹیٹس بھی برقرار رہا۔ اِسی طرح فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج کو بھی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا لیکن اُس کا کالج کا سٹیٹس بھی برقرار رکھا گیا۔ لیکن صد افسوس سرگودہا کے گورنمنٹ کالج کا سٹیٹس ختم کردیا گیا یوں انتہائی درخشندہ روایات کا حامل تعلیمی ادارہ ختم کر دیا گیا۔ سرگودہا کے ساتھ اُنسیت کی کئی وجوہات ہیں ایک تو میرا بچپن اپنے ماموں جان حضرت حکیم میاں محمد عنائت خان قادری نوشاہی ؒ کے ہاں گزرا۔ یوپی چرچ سکول میں پہلی جماعت میں 1974 میں داخلہ لیا۔ گورنمنٹ کمپرہینسیو ہائی سکول سرگودہا میں جماعت ششم سے میٹرک تک طالب علم رہا۔ اِس سکول میں جناب حسین احمد بھٹیؒ شا ہ محمد ؒ ، صوفی غلام حسینؒ ، ملک انورؒ ، چوہدری محمد اسلم ، مہر محمد بخش ، جیسے عظیم اساتذہ سے اکتساب فیض کیا۔اِسی سکو ل میں جاوید مصطفائی ڈائریکٹر الزہرہ گروپ آف کالجز اور ڈاکٹر عرفان ظفر میرئے کلا س فیلو رہے۔ فرسٹ ائیر میں گورنمنٹ کاج آف کامرس میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں سال سوئم میں گورنمنٹ کالج سرگوہا کاطالب علم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ تین ماہ تک اسِ کالج کا طالب علم رہا،یوں میری قلبی وابستگی گورنمنٹ کالج سرگودہا کے ساتھ ہمیشہ رہی۔ میرے پاس اب بھی گورنمنٹ کالج سرگوہا کا سٹوڈنٹ کارڈ جس کا رنگ سفید ہے موجود ہے۔ میرئے بہت سے دوست جن میں رائے علی اشرف بھٹی، صاحبزادہ ڈاکٹراحمد ندیم رانجھا، پروفیسر ڈاکٹر رانا محمود انور، ڈاکڑ عرفان علی ظفر، ظفر اقبال ظفر، ملک امتیاز،راحیل حق، صاحبزادہ شمیم الرسول، ایک لمبی فہرست ہے اُن لوگوں کی جو اِس وقت ہمارئے معاشرئے کے درخشندہ ستارئے ہیں۔ اُنھوں نے گورنمنٹ کالج سرگودہا سے اکتسابِ فیض کیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نئی جگہ پر یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جاتا سرگودہا شہر کے آس پاس بے شمار سرکاری اراضی پڑی ہے۔لیکن گورنمنٹ کالج کو ختم کرنا کسی طور بھی مناسب نہ تھا۔ اگر یونیورسٹی اِس کیمپس میں بنادی گئی تھی تو بلڈنگ کے کچھ حصے میں گورنمنٹ کالج کا سٹیٹس برقرار رکھا جاسکتا تھا۔ لیکن نہ جانے یونیورسٹی کے قیام کی خوشی میں عظیم تعلیمی درسگاہ کا نام تک ختم کردیا گیا۔ پورئے سرگودہا ڈویژن کے لیے بے مثال تعلیمی خدمات دینا والا اب کوئی بھی کالج نہ رہا ہے۔ پرائیوٹ کالجوں کی بھرمار نے تعلیم کو مکمل طور پر تاجرانہ وصف بنا دیا ہے۔ اب طالب علم تعلیمی ادارے کا چناؤ فیس کے حساب سے کرتے ہیں کہ فلاں کالج یا فلاں کالج اور چند مرلے کے اِن کالجوں نے سرگودہا کے شاہنوں سے وہ آن شان چھین لی ہے جو گورنمنٹ کالج کے ہوتے ہوئے ہر امیر غریب کو حاصل تھی۔اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ سرگودہا کی میں بلڈنگ میں فرسٹ اےئر کی کلاسز کا اجراء کردیا جائے اور گورنمنٹ کالج کی حیثت بحال کردی جائے۔ اگر حکومت دردمندانہ درخواست مان لے تو یونیورسٹی کے لیے علحیدہ کیمپس بنا کر یونیورسٹی کو بتددریج منتقل کرئے اور گورنمنٹ کالج کا مقام و مرتبہ بحال کیا جائے۔ سوشل میڈیا کی وساطت سے معلوم ہو ا کہ انتہائی فعال دوست سرگودہا کے اِس عظیم ایشان تعلیمی ادارئے کی بحالی کے لیے تگ و تاز جاری رکھے ہوئے ہیں یقینی طور پر اپنی مادر علمی کے ساتھ محبت کا ایک خاص انداز ہے۔ گورنمنٹ کالج سرگودہا کی بحالی کی تحریک کے روح رواں جناب ارشد شاہد سے کافی تفصیلی گفتگو ہوئی اُن کی زبردست کوششوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور دیگر احباب جن کا تعلق کسی بھی حوالے سے گورنمنٹ کالج 
سر گو دہا سے رہا ہے وہ اِس مشن میں ارشد شاہد کے دست بازو بن جائیں۔ پنجاب حکومت لاہور کے تاریخی ورثے کو خوب سنبھال رہی ہے اور اس کو دوبارہ زندہ کررہی ہے۔ اس قومی ورثے کو سنبھالنا اچھی بات ہے۔ یہ تاریخی ورثہ شاہی محلات، باغ اور پتھر کی دیواروں وغیرہ پر مشتمل ہے۔ لیکن گورنمنٹ کالج سرگودھا جیسا سوبرس پرانا تاریخی ورثہ ایک لمحے میں ختم کردیا گیا جبکہ یہ تاریخی ورثہ سوبرس کی بیشمار نامور شخصیات کو جنم دے چکا تھا اور مستقبل میں نہ جانے کتنے نامور نام یہاں سے پیدا ہونے والے تھے۔ سابق گورنمنٹ کالج سرگودھا سوال کرتا ہے کہ اینٹ، بجری، ریت اور سیمنٹ کے تاریخی ورثے کو سنبھالنا تو ضروری ہے لیکن کیا قدیم تعلیمی ورثے کو پاؤں تلے روند دیئے جانے کا ذرا سا نوٹس لینا بھی ضروری نہیں ہے ۔سابق گورنمنٹ کالج سرگودھا کے طالبعلموں کی الومینائی کے صدر ارشد شاہد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سابق گورنمنٹ کالج سرگودھا کو موجودہ گورنمنٹ کالج سرگودھا بنانے کے لئے سب دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ اپنی پرانی تعلیمی درس گاہ سے عشق کرنے والے آخر کامیاب ہوں گے۔ گورنمنٹ کالج سرگودھا کے سابق طلبہء طالبات کا مطالبہ ہے کہ جناح بلاک، اقبال ہاسٹل، جناح ہال اور مولا بخش آڈیٹوریم کو گورنمنٹ کالج سرگودھا کے اصل نام اور اصل مونوگرام کے ساتھ بحال کیا جائے۔ حکومت اِس مطالبے پر کان دھرے اور گورنمنٹ کالج سرگودہا کو بحال کرئے۔ 

Friday, 30 March 2018

Cross examination in Murder case on Crpc 342 statement of accused...سپریم کورٹ کی قتل کیس میں ملزم کی شہادت پر جرح کی تشریح و توضیع صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ



سپریم کورٹ کی قتل کیس میں ملزم کی شہادت پر جرح کی تشریح و توضیع
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

اِس آرٹیکل میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ "یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ ایسی کوئی بھی شہادت جو کہ ملزم کی Crpc 342 کے تحت شہادت ریکارڈ کرتے وقت اُس پر اُس شہادت کی بنیاد پر جرح نہ کی جائے تو ایسی شہادت کو ملزم کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ " CRPC 342 کے سیکشن کی بنیاد اِس مقولے پر ہے کہ کسی کو بھی بغیر سُنے سزا نہ دی جائے۔ اِس بات کو دو حصوں میں تقسیم کے جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ یہ کہ کہ عدالت کو اختیار حاصل ہے دوسرا حصہ کہ یہ کہ لازم ہے۔ پہلے حصہ کے مطابق عدالت ملزم سے ایسے سوالات کرسکتی ہے جس سے وہ کیس کو حل کرنے کے قریب پہنچ سکے۔دوسرا حصہ یہ ہے کہ ملزم سے لازمی طور پر سوالات پوچھے جائیں یعنی وہ الزمات جو شہادت کے دوران اِس کے خلاف آئے ہیں اُس بابت ملزم سے اُس کی صفائی مانگی جائے۔2002 MLD 1139 کے مطابق سیکشن 342(2) سی آر پی سی میں عدالت یہ بات پیشِ نظر رکھتی ہے کہ اصل سزا دینے سے پہلے ملزم جو سزا کاٹ چکا ہے وہ اُس اصل سزا کے اندر شمار کی جائے کیونکہ اُس قید کے عرصہ کے طویل ہوجانے کا ذمہ دار ملزم نہ ہے۔ 2005SCMR 364 کے مطابق سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اِس سیکشن کا مقصد یہ ہے کہ عدالت ملزم کو اُس کے خلاف پیش کی جانے والی شہادتوں کے حوالے سے خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے ہر ممکن موقع دے۔اِس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ عدالت ملزم کو کوئی فائدہ پہنچانا چاہتی ہے بلکہ یہ تو اِس سسٹم کا حصہ ہے کہ عدالت سچائی تک پہنچ سکے۔ اگر ملزم عدالت کو معطمن کر دئے تو یہ اُس کے حق میں بہتر ہوا ورنہ اُس کے خلاف جائے گا۔ 
2018-SCMR-344 کے مطابق سپریم کورٹ کے جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ لکھا ہے کہ امتیاز وغیرہ جو کہ درخواست گزاران ہیں کی مبینہ فائرنگ سے 16-06-2003 کو صبح ساڑھے پانچ بجے رستم علی کو قتل کردیا گیا یہ وقوعہ گاؤں شرن پولیس اسٹیشن گوجرہ ضلع اوکاڑا میں ہوا۔جو وجوہات قتل کی بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں کہ مقتول رستم علی قتل کے دو کیسوں کی پیروی کر رہا تھا اُن کیسو ں میں موجودہ کیس کے ملزمان بھی شامل تھے۔ اِس قتل کے الزام کی بناء پر متذکرہ بالا پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر نمبر 273 اُسی صبح درج کر لی گئی اور ریگولر ٹرائل میں چار ملزمان کو رہا کر دیا گیا۔ جبکہ موجودہ درخواست دہندہ امتیاز المعروف تاج اور اُسکے ساتھی امتیاز ولد رمضان کو سزائیں دی گئیں۔پی پی سی سیکشن تین سو دو سب سیکشن بی بمعہ پی پی سی سیکشن چونتیس پر امتیاز المعروف تاج کو سزائے موت کی سزا سُنائی گئی اور جرمانہ بھی کیا گیا۔ جبکہ اِسکے ساتھی ملزم امتیاز ولد رمضان کو عمر قید کی سزا اور جرمانہ کی سزا سُنائی گئی۔
موجودہ درخواست دہندہ اور اُس کے ساتھی ملزم نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جو کہ ہائی کورٹ نے مسترد کر دی گئی۔ ہائی کورٹ نے موجودہ درخواست دہندہ کی سزائے موت کو کنفرم کر دیا گیا۔عدالت کو یہ بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار کے ساتھی ملزم امتیاز ولد رمضان نے بار بار جیل سپرئیڈنٹ سے التجاء کی کہ سپریم کورٹ میں اسِ سزا کے خلاف پٹیشن دائر کی جائے لیکن پٹیشن دائر نہ کی گئی۔تاہم درخواست گزار نے کریمنل پٹیشن نمبر 162-L/2009 اِس سزا کے خلاف اِس عدالت میں دائر کی۔2009 کو اِس سزا کے خلاف سماعت کیے جانے کی بابت منظوری دئے دی گئی۔اِس درخواست کی سماعت کی اجازت اِس بناء پر دی گئی کہ عدالت اِس کیس کی شہادتوں کا جائزہ لے سکے اور فریقین وکلاء کا نقطہ نظر سن سکے۔اِس بات پر کوئی جھگڑا نہ ہے کہ رستم علی پر حملے کے چار ملزمان کو ٹرائل میں بری کر دیا گیا ہے۔یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ موقع پر موجود چشم دید گواہ اگر کچھ ملزمان کو موردِ الزام نہیں مانتا تب وہی چشم دے گواہ کسی اور ملزم کو موردِ الزام نہیں ٹھرا سکتا جب تک اُس ملزم کے رول کے حوالے سے چشم دید گواہ پر علیحیدہ سے جرح نہ کر لی جائے۔ جیسا کہ غلام محمد بنام ممتا زخان PLD1985SC-11 کیس میں ہوچکا ہے۔ اِس کیس میں پراسکیوشن کی جانب سے پیش کردہ دو چشم دید گواہوں پر علیحیدہ سے جرح نہیں کی گئی۔ جہاں پر وقوعہ ہوا وہ ایک کھلا علاقہ ہے۔ جہاں آبادی نہ ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے وقوعہ ہوا۔ لیکن میڈیکل رپورٹ کے مطابق آدھی رات کے وقت ہوا تھا۔ دونوں چشم دید گواہان محمود خان اور محمد اکرم مقتول رستم علی کے نہ صر ف سگے بھائی تھے بلکہ موقع پر موجود گواہ بھی تھے۔ دونوں چشم دید یہ بات ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ جس وقت وقوعہ ہوا وہ دونوں اُس وقت اپنے بھائی کے پاس کیا کر رہے تھے۔ اِس مقدمہ قتل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ مقتول رستم علی وقوعہ کے بعد خود رول ہیلتھ سنٹر پہنچا۔رول ہیلتھ سنٹر وقوعہ سے سترہ کلو میٹر فاصلہ پر ہے ۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور میڈیکل رپورٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ مقتول خود اپنے طبی معائنے کے لیے پیش ہوا۔ لیکن میڈیکل رپورٹ یہ بات ظاہر نہیں کرتی ہے کہ مقتول کے دو بھائی بھی اُس کے ساتھ طبی معائنے کے وقت موجود تھے۔ گولی مقتول کے پیچھے سے نکلی اِس انداز میں گولی لگنے سے انسان اِس قابل نہیں ہوتا کہ وہ سترہ کلو میٹر کا فاصلہ پیدل چل کر اپنا طبی معائنہ خود کروائے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اور قتل اور پوسٹ مارٹم کا درمیانی وقت ،جو کہ ساڑھے پانچ بجے صبح کے بجائے آدھی رات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ پراسیکیوشین کے مطابق ملزم کے قبضہ سے آتشیں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ لیکن اِس بات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ درخواست گزار کا بیان جو 342 Crpc کے تحت لیا گیا اُس وقت یہ سوال نہ کیے گئے۔ 
یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ ایسی کوئی بھی شہادت جو کہ ملزم کی Crpc 42 کے وقت جو statement ریکارڈ کرتے وقت اُس پر اُس شہادت کی بنیاد پر جرح نہ کی جائے تو ایسی شہادت کو ملزم کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ پراسکیوشن کی جانب سے جو Motive بیان کیا گیا کہ وہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے سے درست طور پر نہیں سمجھا گیا ہے۔ اور ہائی کورٹ بھی اِس بات کو نہ سمجھ سکا کہ جو Motive پراسیکیوشن نے بیان کیا ہے وہ درست نہ ہے۔ایف آئی آر جو اِس وقوعہ کی درج ہے وہ یہ ثابت نہیں کرتی کہ درخواست گزار کا براہ راست اِس قتل سے تعلق ہے۔پس درخواست گزار کے خلاف Motive ثابت نہیں ہوتا۔عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ میڈیکل کی شہادت کے محرکات پراسیکیوشن کے گواہان کے الزامات کی تائید نہیں کرتے۔ درخواست دہندہ سے منسوب زخم8 جو مقتول کو لگایا گیابقول ڈاکٹر مہلک نہ ہے۔ 
مندرجہ بالا جو بحث کی گئی ہے اِس کا حاصل یہ ہے کہ پراسیکیوشن امتیاز عرف تاج پر کیس ثابت نہ کر سکا ہے۔ اِس لیے عدالت اپیل منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کو دی جانے والی سزا معطل کرتی ہے اور ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری ہونے کا حکم دیتی ہے۔ اگر یہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہے تو اِسے رہا کردیا جائے۔ عدالت کو یہ بتایا گیا ہے کہ ساتھی مجرم امتیاز ولد رمضان جسکا 342 (b)بمعہ 34PPC لئے تحت ٹرائل ہوااور اِسے عمر قید کی سزا ہوئی اور ہائیکورٹ نے اِس کی سزا برقرار رکھی۔ عدالت کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ امتیاز ولد رمضان کی جانب سے جیل سپرئیڈنٹ کو مسلسل یہ کہا جاتا رہا ہے کہ اِس عدالت میں اِس کے لیے پٹیشن دائر کی جائے۔ عدالت یہ سمجھتی ہے کہ فرانزک رپورٹ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ا متیاز ولد رمضان کا اسِ قتل سے کوئی تعلق نہ ہے۔ امتیاز ولد رمضان کا کیس تو بری ہونے کا بنتا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ ملزم تو موقعہ پر موجود تھا اور اِس نے کوئی فائر نہ کیا تھا اور اِس نے مقتول کوکوئی زخم نہ لگایا تھا۔اِس عدالت کے فیصلے 2011SCMR 1142 کے مطابق درخواست دہندہ کو دیا جانے والا شک کا فائدہ اُسکے ساتھی ملزم تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ عدالت یہ سمجھتی ہے کہ امتیاز ولد رمضان کو عدالت سے دی جانے والی سزا ختم کی جاتی ہے اور اُس کو بھی شک کا فائدہ دے کر بری کیا جاتا ہے اِسے بھی جیل سے رہا کردیا جائے اگر یہ کسی اور کیس میں مطلوب نہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالم نگار وکالت کے پیشے سے منسلک ہیں۔ اور اپنی نوعیت کی اُردو زبان میں قانون کی واحد کتاب قانون کی حاکمیت کے مصنف ہیں۔

Thursday, 1 March 2018

,International Award for Ashraf Asmiادب سرائے انٹرنیشنل کی جانب سے 2018 کے ایوارڈ ،علی مزمل، وقارالسلام اور اشرف عاصمی کے نا


ادب سرائے انٹرنیشنل کی جانب سے 2018 کے ایوارڈ ،علی زمل، وقارالسلام اور اشرف عاصمی کے نام

گولڈ میڈل حاصل کرنے والے میں امین اڈیرائی،قمر ہمدانی، مہر خان،عجب خان،دعا علی،صائمہ جبین مہکاور نقاش شبیر شامل ہیں
ایوارڈ کی تقریب کی صدارت معروف دانشور، شاعر،ادیب اور مصور جناب اسلم کمال نے کی۔جبکہ میزبان ادب سرائے انٹرنیشنل کی چےئرپرسن ڈاکٹر شہناز مزمل تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(لاہور ) ادب سرائے انٹرنیشنل گزشتہ تیس سال سے فروغِ ادب کے لیے بے لوث کام کرنے والوں میں اسناد،میڈلز اور شہناز مزمل ادبی ایوارڈز تقسیم کرتا ہے۔اور یہ ایوارڈز پوری دنیا میں جہاں تک ہماری پہنچ ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص یا کوئی گروپ فروغِ ادب کے لیے کام کر رہا ہے تو ہم اُن کی حوصلہ افزائی کے لیے یہ ایوارڈز تقسیم کرتے ہیں۔اور نوجوان نسل کی ہم بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں کیونکہ یہی کل کے معمار ہیں اور اس میں بھرپور کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔گزشتہ سال ہم نے سوئٹزرلینڈ، امریکہ، انگلینڈ،سعودی عرب اور بحرین میں فروغِ ادب کے لیے کام کرنے والوں اور شعراء کرام کو مختلف اسناد، میڈلز اور شہناز مزمل ادبی ایوارڈ سے نوازا۔اور ہم یہ میڈلز،اسناد کافی عرصے سے فروغِ ادب میں حوصلہ افزائی کے لیے تقسیم کر رہے ہیں۔اوراس سال بھی پاکستان کے مختلف علاقوں سے فروغِ ادب کے لیے کام کرنے والوں کو ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا گیا۔شہناز مزمل ادبی ایوارڈ علی مزمل کی خدمت میں پیش کیا گیا۔علی مزمل ایک بہت بڑے دانشور، نقاد اور شاعر ہیں۔اور وہ فروغِ ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔سوشل میڈیا پر چلنے والی بہت سی ادبی تنظیموں میں ان کا بہت اہم کردار ہے۔ علی مزمل اپنی بیماری کے باوجود بے پناہ ادبی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ہمیں فخر ہے کہ ہمیں ان سے ملنے کا موقع ملا اور ان کی بے پناہ صلاحیتوں کی بدولت ان کو یہ ایوارڈ دیا گیا۔ 
اور دسرا ایوارڈ میاں وقارالاسلام کو پیش دیا گیا جو گزشتہ بیس سالوں سے ادب سرائے انٹرنیشنل سے منسلک ہیں۔تین شعری مجموعوں کے خالق ہیں اور ان کی ایک سیریز بیسٹ نوٹس آف لائف کے نام سے چل رہی ہے۔جس کی بیس سے زیادہ جلدیں منظرِعام پر آچکی ہیں۔اور ان میں سے کلیات کو آپ نے ترتیب دیا ہے اور مشہور شاعرات کے حوالے سے بھی کام کر رہے ہیں مارول سسٹم اور بہت سی دیگر تنظیموں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کی ادبی خدمات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ان کو شہنازمزمل ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔اورمیاں اشرف عاصمی کو بھی شہناز مزمل ادبی ایوارڈ پیش کیا گیا۔ میاں اشرف عاصمی صاحب ہائیکورٹ میں ایک وکیل ہیں اور بہت عرصے سے کالم نگاری بھی کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر ان کئی کتابیں منظرِعام پر آچکی ہیں اور آپ مختلف شخصیات کے بارے میں بھی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ ان کا پیشہ بھی بہت مصروف ترین پیشہ ہے لیکن اس کے باوجو آپ فروغِ ادب کے لیے بے پناہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کی ایک موجودہ کتاب قانون کی حاکمیت ایک زبردست تخلیق ہے۔ ایوارڈز کے ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ادبی خدمات سرانجام دینے والوں میں گولڈ میڈل بھی تقسیم کیے گئے۔ جن میں سے پہلا گولڈ میڈل امین اڈیرائی جن کا تعلق سندھ سے ہے ان کو دیا گیا۔یہ ادب کے لیے بہت سی خدمات انجام دے رہیہیں اور مختلف کتابوں کے تراجم پیش کیے ہیں۔دوسرا گولڈ میڈل قمر ہمدانی صاحب کو جن کا تعلق جھنگ سے ہے ان کو پیش کیا گیا۔اور قمر ہمدانی صاحب گزشتہ پچیس سال سے دریچہ ادب کے نام سے ایک ادبی تنظیم چلا رہے۔ 
تیسرا گولڈ میڈل مہرخان کو پیش کیا گیا جن کا تعلق دادو سندھ سے ہے۔ وہ بھی ادبی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔دو عالمی شہرت یافتہ اداریادارہ عالمی اردو محفل ادارہ اردو ادب پاکستان کا بانی و چیر مین ہیں۔آپ کے انتخابات کلام مختلف اخبارات کی زینت بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔چوتھا گولڈ میڈل عجب خان جن کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے ان کو پیش کیا گیا۔عجب خان صاحب ایک آرٹسٹ ہیں اور شاعری سے بھی ان کا تعلق ہے اس کے ساتھ تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔پانچواں گولڈ میڈل دعاعلی جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے ان کو پیش کیا گیا۔ دعاعلی کی اردو ادب کے لیے بہت سی خدمات منظرعام پر ہیں۔خواتین میں سے سوشل میڈیا پر ادبی فروغ کے لیے ان کی خدمات قابل تعریف ہیں۔چھٹا گولڈ میڈل صائمہ جبین مہکؔ کو دیا گیا۔ جن کا تعلق تلہ گنگ ضلع چکوال سے ہے۔ صائمہ جبین مہکؔ اردو ادب کے لیے مختلف میگزین اور اخبارات میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ان کی نثری اور آزاد نظموں نے مختصر عرصہ میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اور ان کی نظموں کا پہلا شعری مجموعہ بہت جلد منظرعام پر آنے والا ہے۔ ادب سرائے انٹرنیشنل میں بھی ان کی بہت سی خدمات پیش پیش ہیں۔ ساتواں گولڈ میڈل نقاش شبیر جنہوں نے ابھی ادب کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ہم نوجوانوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اور یہ ادب سرائے انٹرنیشنل کے لیے بھی بہت سی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ان کا ایک شعری مجموعہ بھی بہت جلد منظرعام پر آنے والا ہے۔اور مختلف رسائل و جرائد میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اور آج ہم نے یہاں پہ خالد یزدانی جنہیں نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ان کو مبارکباد دینے کیلیے بھی اس تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس کی صدارت اسلم کمال نے کی جو معروف دانشور، شاعر،ادیب اور مصور ہیں اور ہم ان کے بہت شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اس تقریب کی صدارت کر کے ہمیں اعزاز بخشا۔
اورمہمانِ خصوصی معروف سماجی کارکن زاہد شریف صاحب سعودی عرب سے تشریف لائے تھے۔ناصر رضوی،تنویر صادق،روبیعہ جیلانی،زاہد شریف،خالد نصر،افتخار شوکت اور دیگر شعراء نے شرکت کی۔
اسلم کمال نے اپنے صدارتی کلمات میں ڈاکٹر شہنازمزمل کی ادبی خدمات کو سراہا اور ان سے کہا کہ ان کو مادر دبستان کا جو خطاب ملا ہے وہ واقعی اس کی حقدار ہیں۔وہ ایک ماں ہیں اور وہی بے لوث محبت و خلوص کا جذبہ ان میں نظر آتا ہے اور میں ہمیشہ ان کے لیے کہتا ہوں کہ یہ شہناز مزمل کسی ایک ہستی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ہماری پاکستانی اور اسلامی تہذیب کا ایک مکمل پیکر ہیں۔جس پرہمیں بے حد فخر ہے

Saturday, 10 February 2018

Article By Renowed Writer Akhter Sardar Ch about my law Book.. Regards Ashraf Asmi


Article By Renowed Writer Akhter Sardar Ch about Law Book of Ashraf Aasmi  




Who Will Bell the Cat?.... Judiciary...... Article By Ashraf Aasmi

Who Will Bell the Cat?.... Judiciary

  At last , judiciary  has decided to take action against corruption of  general Musharaf.This thing shows that now the Judiciary has decided to eradicate the corruption in the country without discrimination of civilian or army men.  Indeed army , may have reservations regarding  to take action against its Ex. Chief, but it is the need of the hour, at least politicians and  ex military dictator should be equally trail by the court of law.For this a petition has been moved in Islamabad High Court, the IHC had ordered to NAB to take action against the corruption of the Musharaf. Here is details of the proceedings of the court.
The Islamabad High Court yesterday directed the National Accountability Bureau (NAB) to investigate former president and army chief General (retd) Pervez Musharraf for allegedly accumulating assets beyond his known means of income.A division bench of IHC comprising Justice Athar Minallah and Justice Miangul Hassan Aurangzeb conducted hearing of the petition moved by Inam-ul-Rahiem Advocate who sought court’s direction for initiation of a reference against Musharraf. He also prayed the court to restrain Musharraf from alienating and disposing of his assets and properties till the final disposal of this petition.In his petition, Inam cited NAB chairman and former president Musharraf as respondents.The dual bench declared in the verdict that the former military dictator was amenable to be proceeded, investigated, tried and convicted under the NAB Ordinance of 1999 if there was evidence that he committed an offence.The court stated that Musharraf can be tried because of “two eventualities; firstly, for holding the constitutional post of the President of Pakistan and secondly, clause (vi) of section 5(m) of the Ordinance of 1999 is attracted because he had resigned and stands retired from the Armed Forces of Pakistan.”The verdict said, “Across-the-board accountability is an onerous statutory obligation of the Bureau under the mandate of the Ordinance of 1999.” It added, “Public trust and confidence is the hallmark of effective and result-oriented accountability.”Justice Athar, who had written the verdict, noted, “It is the duty of the bureau to consider any information or complaint laid before it by a citizen and then to fulfill its statutory obligations by proceeding under the Ordinance of 1999 in a fair and transparent manner without fear or favour.”The judgment said that the bureau was empowered to consider the complaint of the petitioner and after such consideration if it is of the opinion that an offence under the Ordinance of 1999 is prima facie made out, then it will become a duty of the latter to proceed to inquire, investigate and take all other steps mandated under the Ordinance of 1999.”Answering a question on whether the bureau has jurisdiction to inquire into or to investigate the alleged offences of corruption or corrupt practices against Musharraf, the court said that a member of the Armed Forces who has also been president of Pakistan cannot claim immunity or exemption from being subjected to the Ordinance of 1999.Likewise, it added, a member of the Armed Forces after retirement or resignation becomes exposed to being proceeded against under NAB laws because the immunity ends upon the end of service.The verdict maintained, “We are satisfied that the Bureau has indeed erred in misinterpreting the provisions of the Ordinance of 1999 by refusing to consider and entertain the complaint, which had been filed by the petitioner.”  Subsequently, the court declared NAB’s letter of April 25, 2013, as illegal.In this petition, Advocate Inam adopted before the court that the petitioner filed a complaint to respondent no. 1 for initiating a reference against respondent no. 2 supported by the documentary evidence in the form of Musharraf’s declarations made in his election papers when he appeared as candidate for National Assembly.He added that as the respondent no. 2 was holding the office of Chief of Army Staff as well as President of Pakistan and in that capacity he was duty bound to defend the motherland and protect the lives of his countrymen. However, he by violating his oath, got his own countrymen and fellow Muslims abducted and sold them to Americans.The petitioner stated that instead of taking any action under the law, the respondent no. 1 returned back the complainant without any action.He argued that the point of view of NAB was totally incorrect, illegal and mala fide as corruption was never defined as an offence in the Army Act. The present Army Act which was inherited from Colonial Masters and even the framer of that act could never imagine that any army person that of a General and Chief of Army Staff could be so corrupt that he could sell his own people for monetary gains.He contended that under the NAO 1999, the respondent no.1 was legally bound to proceed as per the law laid down against the wrongdoer (who was holding the public office) when the complaint had been made but the respondent No. 1 did not act in accordance with law.Therefore, advocate Inam prayed that a writ may kindly be issued directing the respondent no.1 to proceed against Musharraf in accordance with law and to submit report before the court in respect of findings arrived at by the Respondent No.1 regarding the complaint/ reference filed by the petitioner.The court proceedings shows, now it is the best time to take action against corrupt Mafias , so it is no the duty of the court to take action against all corrupts emelments those looted dear homeland, with any discrimination, it can be termed as ray of hope for the people of Pakistan.
……………………………………….

Columnist is the practicing Lawyer. 

People are best judge and see everything ..Article By Ashraf Aasmi

        


People are best judge and see everything

Article By Ashraf Aasmi

            

T
he people of Pakistan are witness; the present rulers are playing game with judiciary. No doubt in the past, the Judiciary has opted the path of compromises, but it is not 90,s 80,s era, now the nation has flood of information , so there is a drastic change in the behavior of the  masses  because of social media. Now nothing cannot  be concealed. The present condition has been created by rulers themselves, as Nawaz Sharif   continuously  raising slogans against apex court. As a student of law, it can not be bear.If our rulers contempt the court, then what will be message for common person. Government  is  responsible for good governess,  to achieve this end, there  must be rule of law, but our Ex.PM himself  using abuse language against judiciary .Our EX PM is  addressing  to the public meetings  throughout the country and he had a view point that  he was disqualified by the apex court  with ulterior motives. He has a view , court has personal garage  against him. In fact if rulers do not obey the court order then there will be no rule of law. Nawaz Sharif should understand it is now 2018, people have much awareness as compared to the past. Chief Justice of Pakistan has clearly mentioned that he is not the part of any game against N League Govt. Similar type of  statement was of ISPR. Even CJ told that if  democratic system dissolves, he will quit his office. Now come the recent development. Chief Justice Mian Saqib Nisar said loyalty to the judiciary is the duty of every citizen of Pakistan and ridiculing it is disobedience to the constitution. The chief justice said this while heading a three-judge bench which heard the petitions against the Election Act 2017.Sardar Latif Khosa, representing Pakistan People’s Party, said freedom of speech does not mean PML-N leaders are allowed to scandalise and criticise the apex court.Justice Ijaz-ul-Ahsan said criticising and attacking the apex court also fall under the purview of Article 5 of the constitution, which says; “Loyalty to the state as well as obedience to the constitution and law is the obligation of every citizen.”To a court query, Latif Khosa said the state comprises parliament, judiciary and executive. He added Article 5 says loyalty to the state is the obligation of every citizen while disloyalty to it is treason.Chief Justice Saqib Nisar said there is a latest trend in the English courts. Justice Ijaz-ul-Ahsan said: “They (judges) do respond to the criticism of their judgments in public and that response is robust.”The chief justice also held the sentence for contempt of court is not only a six-month jail, but it could be awarded keeping in view the extent of contempt.Justice Ahsan said: “You (Nawaz Sharif) tried to befool the people inside and outside the court, but never told the whole truth to the bench.”Latif Khosa said it is the track record of PML-N leaders that if a judgment comes against them, they start criticising the courts. He said the people should respect not only the apex court but also all the courts. He said if people stop respecting the courts, it would be disastrous for the society and the whole structure would be destroyed and there would be law of jungle.The PPP lawyer said the SC is not just a court of four or five judges; it is the court of the people of Pakistan, adding the judges are sitting with the backing of the people. “Nawaz Sharif has not been removed by the apex court, but the people of Pakistan. This is not just the humiliation of the court, but that of the people of Pakistan,” he added. Khosa argued the court is showing restraint on former premier minister Nawaz Sharif’s speeches against judges. The chief justice said the people of Pakistan are the backbone and strength of the judiciary , adding they are the best judge and see everything.
……………………….

Columnist is Practicing Lawyer. 

Will Husain Haqqani Be Brought Back..Article By Ashraf Aasmi


Will Husain Haqqani Be Brought Back..

Article By Ashraf Aasmi


It is the matter of hope that the Supreme Court is trying to bring back to the Hussain Haqqani.As it is the clear cut version of Mr. Haqani, he is playing in the hands of anti Pakistani lobby . Suprem Court has taken up this case now. The case has been opened after five years.
The federal government on Thursday assured the Supreme Court that all measures would be taken to bring back Husain Haqqani, former Pakistani ambassador to the United States.Additional Secretary Interior, Director US Desk, Ministry of Foreign Affairs Bilal Hayee and DG FIA Bashir Memon appeared before a three-member bench headed by Chief justice Mian Saqib Nisar.The bench heard review petitions on the Memogate scam. Last week, the chief justice hearing a case of voting rights of overseas Pakistanis had issued a notice to Haqqani to come back and face the instant case.On January 3, 2013, Haqqani left the country with the commitment to come back on a four-day notice and the court had allowed him to go abroad. He, however, did not return to the country and breached his commitment with the court. On June 4, 2013, the court had directed the executive to bring him back.Additional Attorney General Waqar Rana representing the secretaries and the DG FIA submitted that as the case was taken up after a long time, therefore, he could not say anything what had happened in the past but from now onwards, all measures will be taken to bring Haqqani back from the US. He said that a meeting in this regard will be held at the highest level, deliberating the measures to bring him back.The court directed secretaries of interior, foreign affairs and the DG FIA to adopt all constitutional and legal measurers to bring Haqqani back and submit a compliance report within a week.The court also directed that the breach of commitment by Haqqani declining to return to Pakistan should also be examined by the authorities.Earlier, the chief justice observed that in the last order (dated 04-06-2013) the case was adjourned for four weeks. Expressing surprise he said why the case was not fixed as per the June 4 order. The chief justice also issued a notice to the SC Office to explain the reasons.Meanwhile, Barrister Zafarullah, a petitioner, brought into the notice of the chief justice a new item that appeared in a section of the press and produced cuttings of the news story. According to the news report, Husain Haqqani has dismissed reports about reopening of the infamous Memogate case terming it a ‘political gimmick’ on part of the Supreme Court.“I will not come to Pakistan on the insistence of Baba Rehmatay [chief justice],” the petitioner quoted Haqqani as saying.Waqar Rana told the court that Haqqani frequently ridicules the courts of the country. The chief justice, however, said that he would not react to the remarks made by the former ambassador, but the Memogate matter would be pursued diligently as it concerned the country’s honour.The court also dismissed Haqqani’s review petitions against the Supreme Court order to form a commission to probe the Memogate scam.With the onset of the hearing, Advocate on Record Chaudhry Akhtar and Asma Jahangir appeared before the bench and stated that they have been instructed not to plead his case, therefore, they are withdrawing Wakalatnaama.The case is adjourned for one week.
The court proceedings shows , Chief Justice has great will to bring back Mr. Haqqani to Pakistan.It is the true the supremacy of rule of law, every one should be treated equally.




Thursday, 8 February 2018

https://www.youtube.com/watch?v=3XBeKmPnzEo&feature=youtu.be Introduction of book of law of ashraf asmi advocate

click  link to watch video of Introduction of book of law of ashraf asmi advocate



https://www.youtube.com/watch?v=3XBeKmPnzEo&feature=youtu.be




Wednesday, 24 January 2018

دور حاضر کے ممتاز قلمکار جناب اختر سردار چوہدری کی کتاب پاکستان سے دُنیا تک صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ


دور حاضر کے ممتاز قلمکار جناب اختر سردار چوہدری کی کتاب پاکستان سے دُنیا تک 

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 

حال ہی میں ممتاز قلمکار جناب اختر سردار چوہدری کی کتاب پاکستان سے دُنیا تک شائع ہوئی ہے۔ کتاب کے نام سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چوہدری صاحب نے دُنیا بھر کے متعلق اہم باتیں اِ س کتاب کی زینت ہیں۔چوہدری صاحب جیسے تخلیق کار ہمارے معاشرئے کے لیے ایک بہت بری نعمت ہیں۔
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو پہلی ہی نظر میں دل میں گھر کر جاتی ہیں۔ راقم ہمیشہ سے دانشوروں ،قلم کاروں کا مداح ہے۔ اِس لیے جو بھی اُردو زبان میں اس وقت لوگ لکھ رہے ہیں اُن کو راقم اپنے سر کا تاج سمجھتا ہے کیونکہ موجودہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیلاب نے لکھنے پڑھنے والے لوگوں کی تعداد کو کم کردیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ نہم جماعت کا بچہ نسیم حجازی اشتیاق احمد اسلم راہی کے تاریخی ناولوں کا پرستار تھا اسی طرح ابن صفی ، محی الدین نواب، طارق اسماعیل ساگر، رضیہ بٹ، مظہر کلیم کی لکھی ہوئی کہانیوں اور ناولوں نے نوجوان نسل سمیت ہر عمر کے طبقے کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ یوں نصابی کُتب کے ساتھ ساتھ اُردو ادب سے بھی شناسائی اور اپنی قومی زبان میں لٹریچر پڑھا جانا ایک بہت ہی صحت مندانہ اقدام تھا لیکن انٹرنیٹ، موبائل فون فیس بُک کی بدولت مصروفیت کے اور لوازمات ہونے کی وجہ سے پڑھنے کی عادت کم ہوتی چلی گئی۔امید واثق ہے قوم ایک دن فیس بُک کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ ناول ،کہانیوں اور کالموں کی طرف پھر لوٹے گی۔ اِس مضمون کی یہ ساری تمہید میں نے جناب اختر سردار چوہدری صاحب جو کہ ایک معروف قلم کار ہیں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے باندھی ہے۔ جناب اختر سردار چوہدری نے ایک بہت اچھا ٹرینڈ جو شروع کیا ہے جس سے پوری قوم کو حالات حاضرہ اور اہم واقعات سے آگاہی کے حوالے سے بھرپور مواد پڑھنے کے لیے تازہ ترین وقتاً فوقتاً میسر آتا ہے۔ جناب چوہدری صاحب نے مختلف عالمی و قومی ایام کی مناسبت سے مضامین لکھنے جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اِس سے ایک تو اہم عالمی دنوں کی یاد تازہ ہوتی ہے ساتھ ہی اُس دن کی اہمیت کے حوالے سے بھر پور مواد اختر سردار چوہدری صاحب کے مضامین کی زینت بنتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے مجھے عالمی دنوں کا پتہ بھی جناب اختر سردار صاحب کے مضامین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور یوں جناب اختر سردار چودری صاحب نے قومی زبان اُردو میں ایسا مواد پیش کرکے بہت بڑی خدمت کی ہے۔ موثر انداز میں لکھے گئے مضامین یقینی طور پر ہمیشہ کے لیے ایک دستاویز کی حثیت رکھتے ہیں اِس لیے جناب اختر سردار چوہدری صاحب کے قلم سے لکھے ہوئے الفاظ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے ہیں اور اِن الفاظ کی اہمیت ہرآنے والے دور میں ہر عمر کے قاری کے لیے دو چند ہے۔ راقم کو یہ افتخار حاصل ہے کہ جناب اختر سردار چوہدری سے نیازی مندی کا تعلق قائم ہے اور اِن سے سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ فون پر بھی رابطہ رہتا ہے ۔ یوں اِن کی شخصیت موٹیویشن کا محرک ہے۔ چوہدری صاحب کے لکھے ہوئے مضامین کمال کے ہوتے ہیں اور تحقیقی مواد ہونے کی بنا پر اِن کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جناب اختر سردار چوہدری کو بہت سے ادبی ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ انتہائی مرنجاں مرنج شخصیت اور نبی پاک ﷺ کے عاشق جناب اختر سردار چوہدری چونکہ ایک بزنس مین ہیں اور لکھنے کا کام اُن کا شوق کی وجہ سے ہے۔ اِس لیے وہ روایتی دباؤ کا شکار نہیں ہیں۔ جس طرح کے ملامت پیشہ صحافیوں کا استحصال اخبار مالکان کرتے ہیں۔ یوں جناب سردار چوہدری کا قلم کلمہ حق کہنے کے حوالے سے آزاد ہے اور کسی طرح کے بھی دُباؤ کے بغیر لکھنا جناب اختر سردار چوہدری کا وصف ہے۔اِن کی تحریروں میں ایک طرف طرف تو علم کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے تو دوسری طرف قاری کے ذہن پر سوار ہو کر چوہدری صاحب کا قلم مختلف انداز میں واقعات بیان کر رہا ہوتا ہے۔ انسانی جبلت کو سمجھتے ہوئے اور معاشی و معاشرتی مسائل کے حل کے لیے اِن کے مضامین معاشرئے میں نفوس پزیری کے حامل افراد کے لیے مشعل رہا ہیں ، مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہے لیکن سچی بات ہے کہ اختر سردار چوہدری کے لکے ہوئے مضامین سے راقم کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ اختر سردار چوہدری اپنے عہد شباب میں ہی اتنے زبردست لکھاری بن چکے ہیں کہ اِن کا قلم آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے روشنیاں بکھیر رہا ہے۔ اللہ پاک اختر سردار چوہدری کو سدا سلامت رکھے۔آمین 

زینب جیسی بیٹیوں کو درندگی سے پچانے کے لیے قانون سازی وقت کی آواز صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ


زینب جیسی بیٹیوں کو درندگی سے پچانے کے لیے قانون سازی وقت کی آواز


صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

زینب کے قاتل کی گرفاری کے بعد وزیر اعلیٰ نے جو پریس کانفرنس کی اُس میں خادم اعلیٰ نے جس طرح تالیاں بجاتے رہے۔اور زینب کے والد کو بات مکمل نہ کرنے دی بلکہزینب کا والد ابھی بات کر رہا تھا کہ انتہائی سُرعت کے ساتھ خادم اعلیٰ نے زینب کے والد کا مائیک؂اپنی ہاتھوں سے خود ہی بند کردیا۔خادم اعلیٰ انتہائی سرُعت رفتار ہیں۔ لیکن اُنھوں نے ہمیشہ سولو فلائٹ ہی اُڑائی ہے ۔شریف فیملی پچھلے تیس سالوں سے حکومت میں ہے لیکن کوئی ایک محکمہ بھی ایسا نہیں جسے بطور مثال پیش کیا جاسکے۔ دوسرے صوبوں کی تو بات نہیں کرتے پنجاب جہاں پہ بلاشرکت غیرے حکمرانی اِن کے پاس رہی ہے اور اب بھی مسلسل دس سال سے شہباز شریف ہی حکمران ہیں۔ کسی بھی معاشرے کے لیے صحت تعلیم اور پولیس کا نظام سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن پنجاب میں سکولوں میں تعلیم کا جو حشر ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔سرکاری سکولوں میں لویر مڈل کلاس طبقہ یا انتہائی ٖریب طبقہ بھی جانا پسند نہین کرتا۔ آجا کے لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی خواتیں یا ایسے مزدور جن کی روزی روٹی بہت ہی مشکل میں ہو یا کسمپرسی کی حالت ہو وہ صرف گورنمنٹ سکولوں میں اپنے بچوں کو بھیج رہے ہیں۔ باقی تھوڑا سا بھی ستیٹس کونشتس شخص پرائیوٹ سکولوں میں اپنے بچوں کو داخل کرواتا ہے۔ پرائیوٹ سکولوں میں بھی انتہائی امتیاز برتا جارہا ہے۔ ہزاروں روپے اور ڈونیشن وصول کرکے پرائیوٹ تعلیمی ادارے لوگوں کی کھال اُتاڑ رہے ہیں۔ اُن کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ٹیوشن مافیا نے الگ عوام کا استحصال کر رکھا ہے۔ خادم اعلیٰ نے کیا کیا ہے اِس شعبے میں ابتلک۔ صرف خالی نعرے۔حکومتی ہسپتالوں میں عوام جس طرح فُٹ بال بنے ہوئے ہیں۔ وہ سب کے سامنے ہے اور اِس کا فائدہ پرائیوٹ ہسپتالوں والے اُتھاتے ہیں۔ یوں ہر طرف سرمایہ داروں کی ہی چاندی ہے۔ حکمران خود سرمایہ دار ہیں اِس لے عوام کی انہتائی محنت سے کمائی گئی کمائی بھی سرمایہ داروں کی جیب میں جارہی ہے۔ حکمران چھوتی سے چھوٹی بیماری کا علاج بھی بیرون ملک کرواتے ہیں اور عوام کو اِن پرائیوٹ ہسپتالوں کے حوالے کر رکھا ہے۔پولیس کا کام ہی سرمایہ داروں اور سیاستدانوں وڈیروں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ عوام تھانے کچہری کے نام سے کانپ اُٹھتے ہیں۔ پولیس کی من مانیوں کا عالم یہ ہے کہ اَس کا کام صرف اور صر ف عوام میں دہشت پھیلانا۔ پولیس مجرموں کی ساتھی اور مظلوموں کی دُشمن ہے۔ 
7سالہ زینب اور دیگر 7بچوں کے قاتل عمران علی ولد ارشد کو ڈی این اے میچ ہونے پر پاکپتن سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم جو مزید تفتیش کیلئے ف فرانزک لیب لاہور منتقل کر دیا گیا ہے،زینب کے ورثاء اور لوگوں نے ملزم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے،ملزم کے گھر کے باہر پولیس کاکڑا پہرا لگا دیا گیا، ملزم نے عتراف جرم کرلیا۔ 4جنوری کو روڈ کوٹ کے علاقہ سے اغوا ہونے والی 7سالہ زینب کو 14روز قبل زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا جس کی نعش کشمیر چوک کے قریب کچراکنڈی سے ملی پولیس کے مطابق ملزم عمران ولد ارشد کا ڈی این اے میچ ہونے پر گرفتار کر لیا گیا جو زینب کا پڑوسی ہے۔پولیس کے مطابق زینب کی لاش ملنے پر زینب کے رشتہ داروں روڈ کوٹ،پیرووالا روڈ اور دیگر آس پاس علاقوں کے لوگوں کا تقریباً ایک ہزار افراد کا فوٹیج کے مطابق مشابہت رکھنے والے لوگوں کا ڈ ی این اے کر وایا گیا اسی دوران زینب کے پڑوسی ملزم کو بھی ڈی این اے کیلئے حراست میں لیا گیا جس کو زینب کے خاندان اور محلہ داروں کے کہنے پر ڈی این اے کئے بغیر چھوڑ دیا گیا محلہ داروں کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا ملزم نہیں ہے اور یہ درندگی زدہ کام نہیں کرسکتا مگر اس کے باوجود پولیس نے ملزم عمران کو ٹریک کر تی رہی اسی دوران ملزم ضلع سے باہر پاک پتن چلاگیا اور ملزم نے اپنی ڈھاڑی صاف کروا کر کلین شیو کروالی، سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق ملزم کو دوبارہ حراست میں لیا گیا اور ڈی این اے کروا کر چھوڑ دیا گیا جس پر ایک بارپھر ملزم شہرسے بار چلا گیا جب ڈی این اے کی رپورٹ آئی تو ڈی این اے ملزم عمران سے میچ کر تا تھا جس پر ڈی پی او قصور نے خود ملزم کو گرفتار کیا۔ ملزم نے تفتیش کے دوران اعتراف جرم کیا جس کی ریکاڈنگ کر لی گئی ہے‘ زینب کے والد کو ڈی پی او قصور اپنے ہمراہ لاہور لے کر گئے ہیں،اس کے علاوہ ملزم عمران کی خبر بریک ہوتے ہی مشتعل شہریوں کی بڑی تعداد نے ملزم کے گھر کی طرف رخ کرلیا اور ملزم کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی پولیس نے پہلے ہی ملزم کے اہلخانہ کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا اور گھر کو تالا لگا کر بھاری نفری کے ساتھ کڑا پہرا دیا جبکہ محلہ داروں سے ملزم کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ملزم عمران ایک نعت خواں تھا ملزم عمران محلے کے بچوں سے کافی گلاملا ہوا تھا اور محلے کے بچوں کو اکثر چاکلیٹ اور ٹافیاں وغیر ہ لیکر دیتا تھا اس کا والد ڈیڑھ ماہ قبل فوت ہوچکا ہے جو مستری تھا اور ملزم کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں ملزم عمران کے پاس لوگ دم درود کیلئے بھی جاتے تھے اور اس میں جن وغیرہ بھی حاضر ہو تے تھے اسکے علاوہ وہ گھر کی بیٹھک میں الیکٹریشن کا کام بھی کرتا تھا اور اس کو مرگی کے دورے بھی پڑتے تھے۔ پولیس عمران علی سے قصور میں مزید بچیوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعات کے حوالے سے تفتیش کررہی ہے جبکہ پولیس نے ابتدائی رپورٹ بنا کر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو بھی ارسال کردی ہے۔ اس حوالے سے زینب کے والد حاجی امین انصاری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا وہ تفتیش سے مطمئن ہیں اور کورٹ روڈ کا رہائشی عمران علی ان کا محلہ دار ہے اور ان کے پیچھے گھر میں رہائش پذیر ہے اس کے ساتھ کوئی دوسرا رشتہ داری نہیں۔ ملزم کی متعدد تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں۔ ملزم عمران علی کی عمر 24 سال کے قریب ہے۔ ملزم اپنے دو چچا کے ہمراہ ایک ہی گھر میں رہتا تھا۔ ملزم نے بیان دیا ہے کہ اس نے زینب سے کہا آؤ تمہارے والدین عمرے سے واپس آگئے ہیں والدین کا سن کر زینب خوشی خوشی ملزم کے ساتھ چل دی۔ 
سفاک درندے نے پہلا زیادتی کا واقعہ جون 2015ء میں کیا۔ ملزم کی درندگی کا نشانہ بننے والی 3 بچیاں زندہ ہیں۔ 8 جولائی 2013 کو ایک بچی سے زیادتی کے دوران زیرتعمیر مکان میں ایک شخص آگیا۔ ملزم اور وہ شخص اندھیرے میں گتھم گتھا بھی ہوئے۔ ملزم عمران اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگیا۔ قتل میں اے ٹی سی کی دفعہ 7 اے ٹی اے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملزم زینب کے گھر سے تقریباً 120 فٹ کے فاصلے پر رہتا ہے۔ ملزم واقعہ کے بعد زینب کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ رہا۔ ملزم عمران احتجاج اور ننھی زینب کے جنازے میں بھی شامل تھا۔ ملزم عمران کو 19 اور 20 جنوری کی شام کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتاری کے وقت ملزم مقامی ہوٹل میں چائے پی رہا تھا۔ ملزم کے بھائیوں‘ بہنوں اور قریبی رشتہ دار کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ملزم کا والد نفسیاتی مریض تھا جو انتقال کرچکا ہے۔ ملزم کا پہلا ڈی این اے 14‘ دوسرا 20 جنوری کو کیا گیا۔پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ میرا پیر مجھ پر دم کرتا ہے جس وجہ سے مجھ میں جن حا ضر ہو جاتے ہیں اور میں یہ گھناؤنا کام کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے زینب کے علاوہ قصور میں سات بچیوں کے ساتھ ساتھ زیادتی کے قتل کے علاوہ وہاڑی اور دیگر علاقوں میں مزید آٹھ سے زائد بچوں کے ساتھ زیادتی کا انکشاف بھی کیا ہے۔ پولیس نے ملزم کے بیان کے بعد اس کے حافظ سہیل نامی پیر کو بھی قصور کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیاہے جس کو مزید تفتیش کے لیے سی آئی اے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم انتہائی شاطر ہے اور کئی بار پولیس کو چکما دینے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ ملزم کئی دنوں سے پولیس کی تفتیش اور ڈی این اے کے متعلق لو گوں سے معلومات حاصل کر رہا تھا۔ پولیس نے ملزم کو انتہائی سکیورٹی میں لاہو ر منتقل کر دیا جس کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ملزم جرم کے آدھے گھنٹے بعد قتل کرکے لاش پھینک دیتا۔ واقعہ کے بعد ملزم پہلے دو دن غائب 
رہا۔جے آئی ٹی کے مطابق 5ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ چار ملزموں نے عمران کو روپوش ہونے میں مدد دی تھی۔ فرانزک لیبارٹری نے رپورٹس جے آئی ٹی کے حوالے کر دیں۔ زینب قتل کیس کا ایک ملزم وعدہ معاف گواہ بن گیا۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ زینب معاملے پر پوری قوم اشکبار ہے۔ زینب کے والد کا بے حد شکر گزار ہوں۔ زینب بیٹی کو درندگی کے ساتھ قتل کیا گیا، جے آئی ٹی نے شبانہ روز محنت سے کیس حل کیا زینب آج دنیا میں نہیں، قوم کے دل رنجیدہ ہیں۔ زینب کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا۔ دل کی گہرائیوں سے کابینہ کمیٹی، آرمی چیف، ڈی جی فرانزک لیب کا شکر گزار ہوں، قاتل کا نام عمران ہے اور یہ سیریل کلر ہے۔ فرانزک لیب میں 1150 ڈی این اے ٹیسٹ ہوئے تب یہ درندہ پکڑا گیا اس کے پولی گرافک ٹیسٹ بھی ہوئے، زینب کے قاتل کی گرفتاری محنت اور اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے ٹیم نے یہ سمجھ کر کام کیا کہ اگر ان کی بیٹی ہوتی تو کیا ہوتا۔ یہ لوگ راتوں کو نہیں سوئے، پولی گرافک ٹیسٹ میں درندے نے تمام درندگیوں کا اعتراف کیا ہے۔ ڈی این اے کی 100 فیصد میچنگ کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا، یہ عظیم کامیابی سائنٹیفک اور ہیومن انٹیلی جنس کی بدولت ملی، پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا اب دوسرا مرحلہ ہے۔ میرے بس میں ہو تو اس بھیڑئیے اور درندے کو چوک میں پھانسی دوں لیکن ہم سب قانون کے تابع ہیں۔ میری چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے درخواست ہے کہ اس کی جلد سماعت کی جائے۔ اگر قانون اجازت دے اور حاجی صاحب کا بھی یہ مطالبہ ہے کہ اسے چوراہے پر پھانسی دی جائے۔ ایسے ظالموں کو قانون نہیں آہنی ہاتھ کے ساتھ کچلنا چاہئے۔ اگر پنجاب فرانزک لیبارٹری نہ ہوتی تو اسے پکڑنا ممکن نہیں تھا۔ ہم لمحہ بہ لمحہ اس کیس کا جائزہ لیتے رہے ہیں مجھے رات کو پتہ چل گیا تھا میں نے فرانزک لیب ڈی جی سے کہا کہ اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ میں خود آؤں گا اور دوبارہ ڈی این اے ٹیسٹ ہوگا میں نے اپنے سامنے ڈی این اے ٹیسٹ دوبارہ کرایا اور ثابت ہوگیا کہ یہی درندہ ہے۔ چودہ دن کی محنت سے زینب کیس کا ملزم پکڑا گیا۔ اس درندے کیخلاف کیس انسداد
دہشتگردی عدالت میں جائے گا۔ ایسے کیسز کیلئے قانون میں تبدیلی کرنا پڑے تو کی جائے۔ مردان میں بھی ایک بیٹی اس طرح کی درندگی کا نشانہ بنی ہے۔ پنجاب کی فرانزک لیب ایسے کیسز میں مدد کیلئے حاضر ہے خیبر پی کے حکومت سے گزارش کروں گا پنجاب فرانزک لیب انکی مدد کرے گی۔ زینب کے والد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اجتماعی کوششوں سے ملزم گرفتار ہوا۔ بیٹی کے قاتل کی گرفتاری پر مطمئن ہوں، ملزم کی گرفتاری پر سکیورٹی اداروں کا شکر گزار ہوں۔ ملزم بچی کو ہم سے ملانے کا کہہ کر لیکر گیا تھا۔ میں نے خود اپنے بچوں کو اس طرح کے واقعات سے بچنے کا بتایا ہوا تھا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے زینب قتل کیس کا روزانہ ٹرائل کرنے کا اعلان کر دیا۔ چیف جسٹس منصور علی شاہ نے متعلقہ عدالت کو ہدایات جاری کردیں۔اُنھوں نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ جج زینب قتل کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پرکریں گے۔ زینب قتل کیس کی سماعت کرتے ہوئے انصاف کیا جائے گا۔ پتہ چلا ہے کہ وزیراعلی شہباز شریف نے کیس کی جلد سماعت کی درخواست کی ہے۔ وزیراعلی کو یقین دلاتا ہوں زینب کیس کی روزانہ سماعت ہو گی۔قبل ازیں ملتان بنچ میں اپنے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصورعلی شاہ نے کہا ہے کہ ادارے پیار و محبت سے چلتے ہیں‘ ڈروخوف سے نہیں۔ ٹیم ورک کے تحت کارکردگی میں نکھار آتا ہے۔ مثبت سوچ کئی راستے کھول دیتی ہے اچھا ادارہ وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔لوگوں کو انصاف فراہم کرنے والا ادارہ کرپشن فری ہونا چاہئے۔ بدقسمت شخص ہوتا ہے جو کرپشن کرتا ہے اسے حساب یاد رکھنا چاہئے۔ خادم اعلیٰ اپنا وعدہ پورا کریں اور زینب جیسی بیٹیوں کو سرعا م پھانسی دینے کے لیے فوری طور پر قانون سازی کریں

Monday, 18 December 2017

وراثتی حق کے زائد المعیاد ہونے کی بابت لاہور ہائی کورٹ کی تشریح ...............صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ





وراثتی حق کے زائد المعیاد ہونے کی بابت لاہور ہائی کورٹ کی تشریح

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مسٹر جسٹس خالد محمود خان نے 2016YLR383 کے مطابق وراثت کے حوالے سے ایک لینڈ مارک فیصلہ کیا۔ مقدمے کا عنوان محمد صدیق وغیرہ بنام مسماۃ عائشہ بی بی ہے جس کا فیصلہ 2017/2002 نمبر Civil Revision میں کیا۔ صدیق اور مریم بی بی کی وراثتی زمین تھی جو اُن کے والد شگتا اور والدہ راجی کی جانب سے تھی۔ یہ وراثتی زمین د و د یہات میں تھی ۔ چک نمبر 23 بوپال تحصیل پتوکی اور بونگہ سوڈی وال تحصیل دیپالپور ۔ دعویٰ میں وراثتی زمین کی تفصیلات مو جود ہیں۔ انتقال زمین کے مطابق مسماۃ مریم کے حق میں 230 اور 269 نمبر انتقال دونوں دیہات میں ہوا۔ مسماۃ مریم اپنے پیچھے ایک بیٹا منشاء اور دوبیٹاں اور خاوند رمضان کو وارث چھوڑ کی فوت ہوئی۔ منشاء 20-9-1986 کو وفات پاء گیا۔ ریسپانڈنٹس مسماۃ عائشہ بی بی وغیرہ منشاء کے قانونی وارث ہیں۔ یہ لوگ گاؤں سوڈی وال میں رہتے تھے۔ اور یہ لوگ کبھی بھی چک نمبر 23 تحصیل پتوکی نہیں گئے۔رمضان بھی بونگہ سوڈی وال کا رہائشی ہے۔ 
ریسپانڈنٹس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی والدہ مریم جو زمین چک نمبر 23 تحصیل پتوکی میں ہماری وراثت کے طور پر چھوڑ کر فوت ہوئی اُس میں سے اِن کو اُنکا وراثتی حصہ نہیں ملا۔ مریم بی بی چک نمبر23 تحصیل پتوکی میں1957 میں وفات پاء گئی۔چک نمبر 23 تحصیل پتوکی والی وراثتی زمین کے متعلق حقیقت اِن کے سامنے کبھی بھی نہ آئی اور نہ ہی ریسپونڈنٹس کے علم میں تھا کہ وہاں اِن کی وراثتی زمین ہے۔ اِن کے نانا محمد صدیق جو کہ پٹیشنر نمبر ایک ہے نے زمین اپنے دوبیٹوں خالد علی اور ظارق علی کے نام ٹرانسفر کردی۔ دعویٰ دائر کرنے سے کچھ روز پہلے رسپونڈنٹس کو بشیر احمد ولد حکیم عطا ء سے معلوم ہوا کہ کہ چک نمبر23 تحصیل پتوکی میں مریم بی بی کی وراثتی زمین ہے۔رسپونڈنٹس نے اپنے طور پر چک نمبر23 تحصیل پتوکی جا کر حقائق معلوم کیے۔اور یہ دعویٰ دائر کر دیا۔
پٹیشنرز نے کیس لڑا اور عدالت میں جاکر یہ کلیم کیا کہ مرحومہ مریم بی بی کی کوئی اولاد نہ تھی اور یہ کہ ریسپاونڈنٹس نمبر سات اور آٹھ مریم کی بیٹیاں نہیں ہیں اور نہ ہی ریسپاونڈنٹس نمبر ایک سے چھ تک قانونی ورثان ہیں۔ فریقین نے عدالت میں اپنا اپنا جو موقف عدالت میں جمع کروایا تھا۔ اُس کی بنیاد پر عدالت نے مندرجہ ذیل ایشو فریم کیے۔ 
1 ( آیا کہ دعویٰ جو کہ دائر کیا گیا ہے وہ جھوٹا ہے اور اِس کو خارج کر دینا چاہیے؟۔
2 ( کیا دعویٰ زائد المعیاد ہے؟
3) آیا کہ مدعیان نے مُدعا علیہان کو صرف ہراساں کرنے کے لیے دعویٰ دائر کیا ہے اور مدعیان آیا کہ سیکشن35-A , سول پروسجر کوڈ ( CPC) کے تحت ہرجانہ وصول کرنے کے حق دار ہیں یا نہیں؟
(4 آیا کہ مُدعیان نے وجہ کے دعویٰ دائر کیا۔ آیا کہ اُن کو اِس دعویٰ کو دائر کرنے کا حق نہ تھا؟
(5 آیا کہ اراضی انتقال نمبر 329 مورخہ8-1957 20- جس کا تعلق مسماۃ مریم بی بی چک نمبر 23
بوپال سے ہے اور موجودہ انتقال اراضی نمبر 139 مورخہ 24-5-1958 گاؤں بونگہ سوڈی وال تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑی جھوٹی ہیں اور حقائق کے منافی ہیں؟
6 ( کیا مریم بی بی کو 26 کنال اور19 مرلے زمین کا مالک بمطابق ا نتقال نمبر 230 قرار دیا گیا تھا اور انتقال نمبر 269 سے زمین ایک کنال ا ور اٹھارہ میں سے ہے چار مرلے کا مالک قرار دیا گیا تھا۔ 
(7 کیا انتقالِ اراضی نمبر 329 مورخہ20-8-1957 کو غلطی سے الاٹ ہوا
8 ) کیا مدعیان کو ڈگری ملنی چاہیے جس ڈگری کی انھوں نے عدالت سے استدعا کی ہے۔ 
دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی دستاویزی اور زبانی شہادتیں کروایں۔ ٹرائل کورٹ نے29-03-2000 کو دعویٰ خارج کرنے کا حکم صادر کردیا۔ ٹرائل کورٹ نے فیصلہ اِس بنیاد پر دیا کہ کہ یہ دعویٰ زائد المعیاد ہے۔ 
بعد ازاں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ۔ اپیلٹ کورٹ نے 2-7-2002 کو دعویٰ ڈگری کر دیا موجود ہ پٹینشرز اِس کیس کے خلاف سول نگرانی میں لاہور ہائی کورٹ دعویٰ لائے۔ پٹیشنرز کے وکیل صاحب نے اپنے دلائل میں کہا کہ ڈگری جو ریسپونڈنٹس کے حق میں ہوئی ہے یہ اِس وجہ سے ہے کہ عدالت نے کیس درست طور پر نہیں پڑھا۔انتقال اراضی والا معاملہ پٹیشنر کے حق میں تھا اور یہ بات منشا کو معلوم تھی۔اِس کے باجود Suit Land کے معاملے کو کبھی بھی چیلنج نہیں کیا۔اپیلٹ کورٹ اِس اہم نکتے کو سمجھنے میں نا کام رہی اور دعویٰ ڈگری کر دیا۔فاضل وکیل نے اپنی بات پر زور دئے کر کہا کہ وراثت میںWaiver اور Acquiescence لاگو ہوتا ہے۔
ریسپونڈنٹس کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ فیصلہ اور ڈگری درست ہے۔ ٹرائل کورٹ نے فیصلہ صرف زائد المعیاد کی بنیاد پر دیا تھا۔ اور انتقال اراضی غیر قانونی ہے اِس بابت کچھ نہ کہا ہے۔اراضی کے انتقال کے حوالے سے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ فائنل حثیت کا حامل ہے۔ وراثت میںLimitation کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جب ریسپونڈنٹس کے علم میں آیا کہ پٹیشنرز نے اُن کے خلاف فراڈ کیا ہے تو ریسپونڈنٹس نے انتقال اراضی کے فراڈ کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔ فاضل وکیل نے PLJ2011SC44 اور2000YLR 621 کا حوالہ دیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے دونوں کی جانب کے دلائل سُنے۔
فاضل جج لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس جناب خالد محمود خان نے فیصلے میں لکھا کہ مسلم وراثتی قانون کو زائد المیعاد ہونے کی بناء پر کسی صورت بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام کا حق وراثت کا قانون اللہ پاک کا دیا ہوا قانون ہے۔اِس لیے اسلام کے حق وراثت کے قانون کو انسانوں کے بنائے ہوئے قانون پر فوقیت حاصل ہے۔ 
"It is settled law that right of succession of Muslim cannot be defeated by law of limitation, the islamic law of succession is divine law and has a 
preference on man made law. " 
جب جا ئیداد کا ملک فوت ہوتا ہے تو اُس وقت فوت ہونے والے کی وراثت کھل جاتی ہے۔اور جیسے ہی جائیداد کا مالک فوت ہوتا ہے تو اُس وقت اُس کے وارثان اُس کی چھوڑی ہوئی جائیداد کے اپنے اپنے مخصوص حصے کے مالک بن جاتے ہیں۔جس زمین پر جھگڑا ہے اُس کا انتقال اِس بناء پر کیا گیا تھا کہ مریم بی بی کی کوئی اولاد نہ ہے۔ یہ بات غلط ثابت ہوئی ۔ جبکہ مریم بی بی کے وارثان میں اُس کی دو بیٹیاں ایک بیٹا اور خاوند شامل تھے جو کے سوڈی وال میں تھے۔ پٹیشنرز نے فراڈ سے انتقال اراضی کروایا تھا۔ اراضی کے انتقال کی Limitation ، اُس دن شروع ہوتی ہے جس دن فراڈ کا ریسپونڈنٹس کو پتہ چلا۔ اِس بات پر ریسپونڈٹنس زور دے کر کہ چکے ہیں کہ دعویٰ دائر کرنے سے چند روز پہلے اُنھیں پتہ چلا اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دعویٰ معیاد کے اندر ہی ہے۔ یہ مسلمہ اصول ہے کہ فراڈ تمام ایسے اقدامات کو ختم کردیتا ہے جو اپنے طور پر درست بھی کیے ہوتے ہیں۔ اِس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ پٹشنرز ڈگری ہونے کے حوالے سے کسی قسم کے بھی غیر قانونی اقدام کو ثابت نہیں کر سکا۔ اِس لیے پٹینشرز کی سول نگرانی کو خاج کیا جاتا ہے۔