Sunday, 22 October 2017

RULE OF LAW 24 ARTICLE OF ASHRAF ASMI ..............Dear Friends, It is Research Based Work, definitely it will be asset for Law students.Regards. Ashraf Asmi






نبی پاکﷺ کی ختم نبوت کا قانون




انسانی کے عقلی تقاضے جتنا سفر کر سکتے ہیں وہ کرتے رہے ہیں ایسا پیدائش آدمؑ سے جاری ہے۔ رب پاک نے اپنے وجود کا ادراک بخشنے کے لیے کائنات میں پیغمبرؑ اور رسولؑ بھیجے۔یہ بات کسی طرح بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ رب پاک کے یکتا ہونے کے حوالے سے تمام انبیاء اکرام نے اپنے اپنے دور میں کوششیں جاری رکھیں۔ لیکن ختم نبوت کا تاج آقا کریمﷺ کے سر پر سجایا گیا۔ ایسا کوئی حادثاتی طور نہیں ہوا تھا بلکہ نبی پاکﷺ کو آدمیت کی تخلیق سے پہلے ہی اِس رُتبے پر فائز کردیا گیا تھا۔اسلام کی تاریخ اِس بات کی گواہ ہے کہ نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں جب بھی کبھی کوئی گستاخی کی ناپاک کوشش کی گئی تب تب نبی پاک ﷺ کے عاشق اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے میدانِ عمل میں کوددتے رہے۔ جب بھی کبھی یہ پکار ا گیا کہ نبی پاک ﷺ کی عزت مقام کی خاطر آو۔ تو پھر اسلامی تاریخ نے اویس کرنیؓ، بلال حبشیؓ، نور ادین زنگیؒ ، غازی علم دین شھیدؓ کو اپنا پنا کردار ادار کرتے دیکھا ہے سات ستمبر انیسو چوہتر کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا ایک اہم سنگ میل ہے اور اِس اثرات بھی نمایاں ہیں کیونکہ ختم نبوت ہمارا ایمان کا جزو لاینفک ہے۔ اسلام دُشمن ہمیشہ مسلمانوں کے نبی پاک ﷺُ کی شانِ مبارک پر حملہ کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی روح کو وہ زخمی کرسکیں اور اندازہ لگاتے ہیں کہ مسلما نوں میں کتنا دم خم ہے۔کبھی خاکے چھاپے جاتے ہیں کبھی آزادی رائے کے نام پر پیغبراسلام ﷺکی ناموس پر رکیک حملے کیے جاتے ہیں درحقیقت نبی پاکﷺنے چونکہ تمام بنی نوح انسان کو شرف انسانیت سے ہمکنارکیا اوربتوں کی پرستش کی بجائے صرف ایک ا? پاک کے آگے جھکنے کا درس دیا۔اس لیے کفارو مشرکین نبی پاکﷺکی اس سعی کو اپنی دکان داری پر شدیدحملہ تصور کرتے ہیں اسی لیے حیلے بہانوں سے نبی پاکﷺ کی نبوت کے حوالے سے مختلف قسم کی شر پسند ی کر تے ہیں مسلیمہ بن کذاب کی شرپسند ی سے شروع ہونے والا فتنہ برصغیر پاک وہند میں مرزا قاریا نی کے روپ میں انگریز کی سرپرستی میں اُبھرا۔ جنگ یمامہ جو اِسی حوالے سے لڑی گئی اُس میں بارہ سو صحابہ اکرامؒ شھید ہوئے۔ پوری اسلامی تاریخ اِس بات کی شاہد ہے کہ جب کبھی کسی بد بخت نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا امت نہ صرف یہ کہ اس کا مقابلہ کیا بلکہ جب تک اُس کا قلع قمع نہیں کردیا چین اور سکون کا سانس نہیں لیا۔اسلامی تاریخ میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں پیش کیا جاسکتا ہے کہ جب کسی نے نبوت کا دعوی کیا ہو اور اُمت نے اُسے خاموشی سے برداشت کرلیا ہو۔ اسی عمل کا تسلسل ہے کہ جب متحدہ ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا اور اپنے پیروکاروں کی ایک جماعت بنالی تو اسوہ نبوی اور صحابہ کرامؓ کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے علمائے حق اس جھوٹی نبوت کے خاتمے کے لیے میدان عمل میں نکل آئے اور اس کا ہر سطع پر مقابلہ کیا اس وقت کی حکومت برطانیہ کی چونکہ مکمل سرپرستی مرزا غلام احمد کو حاصل تھی اس لیے اس فتنے کا خاتمہ اس طرح تو نہیں کیا جاسکا جس طرح دور نبوی اور دور صحابہ میں ہوا مگر اس فتنے کے مقابلہ اور اور اسے ختم کرنے کے لیے کوئی سستی اور غفلت نہیں برتی گئی بلکہ تحریری،مناظرہ، مباہلہ غرض یہ کہ ہر سطع پر اس کا مقابلہ کیا ان تمام فتنوں میں جو امت کی تاریخ میں رونما ہوئےَ فتنہ قادیانیت سر فہرست ہے۔ اس حولے سے پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف کا انقلابی کردار تاریخ کے سنہری حروف میں جگمگا رہا ہے۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود اپنی تقریر میں کہتا ہے کہ ان کا یعنی مسلمانوں کا اسلام اورہے اور ہمارا اور،ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ان کا حج اور ہے اور ہمارا اور ہے ہمارا ان کے ساتھ ایک ایک چیز پر اختلاف ہے۔ اسلامیان برصغیر پاک وہندنے ختم نبوت کے حوالے سے بھرپور قربانیاں دیں اور بھرپور مزاحمت کی۔1953میں تحر یک ختم نبوت میں گولیا ں چلیں لیکن رسالت کے پروانوں کے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔اس تحریک میں دس ہزار کے قریب مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور بلال حبشیؓ ، اویس قرنیؓ اور غازی علم دین شھید کے راستے کا انتخاب کیا۔ مجاہد ملت عبد الستار خان نیازیؒ کو اسی تحریک کی پاداش میں پھانسی کی سزاسنا دی گئی۔بر ف کی سلوں پر لٹا کر اُن پر تشد کیاگیا۔نبی پاکﷺکے بعدکسی اور رسول یا پیغمبرکاسلسلہ ختم ہونے کا مطلب، رب پاک کا پیغام مکمل، شریعت مکمل، رب پاک کا کلا م قرآن مجید مکمل، قیامت تک نبی پاکﷺ کی لائی ہوئی شریعت ہی حتمی قرار پائی ہے۔شرپسند عناصر نے ہمیشہ شیطان کی ہمنوائی کا دم بھرتے ہوئے دین اسلام کو نشانے پر رکھا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تو نبوت کا سلسلہ بند نہ کیا ہو تا تو پھر آخری کتا ب بھی نا مکمل شریعت محمدی بھی نا مکمل قرار پاتی۔ خالق کا ئنات کو کیسے منظور تھا۔ جب رب پاک ایک ہے تو آ خری کتاب ایک اوررب پاک کے رسول ﷺسب رسولوں کے سردار بھی وہی ہیں جو صاحب قرآن ہیں اس لیے ختم نبوت کے حوالے سے قومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمد نورانی صدیقیؒ کے دلائل کئی دنو ں تک متواتر ہوئے جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی نے یہ قانون پاس کردیا کہ نبی پاک ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کو نبی ماننا کُفر ہے اور اسی نتیجے میں قادیانی لاہوری گروپ غیر مسلم قرار پائے۔



یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دور حکومت تھاذوالفقار علی بھٹو اُس وقت وزیر اعظم تھے۔ اُئین میں جو ترمیم کی گئی وہ درج ذیل ہے۔
CONSTITUTION (SECOND AMENDMENT) ACT, 1974
An Act to amend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan ]Gazette of Pakistan, Extraordinary, Part I, 
21st September, 1974[The following Act of Parliament received the assent of the President on 17th September,1974, and is hereby published for general information:۔Whereas it is expedient further to amend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan for the purposes hereinafter appearing ;It is hereby enacted as follows:۔
1۔ Short title and commencement.
(1) This Act may be called the CONSTITUTION (SECOND AMENDMENT) ACT, 1974
(2) It shall come into force at once.
2۔ Amendment of Article 106 of the Constitution.
In the Constitution of Islamic Republic of Pakistan, hereinafter referred to as the Constitution in Article 106, in clause (3) after the words ''communities'' the words and brackets ''and persons of Quadiani group or the Lahori group (who call themselves 'Ahmadis')'' shall be inserted.
3۔ Amendment of Article 260 of the Constitution.
In the Constitution, in Article 260, after clause (2) the following new clause shall be added, namely۔۔
(3) A person who does not believe in the absolute and unqualified finality of The Prophethood of MUHAMMAD (Peace be upon him), the last of the Prophets or claims to be a Prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever, after MUHAMMAD (Peace be upon him), or recognizes such a claimant as a Prophet or religious reformer, is not a Muslim for the purposes of the Constitution or law.'' 



اِس کا مطلب یہ نہیں کہ قومی اسمبلی کے قانون منظور کیے جانے سے پہلے جھوٹی نبوت کے دعوے داروں کو مُرتد نہیں کہا جاتا تھا ایسی بات نہیں یہ تو فیصلہ چودہ سو سال پہلے ہی نبی پاک ﷺ کے دور میں کردیا گیا کہ نبی پاک ﷺ ہی آخری نبی ہیں اُن کے کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اللہ پاک نے تو کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی جب نورِ محمدﷺ تخلیق کیا گیا تو اُسی وقت فیصلہ فرما دیا تھا کہ میرا محبوب نبیﷺ ہی آخری نبی ہیں۔اِسی حوالے سے نبی پاک ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ میں اُس وقت بھی نبی تھا جب آدم ابھی آب وگل میں تھے۔نبی پاک کے ذریعے سے اپنا دین مکمل کرنے کے بعد پھر کسی اور رسول یا نبی کی آمد کا مطلب یہ کہ دین مکمل نہیں۔ اِس لیے جتنا اہم کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا اقرار کرنا ہے اُتنا ہی لازم نبی پاکﷺ کو قطعی طور پر آخری نبی ماننا ہے۔ اِس عقیدے کے حوالے سے چونکہ چنانچے کا مطلب ایمان کا خاتمہ ہونا اور مرتد ہونا ہے۔ آقا کریمﷺ کے بعد کسی بھی بدبخت کا نبوت کا دعوی کرنا ایسے ہی جیسے ایک رب کے ہوتے ہوئے کسی اور کو رب مان لیا جائے یا صاحب قران حضرت محمد ﷺ کی بجائے کسی اور کو صاحب قران کے درجے پر معاذ ا? مان لیا جائے۔ ایسا کرنے والا ایسی سوچ رکھنے والا ایسی سوچ رکھنے والوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا مسلمان نہیں ہوسکتا موجودہ پاکستانی قانون کے تحت قادیانی مرزائی و لاہوری گروپ کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اِس طرح سے اِن شر پسندوں کو کھل کر اپنے عقائد کی تبلیغ کا موقعہ مل گیا ہے اور ٹی وی چینلز کے ذریعے مسلمانوں میں بدگمانیاں پیدا کرہے ہیں اور دنیا میں خود کو مظلوم بنا کر پیش کررہے ہیں کہ جناب دیکھیں پاکستانی کتنے ظالم ہیں ہمارے خلاف قانون بنا لیا ہے اور یہ نام نہاد پروپوگینڈا بھی کرتے ہیں کہ پاکستان میں قادیانیوں پر عرصہ حیات تنگ ہے اِس لیے جرمنی، کینیڈا وغیرہ نے دھڑادھڑقادیانیوں کو شہریت دی ہے اور یوں اسلام مخالف قوتوں نے پاکستانی ریاست اور عوام کے خلاف آزادی رائے کے حوالے سے مہم جوئی شروع کر رکھی ہے۔ اسلام کو زِک پہنچانے کے لیے نام نہاد لبرل فاشسٹ بھی کسی سے پیچھے نہیں اور وہ اِسی ملک میں رہتے ہوئے اِسی ملک کے خلاف بولتے ہیں اور فوج اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں سات ستمبر انیسو چو ہتر ہماری تاریخ کا ایک تابناک دن تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اس دن الگ الگ اجلاسوں میں آئین میں ترمیم کا ایک تاریخی بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا جس کے تحت پاکستان میں قادیانیوں کے دونوں گروپوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ قادیانیت اپنی ظاہری اور پس پردہ سرگرمیوں کی وجہ سے ابھی تک ملت اسلامیہ کے لیے ایک فتنہ بنا ہوا ہے کیونکہ کوئی فتنہ صرف آئین میں ترامیم سے ختم نہیں ہوسکتا۔آئین کے تمام قانونی و ذیلی تقاضے پورے کیے بغیر قادیانیت مسلمانوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کہ اُسے آئینی تحفظ اور غیر مسلم شہریوں کے حقوق کے پردہ میں ملت اسلامیہ کے خلاف اپنی تمام حسرتیں نکالنے کا موقع مل سکتا ہے ۔











Saturday, 14 October 2017

ختم نبوت ﷺ کے قانون کے محافظ ASHRAF ASMI....WRITEEN BY




ختم نبوت ﷺ کے قانون کے محافظ



صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ


ملک کو سیاسی افرا تفری کا سامنا ہے۔لیکن اِس بار سب سے کاری وار عاشقانِ رسولﷺ کے دلوں پر لگا جارہا ہے اور موجودہ حکمرانوں کے مرکزی اور صوبائی وزراء قانون ختم نبوت کے قانون کے حوالے سے ابہام پیدا کرنے کی کو شش میں لگے ہوئے ہیں کسی بھی اقلیت سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اُن کا مذہب کیا ہے جیسے عیسائی، ہندو، سکھ بدھ مت سب اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے مذہب کے مطابق اپنی عبادات کرتے ہیں اور آئین پاکستان کے تحت اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ مرزائی خود کو مسلم قرار دیتے ہیں ا ور ہم مسلمانوں کو غیر مسلم اور وہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔وہ شعار اسلام جن سے قانون نے اُنھیں منع کیا ہے وہ اُسے استعمال کرتے ہیں۔ اگر وہ خود کو اقلیت مان لیں تو پھر تو کوئی پرا بلم نہ رہے۔ معاملہ یہ ہے کہ وہ اسلام کا ٹریڈ مارک استعمال کرکے تبلیغ کرتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے احمدیوں کے حوالے سے ایسا بیان دیا ہے۔جس سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ راناثنا اللہ نے قادیانیوں کی بھر پور وکالت کی ہے۔جب کہ تمام تر ایشو طے پاء چکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ختم نبوت محمد ﷺ کے حوالے جب قانون بن چکا ہے۔پھر اِس طرح کے بیانات دینے کے پیچھے جو سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔قومی اسمبلی میں نبی پاک ﷺ کی ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے کواقرار نامے میں تبدیل کیے جانے اور پھر اِسے ٹائیپنگ کی غلطی قرار دینا۔ وزیر قانون زاہد حامد کا پہلے اِس بات پر مُصر ہونا کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی پھر بعد ازاں اِس بات کا اقرار ہے کہ یہ سب کچھ ہوا تھااور دوبارہ حلف نامہ بحال کردیا گیا۔بعد ازاں کیپٹن صفدرکی جانب سے قومی اسمبلی کے فلور پر قادیانیوں کے خلاف تقریر اور پاک فوج اور عدلیہ میں مرزائیوں کو ملازمت سے نکال
باہر کرنے کا بیان۔اب اِس سارئے معاملے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جانے چاہیے کہ یہ اچانک ہو کیا رہا ہے۔ ایک طرف حکومت کے مرکزی وزیر قانون زاہد حامد ختم نبوت کے حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کرنے کی سعی لاحاصل کر چکے ہیں اور دوسری طرف پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ قادیانیوں کو مسلمانوں جیسا قرار دے رہے ہیں۔اور تیسری طرف جناب کیپٹن صفدر قادیانیوں کے خلاف خوب برس رہے ہیں۔اب ذرا جنرل باجوہ کی بطور چیف آف آرمی کی تقرری کا موقع ذہن میں لائیں کہ نواز شریف کے دیرینہ ساتھی جناب سنیٹر ساجد میر صاحب نے عین جنرل باجوہ کی تقرری کے وقت یہ نکتہ اُٹھایا تھا کہ جنرل صاحب قادیانی ہیں اور لیکن جب جنرل صاحب نے عہدہ سنبھال لیا تو جناب ساجد میر صاحب نے بیان دیا کہ نہیں وہ قادیانی نہیں ہیں اُنھیں غلط فہمی ہو گئی تھی۔کیا ن لیگ اِس وقت ختم نبوت ﷺ کے معاملے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کو شش تو نہیں کر رہی ہے۔ ایک طرف سے قادیانیوں کی حمایت اور دوسری طرف سے مخالفت اور اِس سار ے کھیل میں پاک فوج کے سربراہ کو بیچ میں لانا پاک فوج میں قادیانیوں کی بھرتی پر کیپٹن صفدر کی مخالفت۔ عوام کے مذہبی جذبات سے کھیل کر جو ملک میں آگ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے یہ انتہائی خوفناک منصوبہ ہے۔ چونکہ موجودہ حالات میں ن لیگ کے قائد جناب نواز شریف کی سیاست کا دھڑن تختہ ہوچکا ہے اور عاصمہ جہانگیر جیسے مشیر نواز شریف کے بہت قریب ہیں یوں ایک ایسا کھیل کھیلا جارہا ہے کہ پاک فوج کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کیا جائے۔ اور نواز شریف فیملی کی سیاست اور کاروبار پر جو بُرا وقت آیا ہے اُس سے بچنے کے لیے ایسا ایشو اُٹھایا جائے جس کا وجود ہی نہ ہو۔یا پھر پاک فوج کو دباؤ میں لایا جائے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں جنرل باجوہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور عاشق رسول ﷺ ہیں۔ میں اِس موضوع ہر نہیں لکھنا چاہتاتھا لیکن محترم جناب مظہر سلیم حجازی کے زور دینے پر میں اِس حوالے سے کچھ لکھ رہا ہوں۔کیونکہ اِس نازک معاملے پر نون لیگ اور پی ٹی آئی سیاست کر رہی ہیں میرا اِن
میں سے کسی سے تعلق نہیں ہے۔ میں تو نبی پاکﷺ کا ادنی ترین غلام ہوں۔ سیدی مُرشدی یانبیﷺ یانبیﷺ ۔جو ہونہ عشق مصطفےﷺ تو زندگی فضول ہو۔غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے۔ختم نبوتﷺ کے قانون کے محافظ زندہ ہیں اللہ پاک کا شُکر ہے کہ اُس نے ہمیں اِس عظیم چوکیداری کے لیے چُنا ہے۔

Tuesday, 3 October 2017

amendmeendts in election billانتخابی اصلاحات کا ترمیمی قانون سپریم کورٹ کی نظر میں .........صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

ELECTION BILL 2017 AND ITS PRACTICABILITY IN THE EYES OF SUPREME COURT

انتخابی اصلاحات کا ترمیمی قانون سپریم کورٹ کی نظر میں
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

آئین میں ترمیم کا بہت زیادہ شور ہے اور اِس ترمیم کا مقصد جناب نواز شریف کو پھر سے مسلم لیگ کا صدر منتخب کیے جانا ہے۔ اِس ترمیم کے مطابق ایسے شخص کو بھی سیاسی جماعت کا سربراہ منتخب کیا جاسکتا ہے جوکے پارلیمنٹ کے ممبر بننے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔ اِس حوالے سے ایک سیر حاصل گفتگو عام قارئین اور قانون کے طالب علموں کی دلچسپی کے لیے پیش کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک لینڈ مارک فیصلہ شاہد پرویز بنام اعجاز احمد2017scmr206 میں دیا تھا۔ اِس فیصلے میں جو مسٹرجسٹس عامر ہانی مسلم نے تحریر فرمایا تھا "کہ اگر کوئی قانون ایک مرتبہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے کسی بھی وجہ سے غیر آئینی قرار دے دیا جائے اِس کی بدولت جو کچھ بھی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہوں وہ بھی رُک جائیں گے۔ اِس لیے ایسا کوئی بھی قانون جو کہ آئین سے متصادم ہو تو کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اُسکا جائزہ لے اور اُس کے خلاف فیصلہ دے۔اِس لیے سپریم کورٹ کایہ بالکل واضع فیصلہ ہے کہ اگر کوئی ایسا قانون اگر پارلیمنٹ میں اِس مقصد کے لیے بنایا جائے جس سے سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی قرادر دیے جانے والے فیصلے کی نفی ہوتی ہو تو ایسا قانون چونکہ اِس نیت کی بنا پر بنایا گیا ہوگا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے اثر کو ختم کرئے تو پارلیمنٹ کی جانب سے سے بنایا جانا والا ایسا قانون نل اینڈ وائیڈ قرار دے دیا جائیگا۔ کیونکہ ایسے قانون کے بنائے جانے کے پیچھے سب سے بڑا محرک یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی نفی کی جائے ۔اِسی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ" کہ قانون ساز قانون سازی کے حوالے سے اہم کردار ہیں اِس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ قانون ساز جو بھی قانون بنائیں وہ آئین کی روح کے مطابق ہو اِس لیے قانون کو آئین کے پیرا میٹرز ر پرکھنا ہوتا ہے کہ آیا کہ قانون آئین کے مطابق ہے یا نہیں" قانون کو آئین کے پیرا میٹز پر پرکھنے کا کام سپریم کورٹ کا ہے ۔ سوموار دو اکتوبر 2017 کو قومی اسمبلی نے جو بل پاس کیا ہے ۔ قومی اسمبلی نے گزشتہ روز انتہائی تلخ اور ہنگامہ آرائی کے ماحول میں انتخابی اصلاحات سے متعلق سینٹ سے منظور کردہ بل کی کثرت رائے سے منظوری دیدی۔ جبکہ جماعت اسلامی کے ممبران قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق ا للہ، صاحبزادہ محمد یعقوب، شیر اکبر خان اور محترمہ عائشہ سید کی طرف سے بل میں پیش کردہ 5ترامیم میں سے دو ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردی جبکہ محرک صاحبزادہ طارق اللہ نے باقی تین احتجاجاً پیش نہیں کی اور اپنی نشست پر کھڑے ہوکر ترامیم کا مسودہ پھاڑ دیا جبکہ سپیکر نے انہیں ’’ڈراپ‘‘ قرار دیا۔ واضح رہے کہ سینٹ نے انتخابی اصلاحات کا بل منظور کیا تھا اور اس کی سیکشن 203میں بیرسٹر اعتزاز احسن نے ایک ترمیم پیش کی تھی جس کے تحت ایسا فرد جو اسمبلی کا رکن بننے کا اہل نہ ہو وہ پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ تاہم سینٹ میں یہ مہم ایک ووٹ کی اکثریت سے مسترد کردی گئی تھی۔ اس کی وجہ سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پاکستان مسلم لیگ کی صدارت کا منصب دوبارہ سنبھالنے کے اہل ہوگئے تھے۔ سینٹ سے منظور کردہ بل منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اس کی شق 203میں کہا گیا تھا کہ ہر شخص جو پاکستان کی سروس میں نہ ہو پارٹی کی تشکیل کرسکتا ہے، کسی سیاسی جماعت کا رکن بن سکتا ہے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے اور کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار بن سکتا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے ارکان نے قومی اسمبلی میں اس شق میں ترمیم پیش کی تھی کہ ایسا شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں بن سکتا جو بطور رکن پارلیمنٹ سے نااہل قرار دیدیا گیا ہو یا جو قانون ہذا کے نفاذ سے پہلے کسی دیگر نافذالعمل قانون کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو۔ جماعت اسلامی کے ارکان نے اس کے علاوہ چار دوسری ترامیم بھی پیش کی تھیں جن میں خواتین کے لئے 10فیصد لازمی ووٹ ڈالنے کی پابندی ختم کرکے عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کو خلاف قانون قرار دینے، امیدوار کے کاغذات میں ختم نبوت پر حلفیہ اقرار نامہ برقرار رکھنے کی ترمیم بھی شامل تھی۔ ایم کیو ایم اور پی پی پی نے بھی بل میں ترامیم دی تھیں جو تاخیر سے جمع کرائی گئیں۔ اس لیئے قواعد کے مطابق زیر غور نہیں آسکتی تھیں۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ ایم کیو ایم نے انہیں آج ترمیم ’’ہاوس بزنس ایڈوائزری کمیٹی‘‘ کے اجلاس میں دی۔ اس سے قبل انتخابی اصلاحات کے بل اور اس میں ترمیم کے حوالے سے پی پی پی کے سید نوید قمر، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، ایم کیو ایم کے ایس اقبال قادری، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے خطاب کیا۔ قومی اسمبلی کی طرف سے ’’انتخابی اصلاحات کے بل 2017‘‘ کی منظوری کے بعد صدر مملکت بل پر دستخط کریں گے اور یہ ایکٹ بن جائے گا۔ اور اس سے میاں نواز شریف کے مسلم لیگ ن کے صدر کا منصب سنبھالنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس سے قبل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیکشن 203آئین کی روح کے سپرٹ سے متصادم ہے۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ اس بل کو ڈیفر کیا جائے۔ ترمیم کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ سید نوید قمر نے کہا کہ جس طریقہ سے ترمیم لائی گئی ایک شخص کو فائدہ دینے کیلئے جو غیر جمہوری طریقہ کار ہے۔ اتنے دنوں اگر میاں نواز شریف صدر نہیں تھے تو وزیراعظم انہوں نے بنایا اور کابینہ بھی انہوں نے بنائی۔ جسے کورٹ نے نااہل کیا ہے یہ اس کے سامنے چیلنج ہوتا ہے۔ ہم تصادم کی طرف جارہے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ ہم نے نیک دلی سے سارے عمل میں حصہ لیا تھا۔ کئی سو اجلاس ہوئے۔ ہم نے خلوص کے ساتھ عمل میں حصہ لیا۔ ہم نے بہت ساری ترامیم دیں۔ ہم آخری دن تک بیٹھے رہے۔ جس طریقہ سے دھوکہ دہی سے یہ کیا گیا ہے اس پر افسوس ہے۔ ایس اقبال قادری نے کہا کہ یہ اہم بل تھا کہ اس پر 100 اجلاس ہوئے تاکہ برائی دور ہو۔ لیکن جو برائی 203 آ رہی ہے اس تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ سیاست میں سینئر لوگ ہیں کسی کو شک ہے کہ شاہد خاقان عباسی کا انتخاب میاں نواز شریف نے کیا۔ 55 وزیر نواز شریف نے بنائے۔ حامد سرفراز ہمارے ساتھ تھے اور مشرف کا این آر او لکھا کرتے تھے۔ شہباز شریف ان کو پارٹی لیڈر کے طور پر قبول نہیں ہے۔ آج جمہوریت اور پارلیمنٹ کو خطرہ ہے۔ ایک شخص کے لئے جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کے پاس متبادل قیادت نہیں ہے۔ کل اس پارٹی کا سربراہ اجمل پہاڑی بن جائے گا۔ کیا آپ میں کوئی ایک آدمی بھی قابل نہیں۔ کیا شہباز شریف بھی قابل قبول نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں جاؤں گا۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ ہمارے گمان میں نہیں تھا کہ بہت سے چیزوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ انتخابی اصلاحات کو متنازعہ بنا دیا۔ یہ طریقہ اپنایا گیا تو حالات مزید خراب ہوں گے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے جس طرح بات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں جتنے لوگ عدالتوں کے غلط فیصلے سے مرے ہیں میدان جنگ میں اس سے کم مرے ہیں۔ کیا بے نظیر بھٹو اہل تھیں؟ یہاں بار بار کہا گیا کہ ’’مائنس ون‘‘۔ کیا نواز شریف چور تھا؟ جب نواز شریف لندن میں تھا تو کہا گیا کہ شہباز شریف ہمیں قبول ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اس لئے پھانسی نہیں دی گئی کہ اس نے نواب پر حملہ کرایا تھا بلکہ وہ آئین کی حکمرانی چاہتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بار بار کہا گیا کہ وہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ سقراط کو عدالت نے زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا تھا۔ نواز شریف اس وقت بھی ناقبول تھا جب وہ باہر تھا۔ بل کے نمایاں نکات کے مطابق کوئی بھی شہری ایک وقت میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کا رکن نہیں بن سکے گا۔ سیاسی جماعت کارکن پارٹی کے ریکارڈنگ تک رسائی کا حق رکھے گا۔ منظور شدہ بل کے تحت مکمل طور پر خود مختار بنا دیا گیا ہے۔ الیکشن کمشن انتخابات سے 6 ماہ قبل ایکشن پلان پیش کرنا ہوگا۔ یہ مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ہوں گی۔ نادرا سے شناختی کارڈ لینے والوں کے نام ازخود ووٹر لسٹ میں درج ہو جائیں گے۔ بیلٹ پیپرز کی چھپائی فارمولہ کی بنیاد پر ہو گی۔ ممبر کی ویلتھ سٹیٹمنٹ وہی ہو گی جو انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت جمع کرائی جاتی ہے اِسکے علاوہ ختم نبوت پر مکمل ایمان رکھے جانے کے حوالے سے بھی ممبر پارلیمنٹ کے حلف میں تبدیلی کی گئی ہے" قانون کے طالب علم ہونے کی حثیت سے راقم یہ سمجھتا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہو کر قانون بننے والا مجوزہ قانون سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا اِس مقصد کے لیے ہائی کورٹ کے واضع فیصلہ جات موجود ہیں اِس آئینی ترمیم کا مقصد سب پر واضع ہے اور اِس ترمیم کی وجہ سے جو ختم نبوت کے قانون کے حوالے سے ایک سوال اُٹھ گیا ہے وہ بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ راقم کے اِس آرٹیکل کی تیاری میں جناب اعجاز چغتائی اور محمد احسان الحق رندھاوا ایڈووکیٹس کا مشکور ہے کہ اُنھوں نے راقم کی رہنمائی کی۔ 

Thursday, 28 September 2017

امامِ عالیٰ مقام حضرت امام حسینؓ کی شہادت دینِ اسلام کی تجدید writen by میاں محمداشرف عاصمی . IMAM HUSSAINR.A


امامِ عالیٰ مقام حضرت امام حسینؓ کی شہادت دینِ اسلام کی تجدید

میاں محمداشرف عاصمی 

حق کے لیے ڈٹ جانا اور حق کے لیے خود کو اپنے خاندان سمیت قربان کردینا ایک عظیم قربانی ہے۔ دین حق اسلام کو جب تجدید کی خاطر لہو کی ضرورت پڑی تو یہ لہو کسی اور کا نہیں نواسہ رسولﷺ کا تھا جو میدان کربلا میں حریت کی عظیم مثال قائم کر گیا۔ دُنیا ایاسی قربانی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ جب بھی انسانی معاشرے میں حق کی قلت واقع ہوجاتی ہے تو معاشرے کی اِس گٹھن کو ختم کرنے کے لیے اور حق کا بول بالا کرنے کی خاطر لہو کا تیل چراغوں میں جلانے کے لیے درکار ہوتا ہے اور یہ لہو امام اعلیٰ مقام کی حق پر مبنی عظیم شہادت کی یاد دلاتا ہے۔ امام عالیٰ مقام نے سچ کو امر کرنے کے لیے اپنی جان اپنے گھرانے سمیت اللہ پاک کے حضور پیش کردی اور یزید نے اپنی انا کی بالادستی کے لیے امام حسین کو خاندان سمیت شہید کردیا۔ امام عالیٰ مقامؓ کائنات میں حق اور سچ کا نشان ٹھرے اور یزید قیامت تک کے لیے رسوا ہونے کے لیے۔تاریخ انسانی بھی عجب اسلوب و انداز کی حامل ہے۔جس وقت کوئی اندوہناک واقعہ درپیش ہوتا ہے اُس وقت یہ سمجھا جاتا ہے کہ شکست ہوئی ہے ۔ظلم ہوا ہے۔ طاقت کی فتح ہوئی ہے اور مظلوم کو شکست ہوئی ہے ۔یوں شکست کھانے والے کا نشان وقتی طور پر مٹ جاتا ہے اور شکست دینے والا غالب آجانے کی وجہ سے اپنے وجود کو بچا لیتا ہے۔ لیکن تھوڑئے ہی عرصے کے بعد جب اُس واقعہ کے محرکات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اُس کے نتائج و عواقب کو خالقِ کائنات کی طے کردہ کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو پھر شکست دینے والا تاریخ کے ہاتھوں شکست کھا جاتا ہے۔اُسے لعن طن کی جاتی ہے ظاہری فتح کے باوجود وہ عبرتناک شکست کا شکار ہو جاتا ہے کہ پھر اُسے تاریخ کے ہاتھوں ہمیشہ کے لیے ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے۔یہی کیفیت اور اہمیت امام عالیٰ مقام حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے حوالے سے تاریخ کے انوکھے باب کی ہے۔ لاکھوں پیغمبروں رسولوں کے بعد اور نبی پاکﷺ سے دین کو مکمل کروانے کے بعد فوری طور پر دین کی تجدید کی ضرورت کیوں پڑی۔ اِس کا جواب بھی تاریخ ہی دیتی ہے کہ خالق نے جس دین کو نبی پاک ﷺ پر مکمل کیا اُس کی تجدید کی ذمہ داری بھی آپﷺ کے گھرانے کی قسمت میں لکھ دی گئی گو کہ آپ کے نواسے امام حسینؓ کو اِس را ہ میں دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ شہادت کے مقام پر سرفراز ہونا پڑا لیکن نبی پاکﷺ کے گھرانے نے قربانی سے دریغ نہیں کیا اور موت کو اِس طرح گلے لگایا کہ چند ماہ کے علی اصغرؓ نے بھی نبی پاکﷺ کے دین کی آبیاری کے لیے اپنے خون کو پیش کیا۔ اِس طرح کی قربانی کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے اطاعت رسولﷺ،عشق رسولﷺ کے سبق کو سمجھنا ہوگا۔حضرت امام حسینؓ کی شہادت بھی درحقیقت اُنھی قربانیوں کا تسلسل ہے جس کا آغاز اللہ پاک کی وحدانیت کے پرچم کو بلند کرنے کے لیے ہمیشہ سے جاری و ساری ہے۔اگر ہم عشق رسولﷺ کے فلسفے کی اہمیت کو جان جاتے ہیں تو پھر کربلا کے میدان میں سجنے والی انوکھی مقتل گاہ کا فلسفہ بھی سمجھ میں آسکتا ہے۔ دو شہزادوں کی جنگ کا بہتان لگانے والوں کی عقل پر جتنا بھی ماتم کیا جائے وہ کم ہے کہ جنگیں لڑنے کے لیے چند ماہ کے بچوں اور گھر کی خواتیں کو ساتھ لے کر نہیں جایا جاتا۔اور گھرانہ بھی وہ جن کے بابا نبی پاکﷺ ہیں۔نبی پاکﷺ کے گھرانے کے بچوں اور عورتوں کے ساتھ جس طرح سلوک کربلا کی دھرتی پر ہوا وہ دھرتی خود شائد کھبی معاف نہ کر پائے گئی لیکن دوسری جانب اِسی دھرتی پر بپا ہونے والا ظلم سچائی کے لیے مینارہ نور بن گیا ۔یقیناًکربلا کی دھرتی کے لیے یہ امر کسی اعزاز سے کم نہیں۔اللہ پاک، نبی پاکﷺ اور قران مجید کے پیغام کو ہمیشہ کے لیے دوام بخشنے کے لیے نبی پاکﷺ کے گھرانے کو عظیم قربانی دینا پڑی۔آئیے سرکار نبی پاکﷺ کے حوالے سے ذکر خیر ہو جائے۔انسانی تاریخ میں کسی بھی الہامی کتاب کو وہ پذیرائی اور مرکزیت حاصل نہیں ہے جو کہ قران پاک کو ہے۔قران پاک تقریباً چوبیس سالوں میں نبی پاکﷺ پر نازل ہوا۔قران پاک اللہ پاک کا کلام ہے جو اللہ پاک نے مختلف ادوار میں مختلف حالات کے مطابق نازل کیا ۔قرانِ مجید کو نبی پاکﷺ تک پہنچانے کا کام اللہ پاک کے جلیل القدر فرشتے حضرت جبریلؑ نے انجام دیا۔گویا قران اللہ پاک کی جانب سے بندئے کے لیے ایک ایسا ہدایت نامہ ہے کہ اِس کی نظیر نہیں ملتی۔اسلامی تمدن کے تمام تر محرکات اور اسلوب اِس انداز میں قران پاک میں بیان فرما دئیے گئے ہیں کہ اِس کتاب کو اللہ پاک نے ایسی کتاب قرار دیا ہے کہ جو کہ لاریب ہے۔ہم مسلمان ،یورپ امریکہ کے لوگوں کے کارنامے اور وہاں کا نظامِ حکومت دیکھ کر کمتری محسوس کرتے ہیں کہ شائد وہ ہم سے زیادہ علم کے حامل ہیں۔ اصل نکتہ تو یہ ہے کہ تمام تر معاملات کا تعلق عمل سے ہے۔ گفتار کے غازی اور کردار کے غازی دو مختلف انداز ہیں۔ فی زمانہ جو صورتحال واضع ہے وہ یہ کہ مسلمان گفتار پر زور دئے رہے ہیں۔ اور کردار یعنی عمل والا پہلو اُن لوگوں نے ا پنا رکھا ہے جن کو ہم کافر کہتے ہیں۔ اِس جگہ میں ایک نہایت ہی اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ قران اللہ کا کلام ہے اور اِس کتابِ برحق کو انسان کی ہدایت کے لیے اللہ پاک نے نازل فرمایا۔ نبی پاکﷺ نے فرمادیا کہ یہ قران ہے اُس کو قران کا درجہ دئے دیا گیا۔ اور جس بات کو نبی پاکﷺ نے کہا کہ یہ حدیث ہے ہم نے اُس کو حدیث کا درجہ دئے دیا۔ اِس سے یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ صاحب کتاب نبی پاکﷺ کی ذات کی اہمیت اور تقدس کتنا ہے۔ یعنی نبی پاکﷺ کے کہنے سے کتاب برحق کو کتاب ہونے کا درجہ ملا۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ نام کے مسلمان وہ صاحب قران نبی پاکﷺ کی تقدیس کی بجائے قران کی بات کرتے ہیں۔یہاں یہ کہنا ازحد ضروری ہے کہ جو نبی ﷺکی بات ہے وہ اللہ کی بات ہے اور جو اللہ کی بات ہے وہی قران ہے گویا ہم اللہ اور نبی ﷺ کو الگ الگ نہیں کر سکتے۔انسانی تاریخ اِس بات کی گواہ ہے کہ اللہ کے پیغام کو پُر اثر انداز دینے کی سعادت نبی پاکﷺ کو اللہ پاک نے بخشی اور یوں راہ ہدایت قران کو نبی پاک ﷺ کے توسط سے نازل کیا گیا۔ کیونکہ اگر ہم خالق کی توقیر کی بات کرتے ہیں اور اگر ہم کتاب ہدایت قران کی بات کرتے ہیں تو پھر صاحب قران نبی پاکﷺ کی ذات اِس ہدایت والے عمل میں مرکز ومحور ہے کیونکہ الہامی کتابیں اور صحیفے تو پہلے بھی نازل ہوتے رہے۔رب پاک کو ایک ماننے کا سبق تو سوا لاکھ پیغمبروں نے دیا لیکن نبی پاکﷺ پر آکر نبوت کا سلسلہ ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک پوری کائنات کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ہدایت کا سلسلہ نبی پاکﷺ پر آکر مکمل ہوچکا ہے اور یوں سوا لاکھ نبیوں کے تبلیغی مشن کے باوجود،توریت زبور انجیل کے ہوتے ہوئے بھی اللہ پاک نے دین کو مکمل کرنے کے لیے جس ہستی کا چناؤ کر رکھا تھا وہ نبی آخر و اعظمﷺ ہیں۔ جن کی تعلیمات کو زوال نہیں۔جن کا وجود سارئے جہانوں کے لیے رحمت اور جو کائنات کی تخلیق کی وجہ قرار پائے۔ حتیٰ کہ جس توحید کو تمام ادیا ن کسی نہ کسی طرح مانتے ہیں اُس توحید کی خالص روح سے آگاہی بھی نبی پاکﷺ کے توسط سے ہوئی۔۔ جو نبی ﷺ اُمت کے لیے شفاعت کر نے والی ہستی ہے۔ایسی برگزیدہ ہستی کہ جس کے متعلق اللہ پاک فرماتا ہے کہ ائے میرئے پیارئے حبیبﷺ اگر میں آپﷺ کو پیدا نہ کرتا تو زمین وآسمان پیدا نہ کرتا حتیٰ کہ اپنے رب ہونے کا بھی اظہار نہ کرتا۔اِس حدیث قدسی کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کے قران اور صاحب قران نبی پاکﷺ کا کیا مقام ہے۔نبی پاکﷺ کی اولاد پاک اور پیارئے نواسے جناب حضرت امام حسینؓ کی شہادت در حقیت ظلم و بربریت کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ ہے کہ مورخ اِسکا کبھی بھی ثانی ڈھونڈ نہیں پائے گا۔ چونکہ وجہ تخلیقِ کائنات جناب نبی پاکﷺ کے پیارئے نواسے کی حق کی خاطر عظیم شان قربانی ہمیشہ کے لیے سچ کے پیروکاروں کے لیے مشعل راہ بن چکی ہے۔ قیامت تک قدرت اِس عظیم قربانی پر ناز کرتی رہے گی ۔ حشر کے میدان میں بھی اِسی قربانی کا چرچا ہوگا کہ جس نے بھی حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا ہوگا وہ شہادت امام عالی مقام کو ہی کسوٹی قرار دئے گا۔ 

Tuesday, 26 September 2017

ہبہ/ گفٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ پاکستان کی تشریح2017SCMR-1110 ..EXPLAIN BY ASHRAF ASMI ADVOCATE



ہبہ/ گفٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ پاکستان کی تشریح

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 
2017SCMR-1110 


کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں عبدلارحمن بنام مجیداں بی بی میں جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس دوست محمد خان نے ہبہ یعنی گفٹ کرنے کے حوالے سے ایک لینڈ مارک فیصلہ سُنایا ہے۔ہبہ کے قانون میں میں اصل میں تین لازمی شرائط ہیں۔ اگر اِن میں سے کوئی ایک بھی شرط پوری نہ کی گئی ہو تو ہہ کی قانونی حثیت نہ ہوگی۔وہ تین شرائط مندرجہ ذیل ہیں۔1۔ ہبہ دہندہ کی طرف سے جو کہ بالغ،عاقل ہو جائیداد کا مالک ہو۔ اور وہ ہبیہ کرنے کی پیش کش کا کھلا اظہار کرئے2۔ہبہ گریندہ جو کہ عاقل و بالغ ہو کی طرف سے پیش کش کا تحریری یا اعلانیہ طور پر اظہارِ قبولیت کرنا۔3۔ اگر ہبہ دہندہ خود قابضِ جائیداد نہ ہو۔جائیدادِ ہبہ کسی تیسرئے فریق کے قبضے میں ہو جیسے کہ مزارع یا کرایہ دار یا پٹہ دار کے قبضے میں ہو۔ تو ہبہ دہندہ اُس کے سامنے زبانی اعلان کرئے یا تحریری نوٹس دے کہ اس دن سے ہبہ گریندہ کو مالک/ مالکہ تصور کیا جائے اور جائیداد کی آمدن یا کرایہ یا پٹہ داری/ عوضانہ نئے مالک کو ادا کرنا شروع کردے۔موجودہ کیس میں بوقت زبانی ہبہ مبینہ ہبہ گریندہ کم سن، نابالغ تھا لہذا وہ ازروئے قانون کسی قسم کا معائدہ کرنے کا مجاز نہ تھا۔اور نہ ہی مبینہ ہبہ گریندہ کی جانب سے کسی سرپرست نے اِس مبینہ پیش کش کو قبولیت بخشی۔ مزید یہ کہ جس وقت جس دن کافی عرصہ قبل مبینہ ہبہ کا اعلان کیا گیا ۔اراضی متدعوعہ کا قبضہ مبینہ ہبہ گریندہ کو نہیں دلایا گیا یوں پورا عمل ہبہ قانون کی رو سے باطل اور ناقابلِ عمل تھا۔دیہاتی ان پڑھ اور ناسمجھ خواتین سے اگر مصدقہ رجسٹری کے ذریعے بھی جائیداد بطور ہبہ لی گئی ہوپھر بھی قوی بار ثبوت، ہبہ سے فائدہ اُٹھانے والے پر ہے ا ور رجسٹری ہبہ کو اِس صورت میں وہ قانونی حثیت حاصل نہ ہوگی اُس معائدے کے مقابلے میں جو کہ گیرندہ نے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ عاقل بالغ شخص کے ساتھ ہبہ کا معائد ہ کیا ہو۔ پردہ نشین دیہاتی خاتون کے ساتھ اِس قسم کا معائدہ کرنے سے شفافیت اور مکمل احتیاظ برتنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے بصورت دیگر اِس قسم کے معائدے کو عمومی طور پر مشکوک تصور کیا جائے گا۔ اِس کیس میں عدالت نے کل سات ایشوز وضع کیے تاہم ایشو نمبر دو کا غلط طور پر خلاف قانون و خلاف ضابطہ بار ثبوت فریقین پہ رکھا گیا حالانکہ واقعات کی رو سے اِس ایشو کا بارِ ثبوت اپیل کندہ مدعاعلیہ پر تھا۔ شاید اس وجہ کی بناء پر عدالتِ ابتدائی سماعت و عدالتِ ضلعی اپیل نے شہادت بر مثل کا غلط تجزیہ کرتے ہوئے غلط اور غیر قانونی نتیجہ اخذ کیا اور مسہول علہیہ کا دعویٰ و اپیل خارج کیے۔ مسول علہیہ نے نگرانی دیوانی نمبری 2007/D 242 ہائی کورٹ میں دائر کی جو کہ فاضل جج صاحب نے دونوں عدالوں کے احکام و ڈگری کو مسترد کرے ہوئے مسول علہیہ منظور کی اور دعوی متعدیہ مسول علہیہ میں ڈگری صادر کی جس سے نالاں ہو کر اپیل کندہ نے براہ راست اپیل ہذا دائر کی۔ اِس مقدمہ میں وقعات کچھ اِس طرح کے ہیں جس سے فریقین کو انکار نہیں جیسا کہ مسول علہیہ کی اراضی میں مطلوبہ ملکیت سے انکار نہیں کیا گیا ہے۔اور یہ کہ ہبہ گریندہ اور ہبی دہندہ دونوں آپس میں بہن بھائی ہیں۔اِس امر سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا کہ اپیل کنندہبوقتِ مبینہ ہبہ کمسن و نابلغ تھا۔ اگرچہ مسول علہیہ کی والدہ مرحومہ سے بھی اپیل کنندہ کے حق میں اِسی روز ہی اپنے حصہ ملکیت کو ہبہ کیا تاہم یہامر عیاں ہے کہ اِس وقت اپیل کنندہ کی والد ہ مرحومہ کو قا نونی حثیت مسول علہیہ کے ہو بہو تھی کیونکہ وہ ہبہ دہندہ تھی لہذا وہ کسی صورت میں بیک وقت قانونی ولی یا سرپرست کی حثیت سے عاری تھی۔ہمارے زمانہ میں یہ نرواج عام ہوتا جا رہا ہے کہ زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کر دیتے ہیں لیکن صحابہ رضی اللہ عنھم، تابعین و ائمہ کے دور میں اس کا ثبوت نہیں ملتا ہے کہ کسی نے بھی اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کر دی ہو، بنا بریں صحیح طریقہ یہ ہے کہ شخص کے فوت ہونے کے بعد شرعی طریقہ پر اس کا مال تقسیم کیا جائے۔کوئی شخص مورث نہیں بن سکتا جب تک وہ وفات نہ پا جائے۔ اسی طرح موت کے بغیر اس کے
کسی قریبی کو اس کا وارث قرار دینا بھی صحیح نہیں اور نہ ہی زندگی میں مورث اور وارث کے اعتبار سے ان کے درمیان ورثہ منتقل ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ مورث اور وارث کا اطلاق موت کے بعد ہوتا ہے۔ موت سے پہلے نہیں ہوتا۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے دو نہیں، بلکہ تین آیات اور ایک حدیث بیان کی ہے اور ان سے استدلال کیا ہے کہ موت کے بغیر کوئی شخص مورث نہیں ہو سکتا۔ یہ مفہوم اور معنیٰ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لغتِ عرب سے منقول ہے۔ لہذا جو شخص زندہ رہتے ہوئے اپنی جائیداد اپنے اقرباء میں بحیثیت ان کے وارث ہونے کے ان کے درمیان تقسیم کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتا ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا مگر ہبہ کا مسئلہ اس سے مختلف ہے اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنے اقرباء کے درمیان جائیداد تقسیم کر دے جو اس کی موت کے بعد وارث ہونے کے اہل ہیں یا اہل نہیں تو شریعت کی طرف سے اس پر کوئی مواخذہ نہیں، بشرطیکہ ہبہ میں اس کی شرائط کو ملحوظ رکھا جائے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے باب کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد بشیر نے جب اپنے ایک لڑکے کو غلام دے کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانا چاہا .تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
یعنی ''اس طرح باقی اولاد کو بھی عطیہ دیا ہے؟'جواب ملا کہ ''نہیں'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جور و ظلم پر گواہ بننے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ''اعدلوا بين اولاد?م'' اور ایک روایت میں ''سووا بين اولاد?م'' ہے یعنی ''عطیہ کے وقت اولاد میں عدل اور برابری کرو۔''اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔1۔ ہبہ اور وراثت کے احکام الگ الگ ہیں۔ ہبہ کا اطلاق زندگی میں اور وراثت کا اجراء موت کے بعد ہوتا ہے۔ نیز ہبہ اور وراثت کی تقسیم میں بھی جمہور ائمہ نے فرق بیان کیا ہے کہ ہبہ کی صورت میں لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصہ کے برابر ہے۔ مگر وراثت کی صورت میں لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصہ سے نصف ہے۔2۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جو دوسری بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اولاد وغیرہ کے درمیان بصورتِ ہبہ جائیداد وغیرہ تقسیم کرنے کا مجاز ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد کسی پر جور و ستم نہ ہو۔ 

The Search.. overview by Ashraf Asmi افضل چوہدری کی تلاش صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ




افضل چوہدری کی تلاش

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 

چوبیس ستمبر 2017 لاہورکی ایک دوپہر جس میں گرمی کی شدت نہ تھی اور موسم خوشگوار ہی تھا۔ اتوار ہونے کی وجہ سے مال روڈ کو خاموشی نے اپنے دامن میں سمیٹ رکھا تھا۔ میں اپنے بیٹے حذیفہ اشرف کے ساتھ اپنے محترم دوست صحافی جناب افضل چوہدری کی خصوصی دعوت پر اُنکی کتاب تلاش کی تقریب رونمائی میں شرکت کے لیے کرسٹل ہال پی سی ہوٹل کی جانب رواں دواں تھا۔جبب ہم پی سی ہوٹل پہنچے تو کرسٹل ہا ل میں جناب افضل چوہدری نے بہت ہی خوبصورت محفل سجا رکھی تھی۔ سٹیج پر اوریا مقبول جان، مجیب الرحمن شامی، ڈاکٹر صغریٰ صدف، ناصر ادیب،حافظ حسین احمد، فرید پراچہ، ولید اقبال، ایم این حاجی وحید و دیگر تشریف فرما تھے۔جناب افضل چوہدری دلہا بنے ہر کسی سے انتہائی پُرتپاک انداز میں مل رہے تھے۔جناب افضل چوہدری نے اپنے عزیز اقارب اپنے دوستوں کی بہت بڑی تعداد کو تقریب میں مدعو کر رکھا تھا۔ولید اقبال نے کتاب تلاش جو کہ ادیان کی ایک تاریخ بیان کرتی ہے جس میں الہامی مذاہب اور دُنیاوی طور پر بنائے گئے مذاہب کا ذکر ہے کو بہت اچھے انداز میں پیش کیا۔ولید اقبال نے کتاب کے مندرجات کے حوالے سے انتہائی مختصر اور جامع گفتگو کی اور حاضرین کے دل موہ لیے۔ میاں شہباز صدر پریس کلب لاہور نے بھی اچھا خطاب کیا اور انسانی آزادیوں کی گھمبیر صورحال کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ ناصر ادیب جنہوں نے مولاجٹ شیر خان جیسی فلمیں لکھی تھیں اُنھوں نے انہتائی خوبصورت گفتگو کی۔ زندگی کے احساسات کو جس طرح اُنھوں نے الفاظ کا رنگ دیا یہ اُنھی کا ملکہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف جو پلاک کی ڈائریکٹر جنرل ہیں انتہائی خوبصورت گفتگو کرتی ہیں۔اُنھوں نے بہت ہی شاندار انداز میں مذاہب کو ماننے والوں کو امن و آشتی کا سبق یاد دلایا۔حافظ حسین احمد جو کہ انتہائی بیمار کے عالم میں تقریب کی صدارت فرما رہے تھے وہ تقریب میں آخر تک تشریف فرما رہے اور اُنھوں نے جناب افضل چوہدری کو تلاش کی اشاعت پر خراج تحسین پیش کیا۔ جناب اسد کھرل نے اپنے خطاب میں تلاش کے موضوع کا بہت اہمیت کا حامل قرار دیا اور کتاب کے مصنف کی جانب سے اُٹھائے گئے نکات پر عصری تقاضوں کے مطابق جواب کی تلاش پر زور دیا۔مجیب الرحمان شامی نے بھی کافی جاندار خطاب کیا اور افضل چوہدری کی کتاب کو بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔ اُنھوں نے پاکستان کی موجودہ معاشرتی صورتحال پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اوریا مقبول جان جیسی شخصیت نے تقریب مین جان ڈال دی اور والہانہ انداز میں خطاب کیا اُنھوں نے مسلم دُنیا کے حکمرانوں کی روایتی بے حسی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ کتاب کے مصنف جناب افضل چوہدری نے کتاب لکھنے کے محرکات اور اِس حوالے سے اپنے تیس سے زائد ممالک کے سفر کے مشاہدات اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔کتاب کے چار باب ہیں۔ باب اول میں مذہب، قدیم ترین مذاہب ، قدیم مذاہب کے ذرائع جبکہ باب دوم میں ہندو مذہب،جین مت، بدھ مت، سلھ مت، چینی تاو مت، کنیفیوشس مت ،شنتو مت، باب سوم میں پارسی زشت مت، یہودیت، عیسائیت اسلام ،باب چہارم میں کیا مذہب کو ماننا، انسانی تخلیق سائنس کے مطابق، مذہب کا سائنس کو چیلنج ، جی ہاں مذہب کو ماننا چاہیے ، سچا مذہب میری نظر میں۔ متذکرہ بالا عنوانات کے تحت جناب افضل چوہدری نے اپنی کتاب کو لکھا ہے۔ اِس شہرہ آفاق کتاب میں دلچسپی ہر مذہب کو ماننے والے کے لیے ہے۔
جناب افضل چوہدری نے کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ "
تخیل کی خول کے اندر مقید ہونا اختلاف رائے میں شدت کرتا ہے بعض اوقات یہ شدت کسی تحریک کو جنم دیتی ہے اور بعض اوقات نئے مذہب کو۔ روز ازل سے انسان یہ تخیلیات کھبی زندگی کے دنیاوی فلسفہ سے اخذ کرتا ہے اور کبھی یہ تخلیات آسمانی اور الہامی احکامات کی صورت میں کسی مذہب کا پرچار کرتے ہیں۔تخلیق کار کے تخیل کو جب تک رس ٹپکتے الفاظ کا روپ نہ ملے تب تک شاہکار نہیں بنتا۔انسانی تخیل جب شاہکار بن جائے تو پھر شاہکار کے رموزدھیرے دھیرے دوسروں پر آشکار ہوتے ہیں ۔"آخری بات جناب افضل چوہدری نے دُنیا میں امن وآشتی کے جو اعلیٰ مثال قائم کی ہے ۔اصل میں یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے۔اللہ پاک چوہدری افضل صاحب کو سدا سلامت رکھے۔ 

Sunday, 24 September 2017

OUR THOUGHTS ARE RESPONSIBLE OF OUR SUCCESS سوچ کا مظہر. BY ASHRAF ASMI



سوچ کا مظہر

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

انسانی احتیاجات وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت اور سب سے بڑھ کر اپنی حقیقت تبدیل کرتی چلی جاتی ہیں۔کسی بھی شے کا حصول وقت گزرنے کے بعد یہ ثابت کرتا ہے کہ کیا اُس شے کا حصول فائدہ مند تھا یا نہیں یا جس قدر اُس کو اپنے لیے سوہان روح بنایا ہوا تھاُ اتنی اُس کی اہمیت و افادیت تھی بھی یا نہیں۔ انسان کی زندگی کے جو تین ادوار ہیں اُن کی اہمیت بدلتی رہتی ہے۔ذرا تصور فرمائیں جس نوجوان کی عمر بائیس سال ہے۔وہ بیس سال کے بعد کہاں ہوگا۔ کیا سوچ رہا ہوگا۔ اُس کی سوچ کے تانے بانے کیا بُن رہے ہوں گے۔ تصور فرمائیں بیس سال گزر گئے ہیں وہ نوجوان اب بیالس سال کا ہوچکا ہے۔ پیچھے مڑ کا جب وہ دیکھتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ دو دہاہیوں قبل وہ جس منزل کو حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھا اُسے پانے کے بعد بھی اُس کی تشفی نہیں ہوئی تھی اور وہ فقط راہ گزر ثابت ہوئی تھی وہ منزل نہ تھی۔ انسانی مزاج میں جو تبدیلی پیدا ہوتی ہے وہ اُسے تجربات کی وجہ سے ایسی بھٹی میں جھونکتی ہے جس سے وقت اُس کا اُستاد بن جاتا ہے اور اُسے وہ کچھ سکھاتا ہے جو شائد کسی مکتب کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ہوسکتا جس ملازمت کو حاصل کرنے کا خواب اُس کا بیس پہلے تھا وہ ملازمت حاصل کرنے کے بعد بیس سال بعد وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ یہ اُس کی منزل نہیں تھی وہ غلطی پر تھا یااُس نے اپنے متعلق درست فیصلہ نہیں کیا تھا۔ ٹائم لائن پر کھڑئے ہو کر اپنی زندگی کے تینوں ادوار کے متعلق آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا اندازِ سوچ بدل جاتا ہے۔ جیسے ایک شخص نے تہیہ کیا تھا کہ وہ سول سروس میں جائے سول سروس میں جانے کے بیس سال بعد اُسے اگر یہ احساس ہو کہ اُس نے اپنی زندگی کو درست سمت نہیں ڈالا یا جو روحانی سکون اُسے صحافت کے شعبے میں مل سکتا تھا وہ اُسے نہیں ملا۔ یہ بھی وہ رائے رکھ سکتاہے کہ اُس کا فلاں کلاس فیلو جو کہ اُس سے کمتر درجے کا طالبعلم تھا لیکن اُس نے زندگی کو مشین نہیں بننے دیا اور اپنی زندگی جیا اور اُس نے صحافی بن کر حالات کی چکی میں پس کر وہ مقام حاصل کر لیا جو کہ وہ سول سروس والے شخص کے لیے بیس سال گزرنے کے بعد بھی خواب ہے۔ اِس لیے زندگی میں محنت، ذمہ داری کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ انسانی رویوں کا انداز بدلتا رہتا ہے۔ اللہ پاک نے انسان کو بہت حد تک با اختیار بنایا ہے۔لیکن اِس با اختیار ہونے کا احساس تو تب تقویت پکڑئے گا جب انسان اپنی ذمہ داری کو محنت کے ساتھ نباہے گا۔ کئی مرتبہ ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ فلاں گاڑی فلاں گھر فلاں ملازمت اگر مل جائے تو ہمارئے وارئے نیارئے ہوجائیں گے لیکن جب سب کچھ مل جاتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ یہ تو منزل ہی نہیں تھی سب کچھ کیا دھرا بے کار گیا اگر وہ فلاں راستے کا راہی بن جاتا تو وہ کچھ مل جاتا جو میرئے لیے اچھا ہے۔ وقت کی کسوٹی بتاتی ہے کہ کیرئیر شروع کرتے وقت جو فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا یا غلط۔جب انسان اپنے رب کی مدد مانگتا ہے تو پھر اُس کا رب اُس کی مدد کے لیے اُس کے ساتھ ہوتا ہے پھر اُس سے اپنے مستقبل کے حوالے سے فیصلے بھی اچھے صادر ہوتے ہیں۔یہ نہیں ہوسکتاہے کہ مادیت سے حد سے زیادہ محبت ہمیں روحانی خوشیوں سے بھی سرشار کرئے۔ میرئے ایک بچپن کے دوست ہیں وہ اس وقت بہت کامیاب ڈاکٹر ہیں۔ اُن کا فیملی بیک گراونڈ بھی ایسا ہے کہ اربوں پتی ہیں میں نے زندگی میں کبھی بھی اُن کو روپے پیسے کے پیچھے بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا۔ لیکن وہ بہت کا میاب ڈاکٹر ہیں اُن کی پریکٹس بہت اچھی ہے۔ وہ بہت زیادہ کما رہے ہیں۔ بچپن سے لے کر اب تلک میں نے اُن کے اندر یہ خواہش نہیں دیکھی کہ میں نے بہت زیادہ دولت کمانی ہے۔ وہ ایک مطمن زندگی گزار رہا ہے۔ اُس کے مریض اُس سے بہت خوش ہیں۔ اِسی طرح ایک دوست ہے وہ صرف گریجویشن تک تعلیم حاصل کرسکا۔ سات سمندر جا کر پیسے کمانے کی مشین بنا ہوا ہے۔ امریکہ کی نیشنلٹی کا حامل ہے۔ بہت امیر بن چکا ہے لیکن اپنے غریب دوستوں اور غریب رشتے داروں کے لیے اُس کے پاس کچھ نہیں کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اُس نے یہ ساری دولت اپنی محنت سے کمائی ہے اِس لیے وہ اُس کا خرچ نہیں کرتا۔ دولت ہی اُس کے لیے خدا بن چکی ہے۔ یوں وہ وہ منزل مراد پا چکا ہے جو اُس کا مطمع نظر ہے۔ کیا وہ روحانی طور پر پرسکون ہے۔ اُس کے انداز سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اُس کی زندگی میں وہ سکون نہیں ہے جو کہ اُسے مل جانا چاہیے۔اِس لیے ٹائم لین پر کھڑئے ہو کر اگر ہم حال مین بہتر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ مجھے زندگی میں یہ کام کرنا ہے تو پھر آئندہ آنے والے وقت میں اُسے پچھتاوا نہیں ہوگا اُس نے اگر کسی سے رہنمائی لے لی ہوتی تو اُسے اپنے کیر ئیر کے متعلق فیصلہ کرنے میں آسانی رہتی۔ اِس لیے اگر ہم اپنے متعلق فیصلہ سازی کرتے وقت مشورہ کرلیں تو زندگی میں پچھتاوئے کم ہو جائیں گے۔ اللہ پاک کا کرم ساتھ ہوگا۔ روحانی خوشی ملے گی۔ دوستو: دولت تو سب کچھ تب ہو نہ جب اِس نے ہمارئے ساتھ ہمیشہ رہنا ہے ہمیشہ ساتھ تو اعمال نے رہنا ہے۔ اِس لیے اپنے خالق کو خوش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم وہ راستہ اپنائیں جس سے خالق اور اُس کی مخلوق خوش ہوں۔ 

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: زندگی میں زندگی کا احساس ............................

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: زندگی میں زندگی کا احساس ............................: زندگی میں زندگی کا احساس صاحبزادہ میاں محمدا شرف عاصمی خوشی کا احساس کیسے ہو سکتاہے اِس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم خوش...

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: زندگی میں زندگی کا احساس ............................

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: زندگی میں زندگی کا احساس ............................: زندگی میں زندگی کا احساس صاحبزادہ میاں محمدا شرف عاصمی خوشی کا احساس کیسے ہو سکتاہے اِس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم خوش...

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: زندگی میں زندگی کا احساس ............................

RULE OF LAW INTERNATIONAL MAGAZINE: زندگی میں زندگی کا احساس ............................: زندگی میں زندگی کا احساس صاحبزادہ میاں محمدا شرف عاصمی خوشی کا احساس کیسے ہو سکتاہے اِس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم خوش...