Wednesday, 1 March 2017

میں ای سی او وژن 2025ء کی منظوری پاکستان کی ایک بڑی کامیابی   (ECO)     اقتصادی تعاون تنظیم

(ECO)                                   

 میں ای سی او وژن 2025ء کی منظوری پاکستان کی ایک 

    بڑی کامیابی                                  

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

ای سی او ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جس میں ایشیائی ممالک شامل ہے۔ یہ رکن ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع ترتیب دے کر انہیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ اس کے رکن ممالک میں افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ ای سی او کا صدر دفتر ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع ہے۔ اس تنظیم کا مقصد یورپی اقتصادی اتحاد کی طرح اشیاء اور خدمات کے لئے واحد مارکیٹ تشکیل دینا ہے۔ یہ تنظیم 1985ء میں ایران، پاکستان اور ترکی نے مل کر قائم کی تھی۔ اس تنظیم نے علاقائی تعاون برائے ترقی (انگریزی:Regional Cooperation for Development) یعنی آر سی ڈی کی جگہ لی جو 1962ء میں قائم ہوئی اور 1979ء میں اس کی سرگرمیاں ختم ہوگئیں۔ 1992ء کے موسم خزاں میں افغانستان سمیت وسط ایشیا کے 7 ممالک آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو بھی تنظیم کی رکنیت دی گئی۔رکن ممالک کے درمیان 17 جولائی 2003ء کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم تجارتی معاہدہ (ECOTA) پر دستخط کئے گئے۔اس تنظیم کے تمام رکن ممالک موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) کے بھی رکن ہیں جبکہ 1995ء سے ای سی او کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ بھی حاصل ہے۔13ویں اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اعلامیہ میں رکن ممالک نے انتہاپسندی، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ خطہ میں امن اور خوشحالی کے ویژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے، اعلامیہ میں تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔خطہ کے ممالک کے درمیان توانائی کے شعبہ میں تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ خوشحالی کے لئے روابط کا فروغ ضروری ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام گورننگ باڈیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے ای سی او تنظیم کے سیکرٹری جنرل ابراہیم حلیل آکچا کے ہمراہ 13ویں ای سی او سربراہی کانفرنس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں 13ویں ای سی او سربراہی کانفرنس کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ میں کانفرنس میں شرکت پر رکن ممالک کے صدور، وزرائے اعظم وفود کے سربراہوں، آبزرورز اور خصوصی مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اجلاس کے شرکا ء کی قیمتی آرائنے اجلاس کو کامیاب بنانے میں مدد دی ہے۔اجلاس میں خطہ کے مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ای سی او کی توسیع کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر سربراہی کانفرنس کی میزبانی پاکستان کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے ای سی او تنظیم کے سربراہوں نے ای سی او گورننگ باڈیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سربراہی اجلاس کے تھیم خطہ کی خوشحالی کے لئے روابط کا قیام کے مطابق خطہ کے ممالک کے درمیان کثیرالجہتی سطح پر روابط کو مزید مضبوط کرنے کے لئے اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اعلامیہ ہمارے مجموعی سیاسی عزم کا اظہار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 13ویں ای سی او سربراہی اجلاس میں ویژن 2025ء کی منظوری ایک بڑی کامیابی ہے۔ ویژن 2025ء کے تحت واضح اور قابل عمل اہداف کا تعین کیا گیا ہے۔ اس تنظیم کی ترجیحات کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد ملے گی۔ اس سلسلہ میں ہم مشترکہ طور پر سمندری، زمینی، فضائی اور سائبر سپیس کے شعبوں میں روابط کے قیام اور ان کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس سے خطہ کے ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ توانائی کی فراہمی کسی بھی معاشی ترقی کے منصوبہ پر عملدرآمد کے لئے ضروری ہے۔ ہم نے خطہ کے ممالک کے درمیان توانائی کے شعبہ میں تعاون پرزور دیا ہے۔ اس سے خطہ کے لوگوں کو سستی توانائی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ای سی او تنظیم کا مرکز لوگ ہیں۔ اس لئے ہم نے لوگوں کے درمیان باہمی روابط میں اضافہ اور سیاحت کے فروغ کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں۔ تنظیم کے ممالک فوڈ سکیورٹی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے تعاون کے لئے تیار ہیں۔اس سلسلہ میں اعلیٰ تعلیم اور ریسرچ کے اداروں روابط قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا ہے۔ ہم نے 2030ء کے
ایجنڈا پر موثر عملدرآمد کے لئے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ اس ایجنڈا کا مقصد ہے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہے۔ مختلف شعبوں میں تعاون سے تنظیم کے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں مدد ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم آپس میں مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں تاکہ خطہ کے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لائی جا سکے اور خطہ کو امن، ترقی اور خوشحالی کے مضبوط قلعہ میں تبدیل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مجموعی طور پر انتہا پسندی، دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں تاکہ خطہ میں امن اور خوشحالی کے ویژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں ای سی او ایوارڈز جیتنے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ سربراہی کانفرنس کا کامیابی سے انعقاد پاکستان کے خطہ میں مثبت تبدیلی اور ترقی کے علمبردار ہونے کا اظہار ہے۔وزیراعظم میاں نواز شریف کو اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کیلئے چیئرمین منتخب کرلیا گیا ہے۔وزیراعظم نے 13 ویں اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ای سی او تنظیم بڑے خطے کا احاطہ کرتی ہے،وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا تاریخی کردار ادا کریں،ای سی او شمال اور جنوب میں رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔ اسلام آباد میں جاری اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں تمام مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہیں،علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کیلئے ای سی او اہم فورم ہے،سربراہ اجلاس کامیاب بنانے کیلئے سیکرٹری جنرل اور انکی ٹیم کا مشکور ہوں۔انہوں نے کہا کہ ای سی او کا خطہ بے پناہ وسائل اور صلاحیتوں سے مالا مال ہے،دنیا کی 52 فیصد تجارت ای سی او کے خطے سے ہوتی ہے،اجلاس میں چین اور اقوام متحدہ کے نمایندوں کی شرکت پر مشکور ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا تاریخی کردار ادا کریں،مشترکہ خوشحالی کے لیے رابطوں کا فروغ ضروری ہے،سربراہ اجلاس میں رابطوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز ہوگی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ ای سی او کا خطہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز رہاہے،ریلوے،شاہراہیں اورتیل و گیس کی پائپ لائنیں خطے کو قریب لارہی ہیں۔میاں نواز شریف نے کہا کہ مواصلات کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہورہی ہے،2013 سے حکومت سنبھالنے کے بعدپرامن ہمسائیگی کی پالیسی اپنائی ہے۔اقتصادی تعاون تنظیم کا 13 واں سربراہی اجلاس اسلام آباد میں جاری رہا جس کی صدارت اور میزبانی وزیراعظم میاں نواز شریف نے کی۔ اجلاس میں 5 صدور،3 وزرائے اعظم اور ایک نائب وزیراعظم شریک ہوئے۔اس سے قبل 12 واں اجلاس باکو آذربائیجان میں 2012ء میں ہوا تھا جبکہ اجلاس میں ای سی او وژن 2025ء کی منظوری دی جائے گی۔

Saturday, 25 February 2017

بھارتی د ہشت گردی کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم کی نیک خواہشات................ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

بھارتی د ہشت گردی کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم کی نیک خواہشات

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

بھارت پاکستان کے اندر آگ اور خون کا کھیل رہا اور پاکستانی وزیر اعظم بھارت سے تجارت کے لیے اُسکی منتیں کر رہے ہیں۔پاکستانی عوام کو جس طرح کی دہشت گردی کا سامنا ہے اور جس طرح بھارت نے گزشتہ چند سالوں سے ہماری عوام کو لہو میں نہلایا ہے شاید وزیر اعظم وہ درد محسوس نہیں کر پائے اور بھارتی وزارت خارجہ کی تعریفیں کی جارہی ہیں۔یہ رویہ پاکستانی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ آرمی پلک سکول پشاور کے شہدا ء کے خون سے غداری ہے۔ داتا علی ہجویریؒ کے دربار مبارک کو لہو لہو کرنے والوں کے ساتھ دوستی کی عملی حقیقت ہے۔سہیون شریف ، عبداللہ شاہ غازیؒ ، نورانی دربار، رحمان باباؒ کے دربار امام بارگاہوں ، مساجد کو لہو لہو کرنے والے بھارتی ایجنٹوں کے ساتھ اِس طرح کا رویہ سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستانی وزیر اعظم کی سوچ کہاں اٹکی ہوئی ہے۔تصور کیجیے جس کا سٹیسمین بننے کا ہمارئے وزیر اعظم دکھلاوا کر رہے ہیں کیا اگر حضرت قائد اعظم ؒ اِس دور میں ہوتے تو کیا وہ بھی ہندوں بنیے کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرتے۔پوری پاکستان قوم کو جس طرح کی دہشت گردی کی لہر نے خوف میں مبتلا کر رکھا ہے اُس کا شائد عشر عشیر بھی حکومت کے عمل سے نظر نہیں آتا۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے آپریشن رد الفساد کا فیصلہ کہیں اور سے ہونے کے الزامات کو سختی سے مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن ردالفساد شروع کرنے کا فیصلہ چند روز قبل وزیر اعظم ہاوس میں ہوا، دہشت گردی کیخلاف ڈٹ کر لڑیں گے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے، بعض قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں، اس آپریشن کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، آپریشن ضرب عضب کے بعد سے حکومت ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے۔ ترقی مخالف قوتوں میں غیر ملکی شامل ہو سکتے ہیں، بدقسمتی سے افغانستان میں بیٹھے دہشت گرد ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں، افغانستان کو بھی چاہیے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ان کا خاتمہ کرے، ترکی افغانستان کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تر کی نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کی ہے، نیوکلیئر سپلائر گروپ کے معاملے پر بھی ترکی نے پاکستان کا ساتھ دیا، پی ایس ایل کا فائنل، ای سی او اجلاس مقررہ وقت پر ہونگے، قوم حوصلہ رکھے۔ دہشت گردوں کو پی ایس ایل پر اثر انداز نہیں ہونے دینگے، حکومت دہشت گردی سے نہیں گھبرائے گی، ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور تجارت بھی بڑے پیمانے پر کرنا چاہتے ہیں، پاکستان اور ترکی نے ماضی میں ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور طے شدہ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے لاہور دھماکے کی شدید مذمت کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف عزم مزید پختہ ہوا ہے۔ ہم ہر صورت دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں رینجرز تعیناتی کا فیصلہ وزیر اعظم ہاوس میں کیا گیا۔ آپریشن رد الفساد کا فیصلہ بھی چند روز قبل وزیر اعظم ہاوس میں ہی کیا گیا تھا۔ دہشت گرد پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔ خدا کے فضل سے ہم مسائل پر قابو پا رہے ہیں۔ موجودہ ترقیاتی منصوبوں کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کیلئے کام کیا ہے۔ افغانستان کو بھی چاہیے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ افغانستان بھی دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچائے۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہیں۔ ہم نے ساڑھے تین سال پہلے امن دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے لڑ رہے ہیں۔ امن و امان کے قیام کیلئے کیے گئے اقدامات کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں۔ بچ جانے والے مٹھی بھر شر پسند عناصر دہشت گردی کر رہے ہیں۔ شرپسند عناصر کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی ہے۔۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترکی کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے ہوئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ترکی پاکستان میں مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ دہشت گرد ٹوٹی کمر کے ساتھ جوہر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قوم نے ہمیں ہمارے منشور پر ووٹ دیئے ہم اپنے منشور پر قائم ہیں۔ کسی کو ایک دوسرے کے خلاف سازش نہیں کرنی چاہیے۔ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش ہے یہ کوئی بُری خواہش نہیں ہے۔ افغانستان سے بھی اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں علاوہ ازیں پاکستان اور ترکی نے شعبوں میں تعاون کے لئے دس سمجھوتوں پر دستخط کیے۔ معاہدوں کے تحت ہائیڈرو کاربن، ماحولیات، جنگلات، اطلاعات، منی لانڈرنگ، مسلح افواج کے اہلکاروں سے متعلق خفیہ مالیاتی معلومات کے تبادلے کے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ترکی کے دشمنوں کو پاکستان کے دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ترکی کی حمایت جار ی رکھیں گے، ترکی کے عوام نے ثابت کردیا ٹینک سے زیادہ طاقتور ہیں، یقین ہے ترکی امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رہے گا۔ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔گذشتہ دنوں سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خودکش حملے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردوں نے درگاہ کو بے دردی سے نشانہ بنایا مگر دہشت گرد ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔اتنے اہم دورے کے دوران ہمارئے وزیر اعظم کو چاہیے تھا کہ بھارت کو صاف صاف سُناتے لیکن اُنھوں نے تو نہایت ادب کے ساتھ بھارت سے گزارش کی ہے کہ ہم تو آپ سے تجارت چاہتے ہیں۔مظفر وانی کا خون کیا رائیگاں جائے گا۔کیا عوام اِسی طرح دہشت گردی کے ہاتھوں مرتے رہیں گے۔ وزیر اعظم صاحب آپ کی خارجہ پالیسی کچھ نظرثانی چاہتی ہے۔پاکستان زندہ آباد۔پاک فوج زندہ آباد

Monday, 13 February 2017

سوموار کی شام لاہور پھر لہو لہو۔بھارت شرم کرو ......... صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ article on bomb blast at Lahore. by ashraf asmi

سوموار کی شام لاہور پھر لہو لہو۔بھارت شرم کرو

صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

سوموار کی شام کو لاہور پھر سے لہو لہو ہے۔ ہر طرف ایمبولینسوں کی چیخ و پکار۔ زخمیوں کو ریسکیو کیا جارہا ہے۔ لاہور پولیس کے دو شیر دل افسران جانب مبین احمد اور زاہد گوندل بھی شہید ہوچکے ہیں۔ دیگر شہدا کی تعدا دبھی بیس کے قریب پہنچ چکی ہے یہ ہے وہ دلخراش سین جو اِس وقت لاہوریوں کو بار بار ٹی وی سکرین پر دیکھنا پڑ رہا ہے۔شام ہوتے ہی جس طرح پرندے اپنے گھونسلوں کو چلے جاتے ہیں اِسی طرح محنت کش بھی شام کو اپنے بال بچوں کے پاس جانے کے لیے مضطرب ہو تے ہیں۔ دہشت گردوں نے شام کے وہ لمحات لاہوریوں کو لہو میں نہلانے کے لیے چُنے جب وہ اپنے گھر واپس کے لیے جارہے تھے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ چےئرنگ کراس پر ہر روز کوئی نہ کوئی مظاہرہ ہو رہا   ہوتا ہے۔
مال روڈ پر فیصل چوک میں خودکش دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک لاہورکیپٹن (ر) مبین احمد اور قائمقام ڈی آئی جی آپریشنز ایس ایس پی زاہد محمود گوندل اور 6پولیس اہلکاروں سمیت 18افراد جاں بحق جبکہ58افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ ہر طرف لاشیں،انسانی اعضاء، خون،، دھواں اور آگ پھیل گئی جبکہ زخمی چیخ و پکار کر تے رہے۔ وہاں کھڑے ٹرک،ایک ٹی وی چینل کی ڈی ایس این جی، متعدد موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچااور دوکانوں وعمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ما ل روڈ پر فیصل چوک میں کیمسٹ ایسوسی ایشن کا اپنے مطالبات کے حق احتجاجی مظاہرہ جاری تھا۔جہاں پولیس افسران کے مظاہرین سے مزاکرات جاری تھے کہ ایک موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے باعث ڈی آئی جی ٹریفک لاہورکیپٹن (ر) مبین احمد اور قائمقام ڈی آئی جی آپریشنز ایس ایس پی زاہد محمود گوندل اور 3پولیس اہلکاروں سمیت 18افراد جاں بحق جبکہ58افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ ہر طرف لاشیں،انسانی اعضاء، خون،، دھواں اور آگ پھیل گئی۔وہاں کھڑے مظاہرین کے ٹرک،ایک ٹی وی چینل کی ڈی ایس این جی، متعدد موٹر سائیکلوں کو نقصان کھڑی متعدد موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچااور متعدددوکانوں وعمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے کہ باعث وہاں موجود افراد خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہر طرف افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی جبکہ زخمی چیخ و پکار کر تے رہے۔ دھماکے کی آواز میلوں دور تک سنائی دی گئی۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس،ریسیکو 1122،ایدھی،خدمت انسانیت فاونڈیشن،بم ڈسپوذل سکواڈ سمیت دیگرامدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی ٹیموں نے لاشوں اورزخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ جہاں بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جبکہ 15افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی گئی ہے۔پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے موقع کے اطراف کو تاریں اور پھر قناطیں لگا کر سیل کر دیا جبکہ فرانزک اہلکار وہاں سے شواہد اکھٹے کرتے رہے۔موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد اکھٹی ہو گئی۔جنہیں پولیس اہلکار موقع سے ہٹاتے رہے۔ہسپتال میں زخمیوں میں دھرمپورہ کا اطہر،شادباغ کا اویس،نین سکھ کا شفیق،بیگم کوٹ کا شعیب،بورے والہ کا راوفضل،خرم،ریاض،علی،سلیم،عبدالرحمن،محسن عباس،شاہد،کامران،احسن رضا،عون جعفری،عتیق،یس ایس پی یس ایس پی زاہد محمود گوندل کا آپریٹر عباس،کانسٹیبل غلام مصطفی، وغیرہ شامل ہیں۔ زوردار دھماکوں کے بعد آگ کا شعلہ بند ہوا، اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ کیا ہوا۔ دھماکہ ہوتے ہی زمین لرز گئی اور دھماکے کی شدت سے کانوں کے پردے شل ہو گئے۔ ۔ اللہ پکستان پر کرم فرمائے۔ آرمی فوری طور پر سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پہنچ چکی ہے۔اِسے کود کش حملی ہی قرار دیا جارہا ہے۔ ظاہری بات ہے ہمارا ازلی دُشمن بھارت ہی اِص طرح کے اوچھ ہتکھنڈوں میں مصروف ہے۔ جس کی وجہ سے ایمبولینس تک کے لیے راسہ نہیں مل پاتا ۔ حکومت کہ بے حسی انتہاء کو چھو رہی ہے کہ وہ مظاہرین کو اسمبلی ہال کے سامنے مظاہرہ کرنے سے کیوں نہیں روکتی، حالانکہ لاہور ہائی کورٹ نے واضح طور پر حکم دیا ہوا ہے کہ مال روڈ پر کسی قسم کا جلسہ نہ کیا جائے۔ لیکن مال روڈ پر سیاسی و مذہبی جماعتیں اور دیگر گروپس اس طرح جلسے کرتے ہیں اور گھر سے اِس طرح تیار ہو کر آتے ہیں جیسے وہ مینا بازار میں جارہے ہوں چیرنگ کراس کو تقریباً آٹھ سڑکیں ٹچ کر تی ہیں۔ گنگا رام ہسپتال، سروسز ہسپتال جانے کا راستہ میو ہسپتال جانے کا راستہ لاہور ہائی کورٹ سیش کورٹ ایوان عدل جانے والے راستے ہال روڈ کی مارکیٹیں۔ اتنی اہم جگہ ہونے کے باوجود حکومت نے کبھی بھی سختی کے ساتھ کو شش نہیں کی کہ وہ مظاہرین کو چےئرنگ کراس پر مظاہرہ کرنے سے روکے۔ مال روڈ ہال روڈ کے تاجر ہلکان ہو چکے ہیں لیکن حکومت کو شاید یہ مظاہروں والا تماشا اتنا بھاتا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ لوگ اسی میں مصروف رہیں۔ اسی لیے تو ایک مقبول سیاسی جماعت یہاں جلسہ کرتی ہے تو وہ جلسہ باقاعدہ گانے بجانے اور فیشن شو کا بہت بڑا شو دیکھائی دیتا ہے۔لاہور کے عین وسط میں کیمسٹ احتجاج کر رہے تھے۔ پنجاب اسمبلی کی عمارت ہونے کی بناء پر یہ چوک لاہور کے لیے انتہائی تکلیف دہ بن چکا ہے۔ خود کُش دھماکے سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ مظاہرین کی شہادت ہوئی اور حکومت کے دوبڑئے نیک نام افسر بھی جام شہادت نوش کر گئے۔ وزیر اعلیٰ صاحب سے گزارش ہے کہ وہ خدارا چیرنگ کرس پرمظاہر کرنے والے کو کو یہاں اجازت نہ دیں اور کسی اور جگہ کو مظاہروں کے لیے مختص کردیا جائے۔کہا جارہا ہے کہ پہلے سے اطلاع تھی کہ ان دنوں میں مال روڈ پر دھماکہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ لیکن خود کش حملے کو روکنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ ڈیڑھ کروڑ کی آبادی کے شہر میں کس کس موٹر سائیکل سوار کو چیک کے جائے۔ بھارت شرم کرو ۔معصوم شہریوں کا لہو بانا بند کرو، مرد کے بچے بنو ہماری پاک فوج سے پنجہ آزمائی کرو۔

Saturday, 11 February 2017

کشمیری حریت پسند رہنماء یسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کی پُکار....................... صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

       کشمیری حریت پسند رہنماء یسین ملک کی

 اہلیہ مشعال ملک کی پُکار

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

آزادی کشمیر کے ہیرو مقبول بٹ کے یوم شہادت کے حوالے سے لاہور ایمبیسیڈر ہوٹل میں قلم قبیلے کے ترجمان ورلڈ کالمسٹ کلب کی جانب سے ایک پروقار تقریب کا اہتما م کیا گیا۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی تحریک آزادی کشمیر کے ممتاز رہنماء جناب ےٰسین ملک کی اہلیہ محترمہ مشعال ملک صاحبہ تھیں۔ تقریب میں ورلڈ کالمسٹ کلب کے عہدے داران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جن میں ڈاکٹر اجمل نیازی،معروف کالم نگار جناب ایثار رانا،جناب ناصر خان، جناب ذبیح اللہ بلگن جناب افتخار مجاز، معظم احسن ریاض،صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ، ممتاز حیدر اعوان، امجد اقبال،امان اللہ خان، ڈاکٹر عمرانہ مشتاق،عابد کمالوی، رابعہ رحمن بھی شامل ودیگر تھے۔اِس موقع پر محترمہ مشعال ملک، محترمہ مشعال ملک کی والدہ ، ڈاکٹر اجمل نیازی، ایثار رانا ، ناصر خان نے کشمیر کی آزادی کے حوالے سے قلم قبیلے کی جانب سے تگ و تاز کا اعادہ کیا۔اور کمشیری رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اِس موقع پر عالم اسلام کی کشمیر کے حوالے سے بے حسی کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔۔کشمیر کشمیر کی دن رات ہم بات کرتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی ہمیں کس سے درکار ہے بھارت سے اور کشمیریوں سے ہمارا رشتہ کیا ہے وہ رشتہ کلمہ طیبہ کا ہے وہ رشتہ پاکﷺ کا اُمتی ہونے کا ہے۔ اب ہم آگے چلتے ہیں کشمیر کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے ظاہری سے بات ہے بھارت ہے ۔ اب بھارت سے آزادی کے لیے کس طرح بھارت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ اِس کے لیے ہم بھارت کے قریب تر ہمسایہ ممالک کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کا دعویٰ کہ کشمیر اُس کا اٹوٹ انگ ہے۔ بھارت کشمیر سے آنے والے دریاوں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کی سازش کا ارتکا ب کر چکا ہے۔ ہمارئے حکمران اُس کے ساتھ تجارت کے لیے ہلکان ہو رہے ہیں۔ کشمیر کا لہو بہانے والے بھارت کے ساتھ پاکستان کی حکومت نے یہ سلوک روارکھا ہوا ہے کہ بھارتی فلمیں پاکستان میں نمائش کے لیے اجازت دے دی ہے۔ پاکستان سفارتی سطح پر بھارت کی بد معاشیوں اور کشمیریوں کے خلاف اُس کی جانب سے ڈھائے جانے والے ظلم کو پیش ہی نہیں کر پایا۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے ساتھ بیٹھ کر اعتراف کیا کہ ہاں وہ بھی مکتی باہنی میں شامل تھا جس نے مشرقی پاکستان کو توڑا۔ یہ ہے حال ایک اور مسلمان ملک کا جو بلک بھارت کے ساتھ واقع ہے۔ گویا بنگلہ دیش کی جانب سے کشمیری مسلمانوں کی حمایت اسلام کے نام پر قصہ ختم ہی سمجھیں۔اب چلتے ہیں ایران کی جانب جو بہت براسلامی ملک ہے۔ بھارت کی ایران کے ساتھ پیار کی پینگوں کا عالم یہ ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کا جو سب سے بڑا نیٹ ورک آپریٹ ہو رہا ہے پاکستان کے خلاف وہ ایرن کی سرزمین پر سے ہو رہا ہے۔ ایران اور افغانستان ملکر بھارت کے ساتھ ایران سے پاکستانی بندرگاہ گوادر کے مقابلے کے لیے پورٹ میں حصہ دار بن چکے ہیں۔ افغانستان کا یہ حال ہے کہ اُس کی فوج تک کو بھارت ٹریننگ دے رہا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والی تمام تر تحریک کا مرکز افغانستان ہے اور اُسے بھارت آپریٹ کر رہا ہے۔ بھارتی اور افغانی سربراہان مملکت آپس میں اس طرح شیر و شکر ہیں کہ خدا کی پناہ۔ افغانی طلبہ بھارت جا کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے بے شمار قونصلیٹ قائم کر رکھے ہیں جو درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دفاتر ہیں جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی جاتی ہے۔ جنگ عضب درحقیقت پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف لڑی گئی۔ اب اسلامی دُنیا کے سب سے اہم ترین ملک سعودی عرب کی بات کرتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس کے لیے پاکستانی مسلمان ہر وقت جان دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اِس ملک میں پاکستانیوں کو ملازمت کے دوران وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جو کہ ہمارئے دُشمن ملک بھارت کے باشند وں کو حاصل ہیں۔ حال ہی میں بھارت کا سب سے بڑا سول ایوارڈ مودی کو دیا گیا ۔ یہ ہے بھارت کے ساتھ سعودی عرب کی محبت کا عالم ۔ بھارت کی فی کس آمدنی میں اُن بھارتیوں کا بہت اہم کردار ہے جو کہ عرب دُنیا میں کمائی کر رہے ہیں۔ بھارتیوں کے مقابلے میں پاکستانیوں کے ساتھ سعودی حکومت کا رویہ بہتر نہ ہے۔ بھارت اور سعودی عرب کا آپس مین تجارتی حجم پاکستانی تجارت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ تو جناب ایران اور سعودی عرب جو آپس میں سرد جنگ میں بر سر پیکار ہیں۔ یہ دونوں ممالک بھارت کے ساتھ بہترین تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔ گویا سعودی عرب بھی بھارت پر کشمیر کی آزادی کے لیے دباؤ نام کی کوئی چیز نہیں ڈال سکتا ۔اب مشرق وسطی کی بات ہو جائےَ متحدہ ارب امارات نے بھارت میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا معائدہ کر لیا ہے۔اب بتائیں قارئین اکرام کشمیریوں کے لیے کو ن آگے آئے گا۔ پاکستان، سعودی عرب، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، مشرق، وسطی کے مسلمان ممالک۔ تو جواب نفی میں۔ گویا کشمیری اِسی طرح شہید ہوتے رہیں گے۔ بھارت اُن کے خون سے غسل کرتا رہے گا۔ اور ہم پانچ فروری کو کشمیروں کے ساتھ یوم یکجہتی منا کر گھر جا کر سو جائیں گے۔کشمیر کی آزادی کے لیے پاک فوج اور پاکستانی عوام اور کشمیری عوام کو ہی کردار ادا کرنا ہو گا۔ ورنہ مسلم دُنیا کے حکمران کو سوئے ہوئے ہیں اور شاید ابھی اُن کا جاگنے کا پروگرام بھی نہیں ہے۔ بہرحال محترمہ مشعال ملک صاحبہ کی گفتگو سے ایک بات عیاں ہوئی کہ یسین ملک کی اہلیہ ہونے کا حق وہ ادا کر رہی ہیں اور پاکستان بھر میں کشمیر کی آزادی کے لیے تگ و تاز جاری رکھے ہوئے ہے۔ قلم قبیلے کے رہنماؤں جناب ڈاکٹر اجمل نیازی ، جناب ایثار رانا ،جناب ذبیع اللہ بلگن اور روح رواں ورلڈ کالمسٹ کلب جناب ناصر خان نے محترمہ مشعال ملک صاحبہ کو قلم قبیلے کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ محترمہ مشعال ملک صاحبہ نے جہاں بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم وستم کا ذکر کیا ساتھ ہی اُنھوں نے کشمیریوں کے عظیم حوصلے کی بات بھی کی۔ جناب مشعال ملک نے جس مدلل انداز میں گفتگو کی اور اور پاکستان بھر کے ہر طبقہ فکر کو اُن کی کشمیر کی آزادی کے حوالے سے ذمہ داریوں کا احساس دلایا یقنی طور پر بظاہر ننھی سی پری نظر آنے والے مشعال ملک نے بھارت کے خلاف کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کا اعادہ کیا۔ اللہ پاک کشمیر کو آزادی عطا فرمائے ۔ پاکستان زندہ باد، کشمیر زند باد، پاک فوج زندہ باد

Wednesday, 8 February 2017

جامعات کی خو د مختاری کو درپیش چیلنجز پر مذاکرہ ۔انجمن طلباء اسلام کی قابل ستائش کاوش صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی


جامعات کی خو د مختاری کو درپیش چیلنجز پر مذاکرہ ۔انجمن

 طلباء اسلام کی قابل ستائش کاوش

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی 

پاکستانی عوام کے ساتھ جس طرح کا سلوک حکمران اشرافیہ کی جانب سے روا رکھا جارہا ہے اور حکمران اشرافیہ نے تعلیم کے میدان میں جس طرح پاکستانیوں کے ساتھ ظلم روا رکھا ہے یہ حقیقت کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔ پرائمری اور سکینڈری ایجوکیشن کا جس طرح ستیا ناس کر کے رکھ دیا ہے اُس کا شاخسانہ یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں بچوں کا تعلیم دلوانے پہ کوئی تیار ہی نہیں ہے۔ تعلیم کو جس طرح کمرشل کر دیا گیا ہے اب تعلیم بھی ایک طرح کی شے بن کر رہ گئی ہے۔ اِسی طرح نجی طور پر ہائیر ایجوکیشن میں بھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ ایک ہی یونیورسٹی میں صبح کے وقت فیس اور ہے دوپہر کے وقت اور ہے اور شام کے وقت اور ہے۔ جامعات کی خود مختاری میں زیادہ معاملات انتظامی نوعیت کے ہیں سلیبس کے حوالے سے تو شروع سے ہی وفاق کی گائیڈ لائن کی ہی پیروی کی جاتی ہے۔ انجمن طلبہ ء اسلام نے ہمیشہ تعلیمی مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر ایک توانا آواز اُٹھائی ہے۔ اِس حوالے سے انجمن طلبہ ء اسلام کے شاہیں صفت نوجوان ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ لاہور میں جامعات کی خو د مختاری کو درپیش چیلنجز پر مذاکرے کا اہتما م انجمن طلبہ ء اسلام نے سیفما میں کیا۔انجمن طلبہ ء اسلام کے قائدین جناب محمد اکرم رضوی اور جناب عامر اسماعیل اِس مذاکرے کے روح رواں تھے۔ مجھے بھی جناب اکرم رضوی صاحب اور جناب عامر اسماعیل صاحب نے اِس مذاکرے میں شرکت کی دعوت عنائت فرمائی ۔ یوں میں بھی اِس پُر مغز گفتگو سے مستفید ہوا ۔مذاکرئے میں مندرجہ ذیل نکات اُٹھائے گئے یہ کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم اور جامعات کے ایکٹ پر عملدرآمد کرتے ہوئے اعلی تعلیمی اداروں کی خود مختاری کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔ تمام ادارے ملک میں اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے بین الا قوامی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اصطلا حات متعارف کروائیں۔صوبائی حکومتیں اعلی تعلیم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے تعلیم کا 25فیصد بجٹ اعلی تعلیم کیلئے مختص کریں مذاکرئے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی ۔ اس مو قع پر خطاب کرتے ہوئے فیڈ ریشن آف آل پاکستان یونیو رسیٹیز اکیڈیمک سٹاف ایسو سی ایشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل جناب پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے کہا اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق کا اعلی تعلیم میں نہایت محدود کردار ہے یہ امر نہا یت افسو سناک ہے کہ اعلی تعلیمی شعبہ میں مرتب کی جا نیوالی پالیسیوں میں تمام سٹیک ہولڈرز کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہاہے جسکی وجہ سے اعلی تعلیم کا انحطاط پذیری کا شکا ر ہے ۔ اِس موقع پر سو ل سو سائٹی نیٹ ورک پاکستان کے صدر عبداللہ ملک نے کہا کہ اعلی تعلیمی شعبہ میں اٹھارہویں آئینی ترمیم پرعملدر�آمد نہ ہونے کی وجہ سے صوبوں کو انکے آئینی کردار سے محروم رکھا جارہا ہے وفاقی ایچ ای سی کی جانب سے نیشنل ٹیسٹنگ کو نسل کا قیام آئین اور لاہور ہائیکو رٹ کے احکامات کے متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ جامعات کی خود مختاری میں مداخلت ہے ۔ ممتاز ماہر تعلیم جناب معظم شہباز نے کہا ہریونیورسٹی کواپنی ضروریات کے مطابق نصاب سازی اور فیصلوں کاحق حاصل ہے اور دنیا بھر میں جامعات کی خو مختاری کا احترام کیا جاتاہے ۔ سینئر کالم نگارنجم ولی خان نے کہا کہ تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے ، پاکستانی جامعات کے معیار کو بلند کرنے کیلئے اہل اور تجربہ کارقیادت کی ضرورت ہے ، پاکستان میں اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے مربوط حکمت عملی تشکیل دی جائے ۔ ممتاز تجزیہ نگار سلمان عابد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اعلی تعلیم کے فروغ کے کھو کھلے دعویداروں کا احتساب کیا جائے ، پاکستان میں نچلی سطح پر اختیارات کی عدم منتقلی کی وجہ سے اعلی تعلیم کے شعبے سمیت صحت اور تعلیم میں خاطرخواہ نتائج حاصل نہ ہوسکے ۔ صوبوں کو بااختیار بنا یاجائے اور اعلی تعلیم کے شعبہ میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دیتے ہوئے تمام تقرریوں میں سیا سی مداخلت بند کی جائے ۔انجمن طلباء اسلام پنجاب کے سیکریڑی اطلاعات محمد اکرم رضوی نے کہا کہ پاکستان اس سال بھی جنوبی ایشیاء اور مسلم ممالک میں اعلی تعلیم کے شعبہ میں بہت پیچھے چلا گیا ہے اس تنزلی کی تمام ذمہ داریاں وفاقی ایچ ای سی پرعائد ہوتی ہے نیشنل ڈیمو کریٹک فاؤنڈیشن کے ماہر ین کی یہ تجو یز ہے کہ وفاقی ایچ ای سی کاجائزہ لینے سپریم کورٹ آف پاکستان آرٹیکل 183(3)کے تحت از خود نوٹس لیکر اس ادارے کی نااہلی سے پاکستان کے نوجو انوں کا مستقبل محفوظ بنائیں ۔ اس مو قع پر، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری انجمن طلباء اسلام نعمان الجبار ، مرکزی سیکرٹری اطلا عات ایم ایس ایم عماد شیخ ، ناظم لاہور ڈویژن شیخ طیب ، عامر اسما عیل و دیگر افراد نے بھی اپنے رائے کا اظہار کیا۔ اِس مذاکرئے میں ایک بات پر تمام مقررین کا اتفاق تھا کہ حکومت کا تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر نہ رکھنا بہت بڑا المیہ ہے۔پنجاب میں ہائر ایجوکیشن کا وزیر ایک ایسا شخص لگا دیا گیا ہے جس کی ترجیحات میں تعلیم شائد بالکل بھی نہیں ہے۔نوجوانوں کو ڈگریاں تع دی جارہی ہیں لیکن اُن کا پاس نہ تع علم ہے اور نہ تربیت۔ حکومت کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے انتہائی توجہ کی ضرورت ہے۔ میں نے بھی حکومت کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے عدم دلچسپی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حکومتی بے حسی پر نوحہ خوانی کی۔اِس مذاکرئے کو کامیاب بنانے کے لیے اور مختلف ینورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے انجمن طلبہ ء اسلام کے قائدین جناب اکرم رضوی اور جناب عامر اسماعیل نے جو بھر پور کاوشیں اُس کا میں تہہ دل سے معترف ہوں۔

Sunday, 5 February 2017

مسلم دُنیا کے حکمران کشمیر کی آزادی نہیں چاہتے۔۔؟.............اشرف عاصمی.IS MUSLIM WANT FREEDOM FOR KASHMIR OR NOT?

مسلم دُنیا کے حکمران کشمیر کی آزادی نہیں چاہتے۔۔؟





اشرف عاصمی

کشمیر کی آزادی کے لیے مسلم دُنیا کے حکمرانوں کو اپنے رویے بدلنا ہوں گے۔ایک طرف متحدہ عرب امارات بھارت میں تاریخ کی سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے دوسری طرف سعودی عرب نے مودی کو اپنا سب سے بڑا سول ایوارڈ دیا ہے۔ تیسری طرف پاکستانی حکمران بھارت سے تجارت کے لیے بے چین ہیں۔ ایک طرف پا کستان کے عوام دُنیا بھر میں کشمیر کیآزادی کے لیے کشمیریوں کی ہر طرح کی اخلاق و سیاسی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب، ایران، افغانستان اور یو اے ای کے حکمرانوں کا رویہ نوشتہ دیوار ہے۔ جس بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری مسلمان قتل کیے جارہے ہیں اُس بھارتی فوج کی معیشیت کے استحکام کے لیے عرب امارات اور دیگر مسلم ممالک بھارت کے ساتھ ہیں۔ بنگلہ دیش کی حسینہ واجد نے لفظ پاکستان کو اپنے ملک میں نشان عبرت بنایا ہوا ہے اور وہ چُن چُن کر سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت کے پاکستانی خیر خواہوں کو پھانسیاں دی رہی ہے۔ اِس رویے کے ساتھ کیا مسلم دُنیا کشمیر کو آزاد کروا پائے گی۔ واحد امید پاک فوج ہے جو کہ وطن عزیز کا واحد قومی ادارہ ہے جو عوام کے کشمیر کے حوالے سے جذبات کا ترجمان ہے۔
 

Wednesday, 1 February 2017

ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کا قران مجید کا شاہکار منظوم مفہوم..................صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کا قران مجید کا شاہکار منظوم مفہوم

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

دین اسلام کی سربلندی کے لیے ہر دور میں اللہ پاک نے اپنے خاص بندوں کو چُنا اور اِن بندوں کو اسطاعت عطا فرمائی کہ وہ اپنے رب کے احکامات کو دُنیا بھر کے انسانوں تک پہنچائیں۔ ایک ایسی ہستی جو کہ اپنے رب اور اُس کے رسولﷺ کی محبت کے فروغ کے لیے تگ و تاز جاری رکھے ہوئے ہے اُن کی جانب سے اللہ پاک کی آخری کتاب قرانِ مجید کا منظوم ترجمہ تحریر کیا جانا عظیم سعادت ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی جانب سے سورۃ القدر کامنظوم ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ ہے اللہ کے نام سے ابتدا۔ وہ رحمان ہے رحمتِ بے بہا۔شب قدر اُتارا ہے قران کو۔ مگر کیا خبر اس کی انسان کو ۔ہزاروں مہینوں سے افضل یہ رات ۔جو دیکھیں نظر آئے جلوہ ذات۔ ملائکہ اترتے ہیں شب بھر سبھی۔ تو کتنی ہے رات رحمت بھری۔ اُترتے ہیں اِس شب وہ روح الامیں ۔ وہ لاتے ہیں احکام دنیا و دیں۔ سلامتی لے کے بہ اِذنِ خدا۔ تو رہتی ہے تا فجر نوری فضا۔ یہ ہے اندازِ بیاں جو ڈاکٹر صاحبہ نے قران مجید کے منطوم ترجمے کو تحریر کرنے کے لیے اپنایا ہے۔مسلم دُنیا کی شاید یہ پہلی خاتون ہوں جنہوں نے اردو زبان میں قران مجید کا منظوم ترجمہ تحریر کیا۔ محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ ممتاز شاعرہ و نثر نگار ہیں اور ادب سرائے انٹرنیشنل کی سربراہ ہیں۔ہمارئے معاشرئے میں انسانی اقدار جس طرح زوال پزیر ہیں اور مادیت نے ہر شے کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔ اِن حالات میں اللہ پاک اور اِس کے عظیم رسولﷺ کے پیغام کو امُت مسلمہ تک پہنچانا ایک بہت بڑا صادقہ جاریہ ہے۔ مادر دبستان لاہور کے لقب کی حامل محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ ایک قادر الکلام شاعرہ ہیں اور اِس کا ثبوت اُن کا عظیم کارنامہ قران مجید کا منظوم ترجمہ ہے۔ مجھے اُن کی خدمت میں حاضری کا شرف ہے اور حالیہ دنوں میں قرانِ پاک کے تیسویں پارے کا منظوم ترجمہ اُنھوں نے شائع کروایا ہے اور باقی پارے بھی طباعت کے مراحل میں ہے۔ وہ قران مجید کا مکمل ترجمہ لکھ چکی ہیں۔ یقینی طور یہ ایک مشکل ترین کام ہے ۔ لیکن آفرین ہے محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ نے انتہائی انتھک محنت اور رب پاک کی خاص مہربانی اور نبی پاکﷺ کی رحمت کے طفیل اتنا بڑا کام کیا ہے۔ قران مجید سے محبت کرنے والوں پر اللہ پاک کا خاص کرم ہوتا ہے۔ قران مجید کا پیغام عام کرنے والے اللہ پاک کے خاص بندے ہوتے ہیں۔دین حق سے آگاہی کا یہ عالم کے قران مجید کا منظوم ترجمہ کیا جائے اور پڑھنے والوں کو یہ شائبہ تک نہ ہو کہ کہیں بات بغیر کسی سیاق وسباق کے کی گئی ہے اتنی بڑی ذمہ داری کا کام کرنا۔ اللہ پاک کے خصوصی کرم کے بغیر کیسے ممکن ہے۔ تیسویں پارئے کی سورتیں جس انداز میں ترجمہ کی گئی ہیں اُس حوالے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک لازوال کام کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے بہت زیادہ استعمال اور پرائیوٹ چینلز کی بھرمار نے وقت کی رفتار کو تیز کر دیا ہے۔ دن اِس طرح گزر رہے ہیں جیسے منٹ اور سکینڈ گزرتے ہیں۔ ایسے میں اللہ کے نیک بندوں کی محافل بنی نوح انسان کی تربیت کے لیے اور نفسیاتی طور پر راہ حق کے لیے خود کو وقف کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کودُنیاوی چیز سے کوئی محبت نہیں وہ تو اپنے رب کے عشق میں مسلسل مسافت اختیار کیے ہوئے ہیں اور عشق مسلسل کا یہ انداز کہ اُنھوں نے قران پاک کا منطوم ترجمہ تحریر فرمایا ہے۔رب پاک کا فرمان ہے کہ اگر کو قران مجید کو پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتا ۔لیکن صاحب قران حضور نبی پاکﷺ پر نازل ہونے والی یہ عظیم کتاب پوری کائنات کے لیے راہ ہدائت ہے۔ اِس کتاب کو منظوم انداز میں تحریر کرنا۔ اللہ پاک کی طرف سے عظیم سعادت ہے عام قاری کے لیے یہ منظوم ترجمہ بہت بڑا تحفہ ہے اور ڈاکٹر صاحبہ کا یہ انقلابی کام صدیوں اُردو پڑھنے والوں کے لیے عظیم سرمایہ ہے۔ جب تک یہ دُنیا قائم ہے اُس وقت تک ڈاکٹر صاحبہ کاکیا ہوا یہ منظوم ترجمہ انسانوں کو اپنے رب کا پیغام منظوم انداز میں پہنچائے گا۔ اللہ پاک کا کلام قرانِ مجید، اُس کلام کو منطوم تحریر کی شکل دینا سعادت کا عظیم مرتبہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ منظوم ترجمہ درحقیقت قران مجید کی تفسیر بھی ہے۔ڈاکٹر شہناز مزمل ایک ایسی ہستی کا نام ہے۔جب بھی مجھے اِن کا خیال آتا ہے تو اِن کے خیال کے ساتھ ہی مجھے اپنے قلب وجان میں عشق مصطفےﷺ کی شمع فروزاں ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ڈاکٹر شہناز مزمل صرف ایک شاعرہ اور مصنفہ کا نام نہیں ہے بلکہ ڈاکٹر صاحبہ کی عشق مصطفےﷺ کی کیفیات اور اللہ پاک کے ساتھ اُن کا تعلق کا انداز عہد حاضر کے لوگوں کے لیے عظیم سرمایہ ہے۔ مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہے کہ میری طرف سے محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کے حوالے سے کچھ لکھنا ایسے ہی ہے جیسے سورج کو چراغ دیکھانا۔ڈاکٹر شہناز مزمل صا حبہ نے جس طرح خالق کی محبت میں ڈوب کر لکھا ہے اور جس راستے کی وہ مسافر ہیں یقینی طور پر راہ حق کے مسافروں کے لیے اُنھوں نے جس طرح رہنمائی کی ہے وہ یقینی طور پر ایک کامل ولی ہی کر سکتا ہے۔ڈاکٹر صاحبہ کی اپنے اردگرد کے لوگوں پر اتنی نوازشات ہیں کہ وہ سب کے لیے ایک ایسا شجر سایہ دار ہیں جس سے ہر کوئی فیض لیتا ہے۔ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ راہ عشق حقیقی کا آئینہ دار ہے۔اللہ پاک نے ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ پر اپنے بے پناہ کرم سے نواز ا ہے کہ اُن کی شاعری اور نثر دونوں میں انسانیت سے محبت اور فلاح کا راستہ دیکھائی دیتا ہے۔ڈاکٹر شہناز مزمل صاحب جن راستوں کی راہی ہیں وہ اخلاص محبت اور وفا سے سجا ہوا ہے۔اللہ پاک ڈاکٹر صاحبہ کا سایہ ہمارے سر پہ تاقیامت قائم رکھے۔



 

Sunday, 22 January 2017

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: قومی زبان اُردو میں پہلی ڈیجیٹل ای بُک جس میں صاحب...

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: قومی زبان اُردو میں پہلی ڈیجیٹل ای بُک جس میں صاحب...:   قومی زبان اُردو میں پہلی ڈیجیٹل ای بُک جس میں صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کے تحریر کردہ پچاس سے زائدملکی و بین الاقوامی...

قومی زبان اُردو میں پہلی ڈیجیٹل ای بُک جس میں صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کے تحریر کردہ پچاس سے زائدملکی و بین الاقوامی قوانین کے حامل مضامین شامل ہیں شائع ہوگئی ہے۔کتاب کو اُردو کی مستند ترین ویب ہماری ویب نے شائع کیا ہے



 قومی زبان اُردو میں پہلی ڈیجیٹل ای بُک جس میں صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کے تحریر کردہ پچاس سے زائدملکی و بین الاقوامی قوانین کے حامل مضامین شامل ہیں شائع ہوگئی ہے۔کتاب کو اُردو کی مستند ترین ویب ہماری ویب نے شائع کیا ہے

اُردو زبان کی دُنیا کی مستند ترین ویب ہماری ویب نے قانون دان صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کے مختلف موضوعات پر لکھے گئے آرٹیکلز پر مشتمل ڈیجیٹل ای بُک شائع کی ہے۔اِس ای بُک میں مختلف سماجی اور روحانی موضوعات کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی تشریحات کی روشنی میں پچاس کے قریب مضامین شامل ہیں۔اُردو زبان میں پہلی مرتبہ کسی ای بُک میں قانون کے حوالے سے اتنے مضامین شامل ہیں۔ صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ جو کہ انسانی حقوق کے فعال کارکن ہیں اور لاہور ہائی کورٹ بار کی انسانی حقوق کمیٹی کے شریک چےئرمین ہیں اور اِس کے علاوہ تحفظ ناموس رسالت ﷺکمیٹی لاہور بار ایسوسی ایشن کے چےئرمین بھی ہیں۔صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے قانون کرایہ داری،گارڈین ایکٹ، طلاق و نان نفقہ،پہلے سے فوت شہد والد کی اولاد کے حق وراثت جیسے اہم موضوعات کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ جات کی روشنی میں تحریر کیا ہے۔ غازی ممتاز قادری شہیدؒ اور غازی علم دین شہیدؒ کے فیصلہ جات کے جائزئے کے حامل خصوصی مضامین بھی شاملِ ای بُک ہیں۔ کرائمز کے سچے واقعات جو اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق ہیں اُن کو دلچسپ پیرائے میں ایک مقدمہ ایک کہانی کے عنوان سے لکھا گیا ہے۔ اِسی طرح جہاں یہ ای بُک قانون کے طلبہ و طالبات کے لیے قومی زبان اُردو میں ایک بیش قیمت اضافہ ہے اُسی طرح ججز اور عام قارئین کے لیے بھی مختلف قوانین کی تشریحات اور اُن کے نتائج وعواقب پر سیر حاصل تبصرہ جات نے اِس ای بُک کو مفید بنا دیا ہے۔ریجنیل ڈیسپیرٹی آئین پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے عنوان سے لکھے گئے کے آرٹیکل میں پاکستان کے اہم مسئلے کی طرف توجہ دلوائی گئی ہے۔قانون کے طالب علم ہونے کے ناطے اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کے تجربات پر مبنی مشاہدات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔اِس ڈیجیٹل بُک کو دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر پڑھا جاسکتا ہے۔اِس کتاب میں ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے حامل آرٹیکلز شامل ہیں یہ وہ آرٹیکلز ہیں جو کہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے آئین اور قانونی معاملات کے حوالے سے تحریر کیے ہیں۔یہ قانونی مضامین ملکی و غیر ملکی میڈیا ویب پر بھی دستیا ب ہیں۔اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے انسانی آزادیوں کے حوالے سے پاکستانی آئین اور بین الاقوامی قانون کے مضامین میں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے مختلف موضوعات پر قلم اُٹھایا ہے۔ انسانی تمدن کے ساتھ ہی ارتقاء کے سفر پر جاری قانون کے سفر نے بھی اپنے سفر کا آغاز کیا۔ حالات و واقعات کی بناء پر اصول ضابطے بنائے گئے تاکہ ان پر عمل پیرا ہوکر ریاست اور شہری اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنا کردار ادا کریں۔مقننہ اور انتظامیہ کا کردار بھی قانون کی تشکیل اور اُس پر عملداری کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے بہت آسان اور دقیع موضوعات پر لکھا ہے جن کا تعلق برارہ راست سماج کے ساتھ ہے۔ اِس لیے اشرف عاصمی ایڈوو کیٹ نے صرف الفاظ کا مُرقع ہی ترتیب نہیں دیا بلکہ ایک ایک لفظ سماج میں پھیلی اونچ نیچ کے خلاف ایک توانا آواز ہے۔ اِس لیے اشرف عاصمی نے خاندانی نظام کے حوالے سے گہرئے مشا ہدات پر مبنی بین الاقوامی قوانین برائے شادی اور طلاق پر ایک تحقیقی مضمون لکھا ہے جس میں امریکہ، جاپان، برطانیہ، انڈیا، پاکستان ،کینیڈا، ڈنمارک پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں رائج الوقت عائلی قوانین کا احاطہ کیا گیا ہے۔اِسی طرح معاشرئے میں جرائم ہونے اور بڑھنے کی وجوہات پر مبنی ایک مضمون جو کہ تقریباً کریمنالوجی کی5200 ریسرچز کی بنیاد پر لکھا گیا ہے جس میں عمرانی ، معاشی، سماجی ،مذہبی، جغرافیائی حالات و واقعات کی روشنی میں جرائم ہونے اور کم یا زیادہ ہونے کے نفسِ مضمون پر ایک خالص عملی بحث کی گئی ہے۔کرسچین میرج ایکٹ1872 جو کہ اِس وقت وطنِ عزیز میں رائج ہے اُس حوالے سے اردو زبان میں پہلی مرتبہ ایک بھرپور علمی مقالہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی کاوش ہے۔ فوجداری قوانین کے حوالے سے بھی ہارڈینڈ کریمنل کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹس کے فیصلہ جات کی بنیاد پر ہارڈینڈ کریمنل کے موضوع پر قلم اُٹھایا گیا ہے۔ گویا سماجی رویوں میں تبدیلی کے محرکات قوانین کو بھی ایک جگہ اکھٹا کیا گیا ہے۔ پولیس آرڈر کے اثرات پر تفصیلی بحت کا حامل ایک مضمون بھی اِس الیکٹرانک کتاب کی زینت ہے۔ تعلیمی نظام میں اونچ نیچ آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے اِس پر تفصیلی مضمون بھی لکھا گیا ہے جس میں سرکاری سکولوں سے لے کر ایچی سن، شوئیفات،ایل جی ایس جیسے تعلیمی اداروں اور پرائیوٹ یونیورسٹیوں کے معاشرئے پر اثرات کوسمویا گیا ہے۔غرض یہ کہ خالص قانونی معاملات پر بہت سے مضامین لکھے ہیں اور اشرف عاصمی یہ مضامین باقاعدگی سے وکلاء اور ججز کو بھی پیش کرتے ہیں تاکہ اُن سے اِس حوالے سے فیڈ بیک لیا جاسکے۔اشرف عاصمی چونکہ انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اِس لیے ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے میں رہتے ہیں اور اِس حوالے ہر وقت اپنے آپ کو تیار رکھتے ہیں۔ اشرف عاصمی TxDLA آف امریکہ کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر رانا ضیاء عبد الرحمان، سیکرٹری انس غازی، لاہور بار کے صدر ارشد جہانگیر جوجھہ،ٹیکس بار کے صدر فرحان شہزاد، جسٹس (ر) نذیر غازی،جسٹس(ر) منیر مغل جسٹس (ر) میاں نذیر اختر ،جسٹس(ر) خواجہ شریف، ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان سید ظفر گیلانی،ممتاز شاعرہ ادیبہ ادب سرائے انٹرنیشنل کی چےئرپرسن محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ،ممتاز کالم نگار اور ورلڈ کالمسٹ کلب کے چےئرمین ایثار رانا ،صدر ناصر اقبال خان،ممتاز سکالرز ورلڈ پیس مشن کے سربراہ ڈاکٹر ظفر اقبال نوری،ڈاکٹر سعید احمد سعیدی، غلام مرتضی سعیدی ، پروفیسر راحیل حق، ڈاکٹر خالد نصیر ، صاحبزادہ ڈاکٹر احمد ندیم رانجھا، جاوید مصطفائی سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ ، سائیں سچل سرمت ؒ کے خلیفہ خاص حسن علی سچلی قادری نوشاہی، صاحبزادہ میاں محمد یوسف قادری نوشاہی، سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب، ممتاز ناول نگار صحافی ڈرامہ نگار طارق اسماعیل ساگر،ممتاز کالم نگار اسحاق جیلانی،عزم گروپ کے جناب اویس رازی، عمر رازی اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے اشرف عاصمی کو ڈیجیٹل ای بک کی اشاعت پر مبارکباد دی ہے۔ ای بُک کا لنک ہے http://hamariweb.com/articles/ebook/Mian-Muhammad-Ashraf-As









Sunday, 8 January 2017

نیب کے قانون میں ترمیم۔رائے عامہ اور عدلیہ کی بالادستی ................ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

نیب کے قانون میں ترمیم۔رائے عامہ اور عدلیہ کی بالادستی

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
کچھ عرصہ سے نیب کی جانب سے پلی بارگین کے قانون کے متعلق بہت زیادہ تنقید ہورہی تھی۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور میاں شہباز شریف حکومتی حلقوں سے بھی اِس بابت تنقید کی گئی۔ عمران خان نے تو باقاعدہ اِسے کالا قانون قرار دے دیا۔سپریم کورٹ کے جانب سے لا تعداد مرتبہ نیب کے پلی بارگین پر بہت سخت انداز میں آبزرویشن دی گئیں۔ اِ ن حالات میں حکومت نے عافیت اِسی میں میں جانی کے مشرف دور میں نیب کے بنائے گئے قانون مین ترمیم کردی گئی ہے۔بادی النظر میں بھی نیب کی جانب سے رقم لے کر ملزمان کو چھوڑے جانے کے عمل پر عوام کی جانب سے شددید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر بھی اِس حوالے سے بہت شور مچا۔ یوں حکومت نے اِس حوالے سے اہم ترمیمی آرڈینیس جاری کردیا ہے۔صدر ممنون حسین نے نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا جس کے تحت چیئرمین نیب کو پلی بار گین کا حاصل صوابدیدی اختیار ختم کر دیا گیا۔ اب پلی بار گین کی منظوری صرف عدالت دے گی۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے پلی بارگین اور رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرنے والوں کو سرکاری و عوامی عہدے (سیاستدان) کیلئے تاحیات نااہل قرار دینے کی تجویز منظور کرلی ہے۔ وہ قوانین جائزہ کمیٹی کے ارکان وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ آرڈیننس نافذ العمل ہو گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت پلی بارگین کے ذریعے رقم جمع کرانے والا شخص زندگی بھر سرکاری و عوامی عہدے کیلئے نااہل ہوجائیگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس آرڈیننس کو سینٹ میں پیش کردیا جائیگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم کی تجویز ہے کہ پلی بارگین اور رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرنے میں عدالتی منظوری ہو اور تاحیات پابندی بھی شامل ہو۔ انہوں نے کہاکہ اگلا سوال یہ ہو گا کہ آرڈیننس کیوں اور قانون کیوں نہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ بل کے ذریعے پیش کرنے کی صورت میں معاملہ تاخیر کا شکار ہوسکتا تھا کیونکہ 29 جنوری تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو گا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پلی بارگین سے متعلق حکومتی موقف طلب کیا تھا۔ عدالت نے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ نیب کے قانون کی شق۔25/ اے کے بارے میں وفاق کا موقف ایک ہفتے میں پیش کریں جو پلی بارگین سے متعلق نیب کے چیئرمین کے اختیارات کی وضاحت کرتا ہے۔ آرڈیننس کے تحت رضاکارانہ طور پر لوٹی گئی رقم واپس کرنے والے ملزم کو سزایافتہ سمجھا جائے گا اور زندگی بھر کے لئے وہ کسی عوامی‘ سیاسی منصب کیلئے نااہل ہو جائیگا۔ سرکاری ملازم ہونے کی صورت میں وہ فوائد کے بغیر ملازمت سے برطرف ہو جائیگا۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ حکومت ریونیو شارٹ فال کے تناظر میں کوئی نیا ٹیکس لگانے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ اندرون ملک اور بیرون ملک اثاثے اور اکاونٹس نہ ظاہر کرنے کیلئے ایمنسٹی سکیم دینے کیلئے تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے اور اسکا مستقبل قریب میں فیصلہ کر لیا جائیگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی احتساب بیورو آرڈیننس 1999ئکرپشن کیخلاف جاری ہوا تھا جس کے تحت شق 25 اے میں پلی بارگین اور رقم کی رضاکارانہ واپسی کی بات شامل تھی۔ رقم کی رضاکارانہ واپسی کی صورت میں عوامی منصب پر فائز ہونے کیلئے نااہلی یا سرکاری ملازمت سے برطرفی شامل نہیں تھی جبکہ رضاکارانہ واپسی کی سہولت استعمال کرنیوالے ملزم کے معاملہ کی منظوری چیئرمین نیب کا اختیار تھا۔ اس میں عدالت کی منظوری کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ اس طرح رضاکارانہ رقم واپس کرنے والے عوامی منصب یا ملازمت پر واپس جا سکتے تھے۔ اب اس امتیاز کو ختم کرکے رضاکارانہ واپسی اور پلی بارگین کے بارے میں شقوں کو ملا دیا گیا ہے۔ ترمیم کے ذریعہ اب رضاکارانہ رقم کی واپسی پر بھی احتساب عدالت سے منظوری لینا ضروری ہو گا۔ چیئرمین نیب کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والا فرد اب سزایافتہ سمجھا جائیگا۔ اس سے قبل یہ میعاد 10سال تھی۔ انہوں نے بتایا وزیراعظم کی تجویز ہے کہ پلی بارگین میں عدالتی منظوری اور تاحیات پابندی بھی ہو۔ وزیر قانون نے کہا کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ مسلم لیگ (ن)کا منشور ہے۔ این این آئی کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پلی بارگین سے متعلق بل پاس کروانے میں وقت لگے گا ۔نئے قانون کے مطابق پاکستان کے باہر اثاثوں کو بھی ظاہر کرنا لازمی ہوگا ۔ انہوں نے کہا فوجی عدالتوں کے حوالے سے تمام جماعتوں سے مزید مشاورت کی ضرورت ہے ۔ سوئس بینکوں سے پاکستانیوں کی رقوم کی واپسی آسان کام نہیں 190رقم کی واپسی کیلئے ہر فردکے حوالے سے علیحدہ معلومات دینا ہو گی۔سوئس حکام سے اطلاعات کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا ہے ۔سوئس پارلیمنٹ کی طرف سے اس معاہدے کی منظوری کا انتظار ہے 190 حکومت نئے ٹیکسز لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے کرپشن کیخلاف انتہائی قدم اٹھالیا ہے اب کرپشن میں ملوث فرد زندگی بھر الیکشن بھی نہیں لڑسکے گا ۔پلی بارگین سرے سے ختم کی جارہی ہے اور اس کی سزا نااہلی ہوگی۔ عدالتی حکم کے مطابق کرپٹ فرد سے رقم کی وصولی کی جائیگی اور وصولی کے ساتھ ہی عہدے سے بھی ہٹا دیا جائیگا۔ زاہد حامد نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999ئمیں ترامیم کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں پارلیمانی کمیٹی سینٹ اور قومی اسمبلی کے 20 ارکان شامل ہیں اور کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ بدھ کو ہوگا جس میں نیب آرڈیننس 1999ئپر مزید نظر ثانی کی جائیگی۔وزیرمملکت انوشہ رحمان نے کہاکہ وزیراعظم تمام کرپٹ عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی چاہتے ہیں اور نیا آرڈیننس کرپشن کے خاتمے کیلئے مفید ثابت ہوگا۔بیرسٹر ظفراللہ نے کہاکہ پاکستان میں ایسا قانون بننا خوش آئند ہے ایسا قانون دنیا میں کہیں بھی نہیں کہ کرپشن میں ملوث افراد پر زندگی بھر کیلئے پابندی عائد کردی جائے۔ایک سوال پر زاہد حامد نے کہاکہ پلی بارگین لفظ ہی غلط ہے 190 جرم غلط کرنے والے سے بارگین ہونی ہی نہیں چاہیے۔وزیر قانون نے کہا کہ کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ مسلم لیگ (ن) کا منشور ہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظوری کے بعد آرڈیننس ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جائے گا۔ قارئین پاکستان جیسے ملک میں جہاں کرپشن نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں اور نیب دھڑا دھڑ اربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والوں کو چند کروڑ روپے لے کر چھوڑ رہا تھا یقینی طور پر اِس آرڈینیس سے عدلیہ کی بالادستی کا تاثر اُبھرے گا۔ اور عوامی حلقے اِس امر کی تائید کریں گے۔