Monday, 15 August 2016

تحریک آزادی کشمیر زندگی اور موت کی جنگ................ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ




تحریک آزادی کشمیر زندگی اور موت کی جنگ
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

کشمیر کی آزادی کے حوالے سے ایک بھرپور بریفنگ کا اہتمام تھا۔ اِس بریفنگ میں ورلڈ کالمسٹ کلب کے عہدیداران اور سپریم کونسل کے ممبران کالم نگار شریک ہوئے۔لاہور شہر میں قیام پذیر نامور کالم نگاروں کے درمیان بندہ ناچیز بھی بطور ممبر سپریم کونسل آف ورلڈ کالمسٹ کلب شریک محفل تھا۔کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم اور عالمی سطع پر اِس حوالے سے ہونے والے رد عمل پر بریفنگ میں جو ذکر کشمیریوں پر ڈھائے جانے والاظلم و ستم کا ہوا اور ملٹی میڈیا کے ذریعہ سے کشمیری مجاہدین کے انٹرویوز، کشمیری رہنماؤں کی تقاریر جو سننے کو ملیں۔ اِن سب کچھ کے سُننے کے بعد اور وڈیوز دیکھنے کے بعد آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔اِیسا میرئے ساتھ ہی نہیں تھا۔روزنامہ جنگ کے کالم نگار جناب فاروق چوہان بھی درمندی کے ساتھ کشمیر میں ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار فرما رہے تھے۔جناب سردار مراد خان ایڈیٹر روزنامہ بیتاب بھی کشمیر کے حوالے سے دُکھی دیکھائی دئے رہے تھے۔جناب ناصر اقبال خان اور حافظ شفیق الرحمان جو کہ ورلڈکالمسٹ کلب کے قائدین ہیں اُن کی گفتگو سے بھی انتہا کا درد جھلک رہا تھا۔بندہ ناچیز کی وابستگی انجمن طلبہ ء اسلام کے ساتھ رہی ہے اور زمانہ طالب علمی میں تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنماء جناب سید شبیر شاہ کی تگ وتاز میں بندہ ناچیز اور میرئے دوست جناب جاوید مصطفائی ہمرکاب رہے اور سید شبیرشاہ کے لٹریچر کی ترسیل اپنے طالب علم ساتھیوں میں کالج میں کرتے رہے۔برسوں سے کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے لیے ہر سال پاکستان میں5 فروی کو دن منایا جاتا ہے۔پاکستانی حکمران اشرافیہ کو ہندوستان سے دوستی اور تجارت کی فکر لاحق رہتی ہے۔ اِس لیے اِس طرح کے ایام منانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔نہ تو عالمی برادری پر کوئی اِس کا اثر کروانے میں پاکستان کامیاب ہوا ہے اور نہ ہی پاکستان کے اندر کشمیر کی آزادی کے حوالے ے حکومت اپنا قبلہ درست کرسکی ہے۔کشمیر کی آزادی کے لیے جنگ لڑنے والے ایک مجاہد نے جب ہمیں موجودہ حالات کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا یقین جانیے بندہ ناچیز کو انتہائی دکھ ہوا کہ ہمارئے حکمران کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے ستر سالوں سے کچھ بھی نہیں کر پائے۔ بریفنگ میں ایک مجاہد نے بتایا کہ حضرت قائد اعظم ؒ نے کشمیر کے حوالے سے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔قائد اعظمؒ نے اُس وقت کے پاکستانی فوج کے چیف کو حکم دیا تھا کہ وہ کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے پاکستانی فوج کو کشمیر میں لے جائے ۔لیکن وہ جرنیل جنرل گریسی انگریز تھا اُس نے اپنے ہی گورنر جنرل کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا۔کشمیر کی اندر حق خود ارادیت کے لیے کشمیری اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور بھارت ڈھٹائی کے ساتھ پوری دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔حال ہی میں تحریک آزادی کشمیر میں تیزی کی لہر کو پس پشت ڈالنے کے لیے بھارتی را ء نے کوئٹہ میں بدترین قسم کی دہشت گردی کا ارتکاب کیا اور وہاں وکلاء صحافیوں ایک جج صاحب ایک ڈاکٹر اور دیگر لوگوں کو شہید کردیا گیا۔ملٹی میڈیا پر جس طرح کشمیری عوام کے جذبات کی عکاسی ہوئی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے اُن کی تڑپ دیکھنے کو نظر آئی۔ اِس کے بعد راقم مزید رنجیدہ ہوگیا کہ اے کاش ہم نے پاکستان کی قدر کی ہوتی۔ہندووں کے ظلم وستم سہتے سہتے کشمیریوں کی کئی نسلیں قبروں میں چلی گئی ہیں لیکن کشمیریوں کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ہر صبح طلوح ہونے والا سورج کشمیریوں کے جذبہ حریت میں اضافہ کرتا چلا جارہا ہے۔ناقدین کہتے ہیں کہ ہم مشرقی پاکستان گنوا بیٹھے ہیں کشمیر کیسے حاصل کر پائیں گے۔مشرقی پاکستان کا مغربی پاکستانی کے ساتھ جغرافیائی راستہ نہ تھا۔ اور ہندوستان پہلے دن سے سازش کر رہا تھا کہ مشرقی پاکستان کو علحیدہ کردیا جائے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے ساتھ بیٹھ کر اعترافِ گناہ کیا تھا کہ ہاں پاکستان کو توڑنے والوں میں میں بھی شامل تھا۔کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔کشمیر پاکستان کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ پاکستان مین دریا وں کا پانی کشمیر کے رستوں سے آتا ہے۔ کشمیریوں پرڈھائے جانے والے ظلم کے تذکرئے کے بعد محسوس ہو رہا تھا کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔کشمیر میں معیشت تباہ ہوچکی ہے۔سہاگنوں کے سہاگ لٹ چکے ہیں ۔بچے یتیم ہے۔ ماؤں کے لال منوں مٹی میں جا سکے ہیں۔اِس لیے پاکستان کے اربابِ اقتدار یہ بات اپنے دماغ میں بٹھائیں کہ کشمیر کی آزادی کو اپنی ذات انا کی بھینت نہ چڑھائیں۔فوج بطور ایک ادارہ پاکستان کی سالمیت کا محافظ ہے۔ اِس لیے پاک فوج کے خلاف حکومتی حلیف سیاستدانوں کی جانب سے ہرزہ سرائی کا کیا مطلب ہے۔ اچکزئی اور فضل الرحمان کس کی زبان بول رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کی چےئرمین شپ سیاسی رشوت کے طور پر ایک ایسے شخص کو دی ہوئی ہے جس کا کہنا ہے کہ خدا کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے۔کانگرسی علماء کے ہمنوا پیٹرو اسلام کے حامل نام نہاد پاکستانی مذہبی جماعتوں کے مُلاء جہاد کشمیر کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔انشا ء اللہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ زمانہ طالب علمی سے میرئے قائد لاکھوں دلوں کی دھڑکن انجمن طلبہ ء اسلام کے سابق مرکزی صدر جناب ڈاکٹڑظفر اقبال نوری جو التجاء نبی پاکﷺ کی بارگا میں کرتے ہیں وہی الفاظ میں دھرانے لگا ہوں۔ یا رسولِ ہاشمیؒ ۔کرم کی ہو نگاہ۔ ہر محاذ پر کامران ہوں یہ سپاہ۔ 



نبی پاکﷺ کی بارگا میں ........................Written By Ashraf ASmi


Monday, 8 August 2016

بلوچستان کے وکلاء کے لہو کی پکار۔مودی اُوباما گٹھ جوڑ مردہ آباد .................written by صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ


بلوچستان کے وکلاء کے لہو کی پکار۔مودی اُوباما گٹھ جوڑ 

مردہ آباد

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 

سوموار 8اگست 2016 کی صبح وکلاء برادری کے لیے انتہائی دُکھ بھری خبر نے افسردہ کردیا۔ قلم کتاب کے حامل قانون دان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کر دئیے گئے۔ پاکستانی معاشرئے میں دہشت گردی نے جس طرح پھن پھیلائے ہیں۔ امریکی افغانی اور بھارتی گٹھ جوڑ نے پاکستان کو لہو لہو کردیا ہے۔ پاک فوج کی عظیم قیادت نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی بے باک قیادت میں ملک میں سے 80% دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ دیا ہے۔ لیکن چین پاکستان دوستی اور ترکی کا اپنے پاکستانی بھائیوں سے والہانہ پیار یہ عاملین ایسے ہیں کہ امریکہ بھارت اسرائیل کو چین نہیں لینے دے رہے۔ پاک چین اکنامک کاریڈور کو جس طرح پاک فوج نے حفاظتی حصار میں تکمیل کے مراحل سے گزارا ہے اور پاک ترک اکنامک کاریڈور بھی امریکہ بھارت اسرائیل کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ دو دن پہلے امریکی جاسوس کی گرفتاری، چند ماہ پہلے بھارتی جاسوس کی گرفتاری۔ یہ ہیں وہ سب محرکات جنکی وجہ سے ملک کے امن کو تباہ برباد کیا جارہا ہے۔ بلوچستان بار کے صدر جناب بلال کاسی کی دہشت گردوں کے ہاتھو ں شہادت کے بعد ہسپتال پہنچنے والے وکلاء پر جس طرح بم دھماکہ کیا گیا اور فائرنگ کی گئی اُس سے وہاں موجود وکلاء کی شہادتیں ہوئی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار میں عین اُسی وقت اِس واقعے کی مذمتی قرارداد منظور کی گئی اور سپریم کورٹ بار نے ایک ہفتے کے لیے سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ جس وحشیانہ انداز میں وکلاء کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے ۔ اِس سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ وکلاء کو کتنی بے دردی سے شہید کیا گیا ہے۔ آرمی سکو ل پشاور میں معصوم فرشتوں کی شہادت کے بعد کوئٹہ میں وکلاء کی شہادت نے دل کو اتنا زخمی کردیا ہے کہ خون کے آنسو رو رہا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرئے میں جہاں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں عدالتیں کرپشن کا گڑھ ہیں وہاں اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر سائلین کے لیے آواز اُٹھانے والے نہتے وکلاء کو جس بُری طرح صبح کے وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ۔اُس سے انسانیت کی عزت و تکریم کی دھیجیاں اُڑا دی گئی ہیں۔ پاکستان میں جس طرح دہشت گردی مسلط کی گئی ہے اُس کی مثال موجودہ نام نہاد مہذب دُنیا میں نہیں ملتی۔راقم لاہور ہائی کورٹ بار روم میں بیٹھا جب سانحہ کوئٹہ کی فوٹیج ٹی وی پر دیکھ رہا تھا اور جس طرح سے وہاں وکلاء کے بوٹ اِدھر اُدھر بکھرئے پڑئے تھے۔ وکلاء کے کوٹ بجلی کی تاروں سے چمٹے ہوئے لٹک رہے تھے۔ اِن روح فرسا مناظر نے بار روم میں تشریف فرماء وکلاء کوخون کے آنسو رُلادیا۔ ہمارئے ساتھی عظیم شیخ ایڈووکیٹ بھی بہت مضطرب نظر آئے۔ صدر بار اور سیکرٹری بار انس غازی دکھی دل کے ساتھ اِس المناک سانحے کے حوالے سے تفصیلات بتارہے تھے۔ شہزاد عمران رانا ایڈووکیٹ، فرہاد شاہ ، عرفان تارڑ ایڈووکیٹس انتہائی غمزہ تھے اور اِس دکھ میں دیگر وکلاء کے ساتھ شریک تھے۔ پاکستان میں جس طرح وکلا کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی اِس سے بارہ مئی کے سانحہ کراچی کے دل خراش واقعے کی یاد دل میں عود آئی جب مشرف ایم کیو ایم گٹھ جوڑ کی وجہ سے نہتے وکلاء کو کراچی میں زندہ جلادیا گیا۔ ہائے ماؤں کے لال کس ظلم کی بھینت چڑھا دیے گئے۔ اللہ پاک اِن دہشت گردوں کو نیست و نابود فرمائے۔ پاکستانی میڈیا نے اِس سانحے کے حوالے سے زمہ دارانہ رویہ اختیار کیے رکھا۔وزیر اعظم نواز شریف، صدر مملکت چاروں وزراء اعلیٰ، گورنرز، چیف آف آرمی سٹاف سیاستدانوں سماجی شخصیات نے اس سانحے پر گہرئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جب سے مودی سرکار آئی ہے پاکستان میں دہشت گردی کو بہت زیادہ ہوا ملی ہے۔ مودی اوباما، اشرف غنی ۔ اِن کرداروں نے پاکستان میں دہشت گردی کو مسلسل ہوا دے رکھی ہے ۔رانا سجاد شیخ،احسان رندھاوا ایڈووکیٹس شہید وکلا کے غم میں مضطرب نظر آئے۔ راقم کو ہائی کورٹ لاہور کے در دیوار انتہائی دکھی محسوس ہورہے تھے ۔اے کاش یہ واقعہ نہ ہوا ہوتا۔ ماؤں سے اُن کے بیٹے ، بہنوں سے اُن کے بھائی، بچوں سے اُن کے باپ اور سہاگنوں کے سر سے اُن کے سرتاج چھن گئے۔پاکستانی سوسائٹی میں جس طرح دہشت پھیلائی گئی ہے اِس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان کے دُشمن پاکستان کی سالمیت کے خلاف جس طرح دن رات کیے ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے جوان و افسران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے اور مادر وطن پہ قربان ہورہے ہیں۔ پاکستان کی آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں دی گئیں اب استحکام پاکستان کے لیے سول سوسائٹی فوج وکلاء ڈاکٹرز طالب علم سب قربان ہو رہے ہیں۔ وکلاء جن کے ہاتھوں میں قلم کتاب ہے زندگی کو اتنا غنیمت نہیں مانتے کے عہد کم ظرف کے آگے جھک جائیں۔ انشا اللہ ایک دن آئے گا حالات بدل جائیں گے اور دہشت گردی کے یہ بت پگھل جائیں گے۔ 

Thursday, 4 August 2016

........... بچوں کا اغوا ایک قومی المیہ ۔ خادم اعلیٰ حوصلہ کر ہی لیں ۔خادم اعلیٰ کے نام کھلا خط..............ابو عمران صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ




بچوں کا اغوا ایک قومی المیہ ۔ خادم اعلیٰ حوصلہ کر ہی لیں ۔
خادم اعلیٰ کے نام کھلا خط

ابو عمران صاحبزادہ اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

لاہور سمیت پنجاب بھر میں بچوں کے اغوا کے جو ہوش اُڑا دینے والے واقعات پیش آرہے ہیں اُس کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ سانحہ پاک آرمی سکول پشاور کے سانحے سے بھی بڑا سانحہ ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت پہلے سے ہی پوری قوم نے ادا کی ہے ۔ اِس وطن کے بچے ، بوڑھے مرد خواتین سب اِس مادر وطن پر قربان کر دئیے گئے۔ لیکن پاک فوج کی جانب سے بھر پور جنگ عضب جو لڑی گئی اُس کے نمایاں اثرات قوم نے دیکھے۔نواز شریف کی حکومت میں لمبے عرصے کے معاشی منصوبہ جات کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت کے اشاریے بہتر ہیں۔ اورنج ٹرین،لاہور کراچی موٹر وئے، آئی ایم ایف کے چنگل سے رہائی، پاک چینہ اکنامک کاریڈور، پاک ترکی اکنامک کاریڈور۔بجلی کی پیداوار کے منصوبے سب کچھ عوام کو نظر آرہا ہے۔ لیکن عام آدمی کی حالت بہت خراب ہے ۔ مہنگائی پر کنٹرول نہ ہونا اور امن و عامہ کی صورتحال کی مخدوش صورتحال نے عا م آدمی کے ہوش اُڑا کے رکھ دیے ہیں۔گو نواز حکومت نے سیاسی طور پر کشمیر میں حالیہ کلین سویپ کی ذریعہ سے ایک مثبت پیغام دیا ہے۔عمران خان کی سیاست کو اُس کے جاگیر دار حواریوں اور روایتی مسترد شدہ سیاستدان ساتھیوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے عمران کی حالت اب یہ ہے کہ نہ تو ایماپئرنے اُنگلی اُٹھائی ہے اور نہ عمران کا جنون کارگر ثابت ہوا ہے۔بلکہ عمران خان کی بلدیاتی انتخابات میں سیاسی پوزیشن کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے شدید تر ہوتے ہی پاکستان میں خصوصی طور پر لاہور میں جس طرح معصوم بچوں کو اغوا کیا جارہا ہے یہ بہت بڑا قومی المیہ ہے۔ گلی کوچے میں کھیلنے والے معصوم بچے اب کھیلنے کی بجائے گھروں میں دُبکے پڑئے ہوئے ہیں۔جن ماؤں کے لال اغوا ہوئے ہیں اُن کا حال صر ف اللہ پاک کی ہستی ہی جانتی ہے۔ پنجاب پولیس سٹیٹ بنا ہو ا ہے ایسا اب سے نہیں بلکہ تین دہائیوں سے ایسا ہے۔افسوس شہباز شریف جیسے باہمت اور محنتی انسان کے ہوتے ہوئے بھی پولیس کلچر تبدیل نہیں ہوسکا۔شہباز شریف کی ایمانداری پر کوئی شک نہیں لیکن جس ایمانداری کا فائدہ عوام الناس کو نہ پہنچے اُس لیڈر کی ایمانداری عوام کے لیے زحمت بن جاتی ہے۔ تھانے بکتے ہیں ایس ایچ او کی تعنیاتیاں سیاسی طور پر ہوتی ہیں۔ اِن حالات میں خاک پولیس نے کارکردگی دیکھانی ہے ۔ سی ایس پی آفیسرز جو معاشرئے کی پڑھی لکھی ہستیاں ہوتے ہیں وہ بھی اِس پولیس کلچر میں آکر اُسی طرح کی ہو جاتی ہیں جیسا پہلے سے چلتا آرہا ہے۔خادم اعلیٰ صاحب اب یہ بُت توڑ ہی ڈالیں کیونکہ آپ ایسا کر سکتے ہیں ۔ پولیس کو سیاست سے آزاد کریں۔ پولیس میں سفارش اور رشوت کا کلچر ختم کروائیں۔ پولیس میں بھرتیاں اور ٹرانسفر میرٹ پر کروائیں دیکھیں تو سہی یہ ہی پولیس کتنا اچھا رزلٹ دئے گی۔ صرف ڈولفن فورس کے یونیفارم پہن کر نتائج حاصل نہیں ہوسکتے اِس کے لیے وردیوں کو جن لوگوں نے پہن رکھا ہے اُن کی تربیت بھی کرنی چاہیے اور اُن کو ایسا ماحول دیا جانا چاہیے جس کی وجہ سے وہ اِس قابل ہوسکیں کہ وہ بہتر کارکردگی دیکھا سکیں۔ انگریز دور میں پولیس نظام چوکیداری نظام اور مالیہ اکھٹا کرنے کا نظام جو تھا وہ بہت بہر تھا۔غلامی کے دور میں قانون کی حکمرانی قائم تھی۔ لیکن آزادی کے دور میں قانون کی حکمرانی کا یہ عالم کے سپریم کورٹ لاہو رجسٹری میں بچوں کے اغوا کے ازخود نوٹس کے دوران راولا کوٹ کے ایک سنئیر سول جج پھوٹ پھوٹ کر رو پڑئے کہ اُن کے بیٹے کو اغوا ہوئے دو سال گذر چکے ہیں تاحال برآمد نہیں کیا جاسکا۔ایک ملزم پولیس نے پکڑ بھی رکھا ہے۔ حالیہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کا واقعہ سب کے سامنے ہے۔پولیس کو واقعی ایک جانباز فورس بنا کر ہی اِس سے رزلٹ لیا جاسکتا ہے۔دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بچوں کے لاشے دیکھ کر ماں باپ کو صبر تو آگیا کہ وہ اب نہیں رہے۔ لیکن جن ماؤں کے لاڈلے اغوا کیے جارہے ہیں اُن کو صبر کیسے آئے گا۔خادم اعلیٰ صاحب پولیس کا محکمہ صوبائی سبجیکٹ ہے اِس لیے آپ فوری طور پر پولیس کو سیاسی رنگ بازوں کے چنگل سے آزاد کروائیں ۔ 


Monday, 1 August 2016

طارق اسماعیل ساگر کی شخصیت کا اہم ترین پہلو۔ پاکستان سے محبت...Written by صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

طارق اسماعیل ساگر کی شخصیت کا اہم ترین پہلو۔ پاکستان سے محبت

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ










طاررق اسماعیل ساگر ایک محب وطن قلمکار اور مجاہد کا نام ہے۔پاکستان کی جانب سے وطن عزیز کی حفاظت کے لیے قلمی جہاد کرنے والے ساگر صاحب نے خود انڈین قید کاٹی اور ایک جاسوس کی حثیت سے پاکستان کے لیے خود کو پیش کیے رکھا۔ ساگر صاحب وہ واحد قلمکار ہیں جن کو نسیم حجازی ثانی کہا جاسکتا ہے۔پاکستان سے محبت اول و آخر ساگر صاحب کی زندگی کا مرکز ومحور ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے ارض وطن پاکستان کے دفاع کے لیے قلمی محاذ پر ہمہ وقت تیار ساگر صاحب کا دل پاکستان کے موجودہ سیاسی و سماجی ماحول کڑھتا ہے۔ساگر صاحب کی تحریریں پڑھ کر پاکستان آرمی میں بھرتی ہونے والوں کی بڑی تعداد ہے۔ حضرت اقبالؒ سے محبت کرنے والے، صوم و صلوۃ کے پابند، ساگر صاحب پوری دنیا میں مانے جانے ناول نگار صحافی ہیں۔ آپ نے بے شمار ڈارمے لکھے، فلم بھی لکھی۔گذشتہ دنوں اُن کی خدمت میں پیش ہو کر اکتساب فیض کا موقع ملا۔ راقم کا تعلق ساگر صاحب سے 1983 سے ہے۔یوں اُن کے ساتھ تعلق کی بنیاد پاکستان سے محبت ، نبیﷺ سے محبت ہے۔بے شمار کتابوں کا خالق ہونے کے ناطے اور دبنگ صحافی ہونے کی وجہ سے اُن کے سامنے کو ئی نہیں ٹھر سکتا۔اُن کالم قومی اخبارات کی زینت بنتے ہیں ۔ تیس سال تک نوائے وقت میں کام کیا، جنگ میں بھی کچھ عرصہ رہے۔نیا جہان انٹرنیشنل میگزین کے نام سے حالات حاضرہ پر ایک ماہنامہ لاہور سے شائع کرتے ہیں۔اُن سے ملاقات میں اِس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ پاکستان سے محبت کرنے والے اِس مخلص قلمکار کا دل پاکستانی سیاست کے کھلاڑیوں کی مکاربازیوں کی وجہ سے دکھی ہے۔میری گزارش پر فرمانے لگے میاں صاحب: اِس ملک کے حکمران پاکستان کی عوام کو اچھوت خیال کرتے ہیں۔ یہاں پر قبضہ گروپ چھائے ہوئے ہیں۔حکمران پاکستان کو اِس طرح کھارہے ہیں جس طرح یہ مال غنیمت کا لوٹا ہو ا مال ہے۔ساگر صاحب نے کمال محبت سے قبلہ پیرو مُرشد حضرت حکیم میاں محمد عنائت خان قادری نوشاہیؒ کا تذکرہ فرمایا۔ساگر صاحب قبلہ حکیم عنایتصاحبؒ سے کئی مرتبہ ملاقات فرما چکے تھے۔ کستان کی سرزمین کو جہاں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے ۔یہ درست ہے کی بھانت بھانت کی بولیا ں بولنے والے اِس وطن کی جڑوں کو کھو کھلا کر رہے ہیں یہ بھی درست ہے کہ ہمارا ازلی دُشمن بھارت اتنا مکار ہے کہ اِس کیحوالے سے ایک لمحے کے لیے بھی بھروسہ کرنا بے وقوفی کی انتہا ہے۔اِس شاطر دُشمن کے ہوتے ہوئے پاکستان کو دولخت ہونا پڑا اور اِس سارئے معاملے میں بھارت کا سو فیصد کردار تھا۔ اِس بات کا اظہار بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم کے پہلو میں بیٹھ کر کیا ہے کہ وہ بھی پاکستان کو دولخت کرنے والے میں پیش پیش تھا۔ دیکھیں ایک وزیر اعظم کا بیان دوسرئے ملک کی سلامتی کے حوالے سے۔ کہاں ہیں آداب سفارت کاری، کہاں ہیں روشن خیال لبرل فاشسٹ جو دن رات امن کی آشا کو لیے گھوم پھر رہے ہیں۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو بھارت کے ساتھ تجارت کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ستر سال گزرنے کے بعد بھی بھارت اپنے سے کئی گُنا چھوٹے ملک کو ہڑپ کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ چند فی صد برہمن کو چھوڑ کر بھاتی تو کسی بھی دوسرئے کو انسان ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ۔ حالیہ دنوں میں بھارت کے سابق آرمی چیف وی پی سنگھ کا ایک دلت لڑکے کی موت پر یہ بیان کہ وہ تو کتا تھا مر گیا تو کیا ہوا۔ کیا مطلب ہے؟۔ بھارت کے لیے سافٹ کارنر رکھنے والوں کی آنکھیں کھل نہیں سکیں ابھی تک کیا۔ اِس سارئے کھیل میں ایک شخص تنہا کھڑا ہے جو مادرِ وطن کے لیے اپنا تن من قربان کیے ہوئے ہے۔ میری مراد صحافی میدان میں قلم کے ساتھ جہاد میں مصروف طارق اسماعیل ساگر سے ہے۔ ساگر صاحب سے میرا تعلق اُس وقت سے ہے جب میں ابھی سکول میں زیر تعلیم تھا۔کہ میں نے اِنکا ناول میں ایک جاسوس تھاپڑھا۔ اُس کے بعد اِن کو خط لکھا انھوں نے کمال محبت سے اُس کا جواب دیا۔ پھر میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد میں انھیں نوائے وقت کے دفتر میں ملنے گیا۔ یوں عقیدت و احترام کا رشتہ گذشتہ 31 سالوں سے قائم دائم ہے۔ یوں اُن کی تحریریں پڑھ کر راقم کے دل میں پاک فوج اور وطن سے محبت کا جذبہ اپنے کمال عروج کو ہپنچا کہ پاکستان سے محبت میرا ایمان ہے۔ ساگر صاحب نے اپنے زندگی کا سار عرصہ قلمی جہاد کرتے ہوئے گزارا۔ کچھ عرصہ پہلے اُنھوں نے اپنی ایک سرگزشت وہ مجھے کھا گئے کے نام سے لکھی جس کے کچھ اقتباس راقم نے بھی ساگر ڈائجسٹ میں پڑھے۔ یقینی طو ر پر ایک صاف سچے کھرئے انسان کو معاشرئے میں اپنا کام کرنے کے لیے بہت سے مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ جناب ساگر صاحب کے ساتھ بھی ہواکہ وہ لوگ جو صحافت کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ساگر صاحب کی سرگزشت پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کا اصل چہرہ کیا ہے۔ لیکن ساگر صاحب امیدکے راہی ہیں اُن کے ہاں مایوسی نہیں ہے۔ ساگر صاحب کی کتابیں نوجوان نسل میں اتنی مقبول ہیں کہ اپنی مثال آپ ہیں۔پاک فوج کے ساتھ ساگر صاحب کی محبت پاکستان سے محبت ہے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ پاک فوج کی قربانیوں کا ذکر ساگر صاحب کے ناولوں اور کالموں میں بجا طور پر ملتا ہے۔ساگر صاحب کو مجھے بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے انتہائی نیک انسان ہیں اللہ پاک سے ڈرنے والے ہیں اور روایتی صحافت سے بہت دور ہیں۔ صوم و صلوۃ کے پابند ہیں اور اُن کا معاشی سٹیٹس دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ اتنا بڑا رائٹر خود کو رزقِ حلال کے ساتھ جورئے ہوئے ہے۔ مجھے اِن کے ساتھ سفر پر جانے کا تفاق ہوا وہ یوں کہ میرئے ماموں جان قبلہ حکیم عنائت خان قادری نوشاہی ؒ سے ملنے کا اشتیاق انھیں سرگودہا لے گیا۔ یوں وہ سفر میرئے لیے یادگار بن گیا کہ ساگر صاحب سے مجھے اکتساب فیض کا موقع ملا۔ اور انھوں نے مجھے اپنی ذاتی زندگی کی کہانی سنائی۔ پاکستان کے جاسوس۔ بھارت کی جیل سے فرار۔ مادر وطن کے لیے اپنے زندگی کو ہر طرح کی مشکلات میں ڈالے رکھا۔ ساگر صاحب یوسف زئی پٹھان ہیں یوں ساگر صاحب نے پاک وطن کی حرمت کے لیے واقعی ہمیشہ ایک بہادر سپاہی کا کردار ادا کیا ہے۔ تقریباً دو سال تک میری روزانہ اِن سے ملاقات رہی کہ ساگر صاحب کی بڑی بیٹی میری شاگرد رہیں۔اُنھیں پک کرنے اور ڈراپ کرنے کے لیے تشریف لاتے رہے اور میری اُن سے ملاقات رہی۔ میری یہ خوش قسمتی رہی کہ مجھے اُن سے اتنا قریب ہونے کا شرف حاصل رہا۔ قبلہ ماموں جان حکیم صاحبؒ کے ہمراہ بھی ساگر صاحب کے دولت کدئے پرجانے کا اتفاق ہوا۔میرئے چھوٹے بھائی میاں اکرم کی شادی میں ساگر صاحب اپنی تمام فیملی کے ساتھ تشریف لائے۔حضرت میاں وڈا صاحبؒ کے دربار شریف پر بھی اُنھوں نے حاضری دی۔میری یادیں ساگر صاحب کے حوالے سے اتنی زیادہ ہیں کہ اُنھیں ایک کالم میں سمونا ممکن نہیں ہے۔ ساگر صاحب نے بے شمار کتابیں لکھیں ہیں اُن کے حوالے سے کوئی بات کرنا مجھ ناچیز کے لیے ممکن نہیں ہے۔ میں ایک جاسوس تھا۔ کمانڈو، وادی لہو رنگ، را، بے شمار ناول، کتابیں ہیں جو کہ ہمارئے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ جناب ساگر صاحب جیسی شخصیت کے مقام کو سراہے اور اُن کی لازوال خدمات پر اُنھیں صدارتی تمغہ دئے۔ کیونکہ ساگر صاحب کھرئے انسان ہیںِ اس لیے اُن سے چاپلوسی نہیں ہوتی اور حکمرانوں کے کان تو ایسی باتیں پسند کرتے ہیں جو اُن کے کانوں کو بھلی لگیں۔ ساگر صاحب کی کتابوں سے اقتباسات کو ہمارئے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ساگر صاحب کی خدمات کو بطور سٹریٹجک اِنالسٹ لینا چاہیے۔ میرئے دُعا ہے کہ پاکستانی قوم کے اِس عظیم سپوت کو اللہ پاک عمر خضر عطا فرمائے۔ آمین۔ 

طارق اسماعیل ساگر کی شخصیت کا اہم ترین پہلو۔ پاکستان سے محبت...Written by صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

طارق اسماعیل ساگر کی شخصیت کا اہم ترین پہلو۔ پاکستان سے محبت

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ









طاررق اسماعیل ساگر ایک محب وطن قلمکار اور مجاہد کا نام ہے۔پاکستان کی جانب سے وطن عزیز کی حفاظت کے لیے قلمی جہاد کرنے والے ساگر صاحب نے خود انڈین قید کاٹی اور ایک جاسوس کی حثیت سے پاکستان کے لیے خود کو پیش کیے رکھا۔ ساگر صاحب وہ واحد قلمکار ہیں جن کو نسیم حجازی ثانی کہا جاسکتا ہے۔پاکستان سے محبت اول و آخر ساگر صاحب کی زندگی کا مرکز ومحور ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے ارض وطن پاکستان کے دفاع کے لیے قلمی محاذ پر ہمہ وقت تیار ساگر صاحب کا دل پاکستان کے موجودہ سیاسی و سماجی ماحول کڑھتا ہے۔ساگر صاحب کی تحریریں پڑھ کر پاکستان آرمی میں بھرتی ہونے والوں کی بڑی تعداد ہے۔ حضرت اقبالؒ سے محبت کرنے والے، صوم و صلوۃ کے پابند، ساگر صاحب پوری دنیا میں مانے جانے ناول نگار صحافی ہیں۔ آپ نے بے شمار ڈارمے لکھے، فلم بھی لکھی۔گذشتہ دنوں اُن کی خدمت میں پیش ہو کر اکتساب فیض کا موقع ملا۔ راقم کا تعلق ساگر صاحب سے 1983 سے ہے۔یوں اُن کے ساتھ تعلق کی بنیاد پاکستان سے محبت ، نبیﷺ سے محبت ہے۔بے شمار کتابوں کا خالق ہونے کے ناطے اور دبنگ صحافی ہونے کی وجہ سے اُن کے سامنے کو ئی نہیں ٹھر سکتا۔اُن کالم قومی اخبارات کی زینت بنتے ہیں ۔ تیس سال تک نوائے وقت میں کام کیا، جنگ میں بھی کچھ عرصہ رہے۔نیا جہان انٹرنیشنل میگزین کے نام سے حالات حاضرہ پر ایک ماہنامہ لاہور سے شائع کرتے ہیں۔اُن سے ملاقات میں اِس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ پاکستان سے محبت کرنے والے اِس مخلص قلمکار کا دل پاکستانی سیاست کے کھلاڑیوں کی مکاربازیوں کی وجہ سے دکھی ہے۔میری گزارش پر فرمانے لگے میاں صاحب: اِس ملک کے حکمران پاکستان کی عوام کو اچھوت خیال کرتے ہیں۔ یہاں پر قبضہ گروپ چھائے ہوئے ہیں۔حکمران پاکستان کو اِس طرح کھارہے ہیں جس طرح یہ مال غنیمت کا لوٹا ہو ا مال ہے۔ساگر صاحب نے کمال محبت سے قبلہ پیرو مُرشد حضرت حکیم میاں محمد عنائت خان قادری نوشاہیؒ کا تذکرہ فرمایا۔ساگر صاحب قبلہ حکیم عنایتصاحبؒ سے کئی مرتبہ ملاقات فرما چکے تھے۔ کستان کی سرزمین کو جہاں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے ۔یہ درست ہے کی بھانت بھانت کی بولیا ں بولنے والے اِس وطن کی جڑوں کو کھو کھلا کر رہے ہیں یہ بھی درست ہے کہ ہمارا ازلی دُشمن بھارت اتنا مکار ہے کہ اِس کیحوالے سے ایک لمحے کے لیے بھی بھروسہ کرنا بے وقوفی کی انتہا ہے۔اِس شاطر دُشمن کے ہوتے ہوئے پاکستان کو دولخت ہونا پڑا اور اِس سارئے معاملے میں بھارت کا سو فیصد کردار تھا۔ اِس بات کا اظہار بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم کے پہلو میں بیٹھ کر کیا ہے کہ وہ بھی پاکستان کو دولخت کرنے والے میں پیش پیش تھا۔ دیکھیں ایک وزیر اعظم کا بیان دوسرئے ملک کی سلامتی کے حوالے سے۔ کہاں ہیں آداب سفارت کاری، کہاں ہیں روشن خیال لبرل فاشسٹ جو دن رات امن کی آشا کو لیے گھوم پھر رہے ہیں۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو بھارت کے ساتھ تجارت کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ستر سال گزرنے کے بعد بھی بھارت اپنے سے کئی گُنا چھوٹے ملک کو ہڑپ کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ چند فی صد برہمن کو چھوڑ کر بھاتی تو کسی بھی دوسرئے کو انسان ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ۔ حالیہ دنوں میں بھارت کے سابق آرمی چیف وی پی سنگھ کا ایک دلت لڑکے کی موت پر یہ بیان کہ وہ تو کتا تھا مر گیا تو کیا ہوا۔ کیا مطلب ہے؟۔ بھارت کے لیے سافٹ کارنر رکھنے والوں کی آنکھیں کھل نہیں سکیں ابھی تک کیا۔ اِس سارئے کھیل میں ایک شخص تنہا کھڑا ہے جو مادرِ وطن کے لیے اپنا تن من قربان کیے ہوئے ہے۔ میری مراد صحافی میدان میں قلم کے ساتھ جہاد میں مصروف طارق اسماعیل ساگر سے ہے۔ ساگر صاحب سے میرا تعلق اُس وقت سے ہے جب میں ابھی سکول میں زیر تعلیم تھا۔کہ میں نے اِنکا ناول میں ایک جاسوس تھاپڑھا۔ اُس کے بعد اِن کو خط لکھا انھوں نے کمال محبت سے اُس کا جواب دیا۔ پھر میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد میں انھیں نوائے وقت کے دفتر میں ملنے گیا۔ یوں عقیدت و احترام کا رشتہ گذشتہ 31 سالوں سے قائم دائم ہے۔ یوں اُن کی تحریریں پڑھ کر راقم کے دل میں پاک فوج اور وطن سے محبت کا جذبہ اپنے کمال عروج کو ہپنچا کہ پاکستان سے محبت میرا ایمان ہے۔ ساگر صاحب نے اپنے زندگی کا سار عرصہ قلمی جہاد کرتے ہوئے گزارا۔ کچھ عرصہ پہلے اُنھوں نے اپنی ایک سرگزشت وہ مجھے کھا گئے کے نام سے لکھی جس کے کچھ اقتباس راقم نے بھی ساگر ڈائجسٹ میں پڑھے۔ یقینی طو ر پر ایک صاف سچے کھرئے انسان کو معاشرئے میں اپنا کام کرنے کے لیے بہت سے مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ جناب ساگر صاحب کے ساتھ بھی ہواکہ وہ لوگ جو صحافت کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ساگر صاحب کی سرگزشت پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کا اصل چہرہ کیا ہے۔ لیکن ساگر صاحب امیدکے راہی ہیں اُن کے ہاں مایوسی نہیں ہے۔ ساگر صاحب کی کتابیں نوجوان نسل میں اتنی مقبول ہیں کہ اپنی مثال آپ ہیں۔پاک فوج کے ساتھ ساگر صاحب کی محبت پاکستان سے محبت ہے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ پاک فوج کی قربانیوں کا ذکر ساگر صاحب کے ناولوں اور کالموں میں بجا طور پر ملتا ہے۔ساگر صاحب کو مجھے بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے انتہائی نیک انسان ہیں اللہ پاک سے ڈرنے والے ہیں اور روایتی صحافت سے بہت دور ہیں۔ صوم و صلوۃ کے پابند ہیں اور اُن کا معاشی سٹیٹس دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ اتنا بڑا رائٹر خود کو رزقِ حلال کے ساتھ جورئے ہوئے ہے۔ مجھے اِن کے ساتھ سفر پر جانے کا تفاق ہوا وہ یوں کہ میرئے ماموں جان قبلہ حکیم عنائت خان قادری نوشاہی ؒ سے ملنے کا اشتیاق انھیں سرگودہا لے گیا۔ یوں وہ سفر میرئے لیے یادگار بن گیا کہ ساگر صاحب سے مجھے اکتساب فیض کا موقع ملا۔ اور انھوں نے مجھے اپنی ذاتی زندگی کی کہانی سنائی۔ پاکستان کے جاسوس۔ بھارت کی جیل سے فرار۔ مادر وطن کے لیے اپنے زندگی کو ہر طرح کی مشکلات میں ڈالے رکھا۔ ساگر صاحب یوسف زئی پٹھان ہیں یوں ساگر صاحب نے پاک وطن کی حرمت کے لیے واقعی ہمیشہ ایک بہادر سپاہی کا کردار ادا کیا ہے۔ تقریباً دو سال تک میری روزانہ اِن سے ملاقات رہی کہ ساگر صاحب کی بڑی بیٹی میری شاگرد رہیں۔اُنھیں پک کرنے اور ڈراپ کرنے کے لیے تشریف لاتے رہے اور میری اُن سے ملاقات رہی۔ میری یہ خوش قسمتی رہی کہ مجھے اُن سے اتنا قریب ہونے کا شرف حاصل رہا۔ قبلہ ماموں جان حکیم صاحبؒ کے ہمراہ بھی ساگر صاحب کے دولت کدئے پرجانے کا اتفاق ہوا۔میرئے چھوٹے بھائی میاں اکرم کی شادی میں ساگر صاحب اپنی تمام فیملی کے ساتھ تشریف لائے۔حضرت میاں وڈا صاحبؒ کے دربار شریف پر بھی اُنھوں نے حاضری دی۔میری یادیں ساگر صاحب کے حوالے سے اتنی زیادہ ہیں کہ اُنھیں ایک کالم میں سمونا ممکن نہیں ہے۔ ساگر صاحب نے بے شمار کتابیں لکھیں ہیں اُن کے حوالے سے کوئی بات کرنا مجھ ناچیز کے لیے ممکن نہیں ہے۔ میں ایک جاسوس تھا۔ کمانڈو، وادی لہو رنگ، را، بے شمار ناول، کتابیں ہیں جو کہ ہمارئے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ جناب ساگر صاحب جیسی شخصیت کے مقام کو سراہے اور اُن کی لازوال خدمات پر اُنھیں صدارتی تمغہ دئے۔ کیونکہ ساگر صاحب کھرئے انسان ہیںِ اس لیے اُن سے چاپلوسی نہیں ہوتی اور حکمرانوں کے کان تو ایسی باتیں پسند کرتے ہیں جو اُن کے کانوں کو بھلی لگیں۔ ساگر صاحب کی کتابوں سے اقتباسات کو ہمارئے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ساگر صاحب کی خدمات کو بطور سٹریٹجک اِنالسٹ لینا چاہیے۔ میرئے دُعا ہے کہ پاکستانی قوم کے اِس عظیم سپوت کو اللہ پاک عمر خضر عطا فرمائے۔ آمین۔ 

Thursday, 30 June 2016

لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کا عزم ..........................bY صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ



لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کا عزم

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ 

چشمِ فلک نے عجب نظارہ دیکھا کہ سٹیٹس کو کے مارئے ہوئے نظام میں بھی جان پیدا ہو سکتی ہے۔پنجاب کے عدلیہ کے نئے سربراہ انتہائی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل جج ہیں اور ماضی قریب میں بھی لاہور ہائی کورٹ کے سنےئر جج ہونے کی حثیت سے اُنہوں نے عالتی نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے لاہور ہائی کورٹ میں سیکورٹی کے انتظا مات کے حوالے سے انتہائی فعال کردار ادا کیا ہے۔جناب منصور شاہ صاحب کی شہرت ایک انتہائی اچھی شخصیت کی ہے۔ اِس وقت جب قوم دہشت گردی معاشی مسائل کا شکار ہے اور عدالتی نظام انتہائی بوسیدہ ہوچکا ہے۔ لوگ عدالتوں میں انصاف کے لیے جانے سے کتراتے ہیں۔ دیونی مقدمات تیس تیس سال تک چلتے ہیں۔ جرائم کی شرح میں بے انتہاء اضافہ ہونے کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ انصاف کے ایوانوں میں انصاف نہیں ہے۔اچانک سٹیٹس کو میں جو سوراخ جناب جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے کردیا ہے۔ اِس سے دیکھائی دیتا ہے کہ کہ یہ کسی دیوانے کی بڑھک نہیں ہے بلکہ یہ انتہائی پسے ہوئے عوام کو انصاف دلانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ماضی قریب میں چھ ماہ کے لیے جناب جسٹس منظور ملک صاحب نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی ذمہ داریاں انجام دی تھیں۔ اور یقینی طور پر محسوس ہورا تھا کہ اگر کوشش کی جائے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ امام عالی مقام حضرت امام حسینؒ کے ساتھ نسبت تو ہر مسلمان کو ہے لیکن شاہ صاحب کیونکہ سید زادئے ہیں اِس لیے اِن کا حسب نسب بھی امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ سے جُرا ہوا ہے۔ یوں حلف لیے ہی جناب جسٹس منصور علی شاہ نے جس انداز میں رسم شبیری ادا کی ہے اور جو پیغام اُنہوں نے دیا ہے اُس پر یقینی طور پر عوام کی اُن پر امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ماتحت عدلیہ میں ٹاوٹوں کی بھرمار، ماتحت عدلیہ کے عملے کی کرپشن پر یقینی طور پر چیف جسٹس صاحب کی نظر ہو گی اور وہ اِس حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔عدلیہ کے ملازمین چپڑاسی سے لے کر ججز تک تمام عملے کی جائیدادوں کا ریکارڈ تیار کیا جائے۔ اور انتہائی پیشہ ورانہ اور ایماندار جوڈیشل افسران پر مشتمل ایک انتیلی جنس ونگ ہونا چاہیے جو خصوصی طور پر ماتحت عدلیہ کے ماتحت عملے کی جانب سائلین کو جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُسکا تدارک کرئے۔ چیف جسٹس صاحب نے جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے وہ ایسے قائد کا ہے جسے حالات کا ادراک ہے۔جسٹس سید منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ کے 45 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں لاہور ہائیکورٹ کے تمام سٹاف سے خطاب کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا تمام سٹاف میرے بچوں کی مانند ہیں۔ وہ باپ کی طرح تمام سٹاف کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں گے مگر جو بچہ غلط کام کریگا اسے کان سے پکڑ کر ادارے سے نکال باہر کریں گے۔ تمام سٹاف حقیقی ہائیکورٹ ہے، میں آپ کی محنت کو سراہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی ملازمین کی مشکلات سے آشنا ہیں اور تمام مشکلات کے ازالے کیلئے ہر ممکن اقدام کرینگے۔ عدالتی ملازمین کے پچاس فیصد ایڈہاک الاؤنس سے متعلق وزیر اعلیٰ پنجاب سے بات کی ہے۔ ہم حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کریں گے اور ہر عوامی مسئلے میں حکومت پنجاب کی معاونت کریں گے، چاہتے ہیں کہ پنجاب کا نظام انصاف باقی تمام صوبوں سے بہتر ہو۔ اداروں کو لڑنا نہیں ہے، ہم سب کو مل کر ملک کیلئے کام کرنا ہے اور عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ ہم اس ہائی کورٹ کو پورے پاکستان کیلئے مثال بنائیں گے۔ ہائی کورٹ میں بھرتیوں کے رکے ہوئے عمل کو شروع کر دیا گیا ہے جو اگلے پندرہ روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔ لاہور ہائی کورٹ میں بھرتیوں کا عمل سو فیصد شفاف انداز میں مکمل کیا جائے گا۔ کسی سفارش کو نہیں مانا جائے گا اس لئے کوئی ایسی جرات بھی نہ کرے۔ خواتین اور جسمانی معذور افراد کو بھی عدالت عالیہ میں کام کرنے کا برابر موقع دیا جائے گا۔ رمضان کے بعد عدالت عالیہ کے کیفے ٹیریا کو فعال کر دیا جائے گا۔ جہاں سب کو ایک جیسا کھانا ملے گا، ہم سب وہاں ایک وقت میں ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔ سٹاف و افسروں کی کارکردگی رپورٹس کا نظام وضع کیا جارہا ہے۔ روائتی نظام کی بجائے بہترین کارکردگی کی بنیاد پر پورا اترنے والے ملازمین کو نیچے سے اوپر لائیں گے۔ صرف ادارے کی ترقی کے بارے میں ہمیں سوچنا ہے، ادارہ ماں کا درجہ رکھتا ہے، اس کی عزت و وقار میں اضافہ کا باعث بنیں۔ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں، میں آسمان سے نہیں اترا، میرے چیمبر کے دروازے تمام ملازمین کیلئے کھلے ہیں، آپ اگر اپنے گلے شکوے مجھے نہیں بتائیں گے تو کس کو بتائیں گے۔ ملازمین صرف اللہ تعالیٰ سے ڈریں، افسروں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، اپنا کام پوری ایمانداری سے سرانجام دیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ ہائی کورٹ میں انٹرنل آڈٹ کا نظام نہیں ہے، جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے، دنیا میں کوئی ادارہ انٹرنل آڈٹ کے بغیر نہیں چل سکتا ہے۔ اس حوالے سے ہم نے پاکستان کی سب سے بڑی آڈٹ فرم سے درخواست کی ہے کہ اس صوبے کی عوام کیلئے ہماری مدد کریں اور ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ ایک سال بے لوث کام کرنے کی رضا مندی ظاہر کی ہے اور اس دورانیے میں عدالت عالیہ لاہور کا اپنا آڈٹ سیل قائم کر لیا جائے گا۔ ہم عدالت عالیہ کے تمام سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کر رہے ہیں، ہر چیز کو آن بورڈ کر یں گے۔ باپ بیٹے کا رشتہ اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے، جس نے بھی اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی وہ اس ادارے کا حصہ نہیں رہے گا۔ ہم ایک نیا ادارہ کھڑا کرنے جارہے ہیں، آپ سب کا تعاون شامل حال رہا تو پاکستان میں اپنا نام بنائیں گے، پورا پاکستان آ کر دیکھے گا کہ کیسے ہائی کورٹ بنتا ہے۔ ہائیکورٹ کے ہر کمرے میں کیمرے لگیں گے۔ نماز اور کھانے کا وقفہ بھی ہو گا۔ عوام کو انصاف کی فراہمی ہم سب کی ذمہ داری ہے اس لئے اب عدالت میں کسی کی کوئی بھی سفارش نہیں چلے گی بلکہ تمام فیصلے آئین و قانون اور انصاف کے مطابق ہوں گے اور انصاف کی راہ میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی اور انصاف کیلئے ہر کسی کیلئے لاہور ہائیکورٹ کے دروازے کھلے ہیں۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ عدلیہ کی بہتری کیلئے کام کرنے والے ملازمین کو بے انتہا پیار کروں گا اگر کسی ملازم نے مان اور اعتماد توڑ ا تو اس کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ باپ کی حیثیت سے تنبیہہ کر رہا ہوں کہ عدلیہ کے ادارے میں غلط کام کرنے والے سب ٹھیک ہو جائیں ورنہ سخت باز پرس ہوگی اور کڑا احتساب کیا جائے گا۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس عزت و توقیر سے نوازا ہے اور میری پوری کوشش ہو گی کہ مجھے صوبے میں انصاف کے جس سب سے بڑے منصب پر فائز کیا گیا ہے میں نہ صرف اس کے تقاضوں کو پورا کر سکوں بلکہ حق اور انصاف کی فراہمی کو بھی یقینی بنا سکوں۔چیف جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ میں پروفیشنل وکلا کی عزت کرتا ہوں ججز اکیلے کچھ نہیں کر سکتے کچھ کرنا ہے تو پہلے اکٹھا ہونا اور مل جل کر کام کرنا ہے، ہمارے پاس آواز پہنچانے کا کوئی سسٹم ہی نہیں ہمارے پاس ٹرانسفر پالیسی بھی نہیں سب سے پہلے ایڈوائزری پالیسی بنائی جائے گی، عدالتوں، چیمبرز اور واش رومز کی حالت بہتر کی جائے گی۔ 25سے 30ججز او ایس ڈی کئے، انکوائری ہو گی دس ججز۔ کسی جج کی کرپشن کی گواہی دے دیں وہ کافی ہے ایماندار افسر کے پیچھے میں پہاڑ کی طرح کھڑا ہوں۔ چیف جسٹس نے وکلا کی ججز کے چیمبرز میں داخلے پر پابندی لگاتے کہا کہ وکلا کو ججز کے چیمبرز میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی آپ کے حقوق کیلئے ڈسپلنری کمیٹی بنائی گئی ہے، بدعنوان ججز اور وکلا کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سسٹم کو شفاف بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ہمارا کردار بے داغ ہو۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ کی منظوری سے کرپشن اور دیگر الزامات پر اکیس سول جج اور چھ ایڈیشنل سیشن جج صاحبان کو او ایس ڈی بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ پرنسپل سیکرٹری ٹو چیف جسٹس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عرفان احمد سعید، ممبر انسپکشن ٹیم لاہور ہائی کورٹ سیشن جج صفدر سلیم شاہد اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسٹیبلشمنٹ بہادر علی خان بھی او ایس ڈی بنانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشنز کے مطابق او ایس ڈی بننے والوں میں سول جج درجہ اول نصرت علی صدیقی، ملک شیخ اللہ بخش، حافظ محمد اقبال کلیار، ہدایت اللہ شاہ، مزمل سپرا، محمد طارق، سید احمد اعوان، جواد عالم قریشی، ندیم خضر رانجھا، ندیم عباس ساقی، محمد یوسف ہنجرا، نثار احمد، محمد منصور عطا، ذوالفقار احمد، غلام مصطفی، فیض احمد رانجھا، محمد نوازش خان چودھری، محمد افضل بھٹی، شہزاد اسلم، نور محمد اور سول جج عبدالکریم شامل ہیں، او ایس ڈی بننے والے ایڈیشنل سیشن جج صاحبان میں چودھری جمیل احمد، سید محمد ظفر عباس سبزواری، محمد علی رانا، محمد بخش مسعود ہاشمی، محمد رفعت سلطان شیخ اور سید احسن محبوب بخاری شامل ہیں۔ مزید برآں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ کے پرائیویٹ سیکرٹری سید زاہد حسین شاہ کو گریڈ انیس میں ترقی دیدی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سید زاہد حسین شاہ کو گریڈ انیس میں ترقی دے کر پرائیویٹ سیکرٹری ٹو چیف جسٹس کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ اس عہدے پر تعینات پرائیویٹ سیکرٹری عامر خلیل چشتی کو پول میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب کی خواتین ججز کے تحفظ کیلئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کمیٹی کے قیام کی منظوری دیدی۔ سربراہی جسٹس کاظم رضا شمسی کرینگے۔ کمیٹی میں جسٹس عالیہ نیلم، عائشہ ملک، محمود مقبول باجوہ ہوں گے۔اللہ پاک جسٹس منصور علی شاہ صاحب کو ہمت عطا فرمائے عوام نے اُن سے بہت سی اُمیدیں باندھ لی ہیں۔ 

Saturday, 11 June 2016

پاکستان فلاح پارٹی نے اردو زبان کے نفاذ میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر وفاقی حکومت کو قانونی نوٹس بجھوادیا۔ قانونی نوٹس پاکستان فلاح پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے وزیر اعظم پاکستان کے نام بجھوایا ہے۔

پاکستان فلاح پارٹی نے اردو زبان کے نفاذ میں تاخیری 

حربے استعمال کرنے پر وفاقی حکومت کو قانونی نوٹس 

بجھوادیا۔ قانونی نوٹس پاکستان فلاح پارٹی کے مرکزی 

سیکرٹری اطلاعات صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی 

ایڈووکیٹ نے وزیر اعظم پاکستان کے نام بجھوایا ہے۔




Thursday, 9 June 2016

گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا رحجان............................ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


آہوں بھرئے سانحہ ماڈل ٹاون کے بیتے ہوئے دو سال ۔ حکمران اشرافیہ نے چینگیز خان کو مات دئے دی...... صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


آہوں بھرئے سانحہ ماڈل ٹاون کے بیتے ہوئے دو سال ۔ 

حکمران اشرافیہ نے چینگیز خان کو مات دئے دی

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ 

سانحہ ماڈل ٹاون لاہور کو دو سال بیت گئے۔ جس وقت کمیشن لاہور ہائی کورٹ جسٹس جناب علی باقر نجفی سانحہ ماڈل ٹاون لاہور کے حوالے سے جوڈیشل انکوئری ہوری تھی۔ تو راقم قانون کے ادنی طالب علم ہونے کی حثیت سے اور ہیومن راٹس کا علمبردار ہونے کے ناطے جو ڈیشل انکوئرای میں جاتا رہا ہے ۔ جسٹس علی باقر نجفی کی انکوئری رپورٹ کو شائع کرنے کی بجائے حکمرانوں نے علی باقر نجفی کی رپورٹ پر اتنا بُرا منایا کہ خدا کی پناہ نہ تو جناب علی باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کو حکومت نے جاری کیا اور نہ ہی اِس رپورٹ پر کوئی ایکشن لیا بلکہ حکمرانوں نے طاقت کے نشے میں للکارا کہ علی باقر نجفی صاحب نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اِن کے متعلق جو ڈیشل کونسل سے رجوع کیا جائے گا۔ ظلم کی رات جب عروج پر ہو۔ حکمران جب طاقت کے نشے میں ہوں تو اُنھیں صرف وہ آواز اچھی لگتی ہے جو اُن کے کانوں کو بھاتی ہو۔ سانحہ ماڈل ٹاون میں مرنے والوں کے نام یہ ہیں۔شازیہ مرتضیٰ زوجہ غلام مرتضیٰ۔ باغبانپورہ لاہور، پاکستان۔ عمر 28 سال۔تنزیلہ امجد زوجہ محمد امجد۔ باغبانپورہ لاہور، پاکستان۔ عمر 30 سال۔محمد عمر صدیق ولد میاں محمد صدیق۔ کوٹ لکھپت لاہور، پاکستان۔ عمر 19 سال۔صفدر حسین ولد علی محمد۔ شیخوپورہ، پاکستان۔ عمر 35 سال۔عاصم حسین ولد معراج دین۔ گاؤں مناواں لاہور، پاکستان۔ عمر 22 سال۔غلام رسول ولد محمد بخش۔ تاج پورہ سکیم لاہور، پاکستان۔ عمر 56 سال۔محمد اقبال ولد خیر دین۔ چونگی امرسدھو لاہور، پاکستان۔ عمر 42 سال۔محمد رضوان خان ولد محمد خان۔ چکوال، پاکستان۔ عمر 20 سال (طالب علم شریعہ کالج، منہاج یونیورسٹی)خاور نوید رانجھا ولد محمد صدیق۔ کوٹ مومن سرگودھا، پاکستان۔ عمر 20 سال (طالب علم شریعہ کالج، منہاج یونیورسٹی)محمد شہباز ولد اظہر حسین۔ مریدکے، پاکستان۔ عمر 17 سال۔ اپنے ملک میں اپنے ملک کی ہی پولیس جس کا ماٹو ہے مدد آپ کی اُس کے ہاتھوں اپنے ہی شہریوں کا قتل۔ دو خواتین بھی انتہائی بے دردی سے قتل کردی گئیں۔یقینی طور پاکستانی سر زمین پر لاہور میں پاکستان بننے کے بعد حکومت کی جانب سے اپنی ہی آبادی کو جتنی بے دردی سے شہید کیا گیا اُس کی مثال نہیں ملتی۔ اِن لوگوں کا قصور اگر صرف اتنا تھا کہ وہ حکومت مخالف جماعت کے حامی تھے تو پھر یقین جانیے پاکستان جن مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا اُس سوچ اور نظریے پر اِس سے بڑی کاری ضرب اور کوئی نہیں ہو سکتی۔آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے معاً بعد 16 جون کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے اسلام آباد اور لاہور کو آگ لگانے کی دھمکی دی ]5[ اسی رات دو بجے پنجاب حکومت نے خود لاہور میں اس تباہی کا آغاز کر دیا، جس نے جلیانوالہ باغ کی یاد تازہ کردی۔ طالبان نے نون لیگ کو دھمکی دی تھی کہ وہ ان کی مدد سے اقتدار میں آنے کے باوجود اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے فوج کو ان کے خلاف آپریشن سے کیوں نہیں روک پائی؟ پنجاب حکومت نے اسی رات تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں لاہور کے درجن بھر تھانوں سے پنجاب پولیس کے تین ہزار اہلکاروں کے ذریعہ آدھی رات کو تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے گھر پہ حملہ کرواتے ہوئے نہ صرف اپنا غصہ اتارا بلکہ طالبان کو بھی واضح پیغام دے دیا کہ وہ پاک آرمی کو ڈاکٹر طاہرالقادری کی تقریروں اور دلیلوں کی وجہ سے روک نہیں پائی۔ اور اب ان کے گھر کے باہر لاہور ہائی کورٹ کے حکم سے کئی سال قبل لگائی گئی حفاظتی باڑ کو بلڈوز کرکے طالبان کو کھلا موقع اور راستہ دے دیا کہ وہ جب چاہیں ان سے بدلہ لے سکیں۔منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے گرد سیکیورٹی بیریئرز چار سال قبل ہائی کورٹ کے حکم سے ماڈل ٹاون پولیس کی نگرانی میں لگائے گئے تھے۔منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے گرد سیکیورٹی بیریئرز چار سال قبل ہائی کورٹ کے حکم سے ماڈل ٹاون پولیس کی نگرانی میں لگائے گئے تھے۔17جون 2014ء کی صبح 2 بجے پنجاب پولیس نے لا ہورکے مضافاتی علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع ڈاکٹر طاہرالقادر ی کی رہائش گاہ اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کے مرکزی سیکرٹریٹ کے باہرموجودرکاوٹوں کوہٹانے کے لئے ایک آپریشن کاآغازکیا۔پولیس کی ایک بھاری نفری پاکستان عوامی تحریک کے صدر مقام پہنچی، جہاں انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان سے رکاوٹیں ہٹانے کو کہا، جو ان کے حساب سے غیرقانونی تھیں۔یہ چھاپہ پولیس کے ان صبح کے معمول کے چھاپوں کے برعکس تھا جن کا انعقاد پولیس اس طرح کے معاملات میں کرتی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کا موقف تھا کہ یہ رکاوٹیں قانونی ہیں اور یہ چار سال قبل اس وقت ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ اور دفاتر کے گرد لگائی گئیں تھی جب ڈاکٹر طاہرالقادری نے طالبان کے خلاف فتوٰی دیا تھا۔ اس کے باوجود پولیس نے بلڈوزرز کی مدد سے رکاوٹوں کو ہٹانے اور تباہ کرنے کا آپریشن جاری رکھا،جس نے عوامی تحریک کے کارکنان کو پولیس کی کاروئی کے خلاف مزاحمت اور احتجاج کرنے پر اکسایا۔پولیس افسران کو ماڈل ٹاؤن پولیس ہی کی جانب سے جاری کردہ وہ سرکلر دکھایا گیا، جس میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر عدالتی احکامات کے مطابق سیکورٹی انتظامات کرنے کا کہا گیا تھا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ بیریئرز فیصل ٹاؤن تھانے کے آفیسرز کی مشاورت اور رہنمائی میں ہی لگائے گئے ہیں، مگر انہوں نے اس سرکلر کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی قائدین نے متعدد بار پولیس افسران سے بات چیت کی، مگر پولیس آفیسرز نے عدالتی احکامات کو ماننے کی بجائے مزید جارحانہ رویہ اختیار کر لیا اور مرکزی سیکرٹریٹ کے سٹاف ممبران اور طلباء پر لاٹھی چارج کرنا شروع کر دیا۔ ان تمام معاملات کو دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا جیسا کہ پولیس ان رکاوٹوں کو ہٹانے نہیں بلکہ کسی اور منصوبے کے تحت یہ آپریشن کرنے آئی ہے۔ بارہ تھانوں کی پولیس کی مدد سے رات دو بجے سے جاری آپریشن کے دوران کل چار حملے کئے گئے۔ پہلے تین حملوں میں زہریلی آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا، جبکہ آخری حملے کے دوران سو سے زیادہ لوگوں پر سیدھے فائرنگ کی گئی۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حکم پر ماڈل ٹاؤن واقعہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے جسٹس باقر علی نجفی پر مشتمل یک رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا، جس کے احکامات لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امتیاز علی خواجہ نے جاری کئے، جنہوں نے اُسی دن ہی نئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا حلف اٹھایا تھا۔پاکستان عوامی تحریک نے حکومت کی طرف سے تشکیل دیئے گئے جوڈیشنل کمیشن کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اس قتل و دہشت گردی کے اصل ذمہ دار ہیں، چنانچہ ان کے مسندِ اقتدار پر رہتے ہوئے کسی قسم کی غیرجانبدارانہ تفتیش وشہادتوں کا کوئی امکان ہے نہ ہی عدل و انصاف کے تقاضوں کی بجا آوری ممکن ہے۔ لہٰذا وزیراعلیٰ پنجاب اور اس جرم میں شریک وزراء فی الفور مستعفی ہو کر خود کو قانون کے حوالے کریں۔ اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں ملوث جملہ پولیس افسران اور انتظامی عہدیداران بشمول IG، DIG آپریشنز، ہوم سیکرٹری پنجاب، DCO، CCPO، SSPs، SP ماڈل ٹاؤن اور متعلقہ DSPs اور SHOs کو فوری طور پر برطرف کرکے قتل عام، دہشت گردی اور اقدامِ قتل کے جرم میں گرفتار کیا جائے۔اس کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی آزادانہ، غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ایسے غیر متنازعہ، غیر جانبداراور اچھی شہرت کے حامل ججز جن پر متاثرین کو مکمل اعتماد ہو، پر مشتمل بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ کمیشن کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ وزیراعظم، نامزد وفاقی وزراء، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت کسی بھی حکومتی و انتظامی شخصیت یا اہلکار کو طلب کرسکے۔ مزید برآں جوڈیشنل کمیشن سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے تحقیقی اداروں کے اچھی شہرت کے حامل اعلیٰ افسران جن پر متاثرین کو مکمل اعتماد ہو، پرمشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔مورخہ 10 جولائی کو ڈاکٹر طاہرالقادری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر قائم ٹربیونل یکطرفہ، بے مقصد اور فراڈ پر مبنی ٹربیونل ہے۔ قاتل پولیس قاتل مدعی بن بیٹھی ہے۔ من گھڑت شہادتیں اور جھوٹے ثبوت پیش کئے جا رہے ہیں۔ ٹربیونل کے جج کو چاہیئے تھا کہ اس قتل عام کا حکم دینے والے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو استعفیٰ دینے اور مظلوموں کی مدعیت میں FIR درج کرنے کا حکم دیتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کے موبائل فون ریکارڈ کی طلبی پر ٹربیونل کے رجسٹرار جوادالحسن کو ہٹا دیا گیا ہے اور اس ٹربیونل کو سانحہ میں ملوث عناصر اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا اوراس قتل عام میں ملوث چین آف کمانڈ، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، آئی جی پولیس، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس پی ماڈل ٹاؤن اور SHOs میں سے کسی کو ان کے عہدوں سے تاحال ہٹایا نہیں گیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل ٹربیونل کو پولیس سے تفتیش کرانے کے اختیارات دینے کی درخواست پر پنجاب حکومت کی خاموشی نے جوڈیشل ٹربیونل کو مزید مشکلات کا شکار کر دیا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے سیکشن گیارہ کے اختیارات دینے سے انکار کے بعد ٹریبونل کا کردار صرف انکوائری تک محدود رہ گیا، کسی پر اس اندوہناک سانحہ کی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکے گی۔مورخہ 19 جون کو لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کیا تو جوڈیشل تحقیقات کے پہلے روز ہی حکام نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا بلکہ ادھوری رپورٹس کے ساتھ پیش ہو کر بحث میں الجھے رہے۔ اس روز آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا، ڈی سی او کیپٹن ریٹائرڈ عثمان اور ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔مورخہ 6 جولائی کو فرانزک ماہرین نے کرائم سین دیکھے بغیر رپورٹ بنانے سے انکار کردیا۔ مورخہ 9 جولائی کو فرانزک حکام اور جے آئی ٹی نے سا نحہ ماڈل ٹاؤن کے بارے میں شہادتیں ضائع ہونے کی بناء پر رپورٹ دینے سے معذرت کر لی۔مورخہ 9 جولائی کو جوڈیشل کمیشن نے وزیراعلی متعلقہ حکام اور پولیس افسروں کی ٹیلیفونک گفتگو کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ علاوہ ازیں کمیشن نے آئی ایس آئی اور آئی بی کے ڈائریکٹرز سے بھی رپورٹ، ریکارڈ اور ٹیکنیکل معاونت مانگ لی۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے جوڈیشل ٹریبونل کے دائرہ کار پہ اعتراض کر دیا۔مورخہ 13 جولائی کو مشترکہ تفتیشی ٹیم نے تحقیقات کے دوران چار ایس پیز اور 20 اہلکاروں کو سانح? ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔ مورخہ 15 جولائی کو مشترکہ تفتیشی ٹیم نے وزیراعلی شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ سمیت 18 شخصیات کے ٹیلیفون ریکارڈ یک رکنی ٹریبونل جسٹس علی باقر نجفی کو جمع کروا دیا۔ مورخہ 16 جولائی کو سانحہ کے ایک ماہ بعد جاری ہونے والی فرانزک رپورٹ میں نہ صرف منہاج القرآن کے پانچ سٹوڈنٹس پر فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا بلکہ حملہ آور پولیس والوں کی تعداد صرف 15 قرار دی گئی۔ حالانکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی براہ راست نشریات کے دوران ملک بھر کے میڈیا چینلز نے ہزاروں کی تعداد میں پولیس کو نہتے لوگوں پر بربریت کرتے دکھایا تھا۔ 
مورخہ 16 جولائی کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے دعوی کیا کہ انہوں نے نہ صرف فائرنگ کرنے والے عوامی تحریک کے پانچ کارکنوں کا سراغ لگا لیا ہے برآمد ہونے والے اسلحے کی تصدیق بھی کر لی ہے۔ مورخہ 27 جولائی کو شہبازشریف نے اپنے بیان حلفی میں اقرار کیا کہ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں پولیس آپریشن کا فیصلہ کیا گیا، جس سے وہ مکمل طور پر لاعلم رہے۔مورخہ 12 جولائی کو سانح? ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کرنے والے جج جسٹس علی باقر نجفی کو سنگین نتائج کا دھمکی آمیز خط موصول ہوا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لیے بنائیگئے یکطرفہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کو اس سانحہ کا براہ راست ملزم قرار دیا گیا، رپورٹ کا کچھ حصہ دنیا نیوز کے اینکر پرسن کامران شاہد نے اپنے ایک پروگرام میں ذکر بھی کیا۔اب دہشت گردی کی عدالت میں کیس چل رہا ہے۔حکمران طبقے نے جس طرح کا کردار ماڈل ٹاون میں کیا اور جس طرح کا مکروہ رول گلوبٹوں کا سامنے آیا۔ یقینی طور پر اللہ پاک نے اِس حساب کو بے باق کرنا ہے اور سانحہ ماڈل ٹاون کے شہدا کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی۔ مورخ اِس بترین حکومتی دہشت گردی کو کیسے فراموش کر پائے گا۔ اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہے۔ راقم کو اِس بات سے غراض نہیں کہ کسی کے کیا سایسی مقاصد ہیں لیکن جو حشر سانحہ ماڈل ٹاون میں معصوم نہتے لوگوں پر ہوا۔ آسمان والا اِس کا بدلہ ضرور لے گا۔اِس سارئے واقعہ کے حوالے سے حکومت سے کوئی بھی مطالبہ کرنا عبث ہے۔اللہ پا پاکستان اور پاکستان میں رہنے والوں کا حامی و ناصر ہو۔